’’ہوشیار ! آگے اندھا موڑ ہے ‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’ہوشیار ! آگے اندھا موڑ ہے ‘‘

بے حد غمناک مناظر ۔دھماکہ سے جسمانی اعضا نہیں مناظر دیکھتے لوگوں کے دل بھی اُچھل گئے۔ تعداد15 ہے یا 20 ایک جان بھی اُتنی ہی قیمتی ہے جتنی 100جانیں۔ ہر سانحہ اپنے پیچھے روتے ہوئے لواحقین کے علاوہ متعدد سوال چھوڑ جاتا ہے۔ سکیورٹی سقم‘ ناکافی شواہد کٹھن منزل کا طویل سفر طے کرچکے ہیں۔ آخری فیز ہے اور اِس مرحلہ پر بہت زیادہ صبر کی ضرورت ہے۔ پاکستان اکیلا نہیں دنیا کے ترقی یافتہ بلکہ طاقتور ترین ممالک بھی مختلف النوع دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں مگر ہمارا چلن تبدیل نہیں ہورہا ۔ حسبِ معمول ’’میڈیائی تنقید خانز‘‘ لٹھ لیکر حکومت ‘اداروں پر پل پڑے۔ ہمیں بولنے پر اعتراض ہے نہ تنقید پر مگر کچھ حدود‘ کچھ قیود کی پاسداری بے حد ضروری ہے۔ ایسے مواقع پر جبکہ آبادی کا کثیر حصہ غم و اندوہ میں ڈوبا ہو۔ دکھ سے بوجھل لمحات میں میڈیا ماتمی موسیقی‘ جگر کو پھاڑتے درد ناک الفاظ کے استعمال سے اجتناب کیا کرے۔ ترمیمی ڈرگ ایکٹ قانون کا نفاذ درست اقدام ہے، حکومت کو چاہیے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دھرنے‘ ریلیوں کے خلاف سخت ترین قوانین پاس کرکے نافذ کیے جائیں۔ عجب تماشا لگا رکھا ہے، معروضی حقائق کو ملحوظ رکھنے کی بجائے ہر کوئی سڑک کو یرغمال بنا لیتا ہے۔ اختلاف‘ احتجاج جمہوریت کا حسن سہی مکر یہاں تو ’’بند ر کا تماشا‘‘ لگا ہوا ہے۔ احسن ہوگا کہ حکومت ہر شہر میں ایک مخصوص جگہ مختص کر دے‘ خلاف ورزی کرنے والوں کو کڑی سزا ملنی چاہیے ۔ پوری دنیا سنگین بحرانوں کے دوراہے پر کھڑی ہے۔ ہر لحظہ حالات خصوصاً مسلمانوں بالخصوص پاکستان کے لیے دشوار ہو رہے ہیں۔ اِن حالات میں میڈیا ‘ سیاسی جماعتوں کو بے حد احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے، کہیں ذرا سی غلطی بھی بہت بڑے پچھتاوے کا باعث نہ بن جائے اس لئے ’’ہوشیار! آگے اندھا موڑ ہے۔‘‘
’’صدر بمقابلہ عوام‘ عدلیہ اور عالمی دنیا‘‘
35 بڑے امریکی ماہرین نفسیات نے" ٹرمپ" کو پاگل قرار دیدیا ۔ ایک کے بعد دوسرا، تیسرا یو ٹرن، آسٹریلیا سے تلخ کلامی‘ چین کو دھمکیاں‘ فوراً بعد تعلقات بہتر بنانے کی خواہش۔ ’’ایران‘‘ پر پابندیا ں‘ 24 گھنٹے بعد 3ایرانی میزائلوں کے تجربات نے فضا میں اُڑا دیں ۔ کل کا پکا اتحادی چند سو ‘ چند ہزار‘ جی نہیں 18لاکھ برطانوی شہریوں نے دستخط کرکے ممکنہ دورہ کی مخالفت کر دی۔ یہ الگ بات کہ وزیراعظم نے درخواست مستردضرور کر دی مگر ٹرمپ کا استقبال برطانیہ کی کثیر آبادی کا احتجاج کرے گا۔ بیرونی دنیا کے ساتھ کیا لڑیں گے یہاں تو" ایک عدالت" نے بیڑیاں ڈالدیں۔
اسپ تازی دو تگ رود بشتاب
ترجمعہ: تازی گھوڑا تو بس دو دوڑیں ہی تیز دوڑتا ہے
واقعی بقول صدر ٹرمپ امریکی کونسے معصوم ہیں، مگر عدالت کا سوال بڑا معصوم تھا کہ پابندی مسلمانوں پر کیوں ؟ یہ الگ بات چھاپے کے ذریعہ سینکڑوں ’’تارکین وطن‘‘ گرفتار کرلیے گئے۔ نہ عدالت سیاسی ہوئی نہ قانونی نظام شکستہ ہے۔ مبنی بر انصاف فیصلوں سے قانونی نظام ٹوٹتانہیں بلکہ پائیداری حاصل کرتا ہے۔ بے شک نیا حکم نامہ جاری کریں یا پرانے قوانین پر عمل درآمد ممکن بنائیں اتنا ضرور ملحوظ رکھیں جو غیر قانونی ہیں بھلے سے اُن کے ساتھ کوئی بھی سلوک کریں مگر قیام کا مکمل قانونی جواز فراہم کرنے والوں کو ہراساں نہ کریں۔ بقول عدالت "امریکہ مسلمانوں کے لیے کھلا رہے گا" عدالتی فیصلہ کو نام نہاد یا مضحکہ خیز قرار دینے سے بحران مزید بڑھے گا کیونکہ آپ کی پُشت پر ادارے ہیں نہ عوام کی اکثریت‘ غیر امریکی اقوام تو انتخابی نعروں سے برگشتہ ہوچُکی تھیں۔ ہر ریاست میں مقدمات کی بھرمار ہے صرف امیگریشن پالیسی کے خلاف 50 سے زائد مقدمات درج ہوچکے ہیں۔ چند نفوس نہیں لاکھوں سرحدوں کے اندر سرحدوں کے باہر عدالتی فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صرف عام امریکی نہیں‘ شوبز‘ سیاست حتیٰ کہ سرکار سے پیوست اہلکار تک برملا اظہار کناں ہیں کہ امریکہ کو تمام مذاہب اور پس منظر کے لوگوں کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔’’میڈلین ابرائٹ ‘‘نے تو خود کو مسلمان رجسٹرڈ کرانے کا اعلان کیا جبکہ ’’مشی گن‘‘ یونیورسٹی کی ایک مسلم طالبہ کو ڈرایا گیا تو سینکڑوں ’’غیر مسلم طلبائ‘‘ نماز پڑھتے مسلمان طالب علموں کے گرد حصار بنا کر کھڑے ہوگئے۔
’’عالمی یوم حجاب‘‘
امریکی پرچموں کو حجاب صورت سر پر باندھ کر مسلم غیرمسلم خواتین کی بڑی تعداد نے امریکی معاشرے کی کشادہ دلی کا خوبصورت مظاہرہ کیا۔ صرف بیرونی دنیا نہیں آپکی اپنی عوام‘ اپنی عدلیہ آپ کی پالیسیوں کی ناقد ہے۔ نامناسب فیصلوں ‘ناشائستہ بیانات پر معترض احتجاج کناں ہے، خوفزدہ ہے۔ الیکشن کے فوراً بعد لکھا تھا (فیس بُک‘ ٹوئیٹر پر کالمز ملاخطہ کرسکتے ہیں) کہ قیادت کا تاج تبدیل ہو جائے گا۔ اندیشہ‘ تجزیہ نہیں بلکہ مکمل یقین تھا آج جرمن ادارے ’’میونخ سکیورٹی‘‘ کی رپورٹ ہے کہ عالمی منظر نامے سے امریکہ غائب ہو رہا ہے۔ مغربی عہد کے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اگر امریکی ٹھان لیں تو یقینا انہدام‘ زوال کو روکنا ممکن ہے کیونکہ وہ ایک کھلے معاشرے کے باسی ہیں جس نے مختلف النوع ثقافتوں‘ مذاہب کو اپنے اندر سمو رکھا ہے۔ حقیقت ہے کہ ’’صدر ٹرمپ‘‘ جلد ہی حقائق کو مان کر فیصلے سے رجوع کرنے والے معلوم ہوتے ہیں۔ جلد ہی انتخابی فضا کے سحر سے نکلیں گے تو دُور اندیشی‘ معاملہ فہمی کی توقعات رکھ سکتے ہیں کیونکہ اکیلا صدر کچھ نہیں کرسکتا‘ وہ بھی اس وقت جب چاروں طرف سے مخالفانہ آوازیں بلند ہوں۔
آہوئے پالہنگ در گردن
نتواند بخو یشتن رفتن
ترجمہ: گلے میں پَٹا پڑا ہوا ہرن‘ اپنے ارادے سے کہیں نہیں جا سکتا۔