کشمیر کیلئے ’’ایک منٹ‘‘ کیوں؟ 70سالہ خاموشی!!

کالم نگار  |  سید روح الامین
کشمیر کیلئے ’’ایک منٹ‘‘ کیوں؟ 70سالہ خاموشی!!

امسال 5فروری یوم کشمیر پر کشمیریوں کے ساتھ محبت کا یقین دلانے کیلئے دن کے 10بجے ایک منٹ کی خاموشی حکومتی سطح پر اختیار کی گئی۔ حیرت ہے ہماری حکومتیں تو 70سال سے خاموش ہیں اور محض ’’تماشائی‘‘ کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایک منٹ کی خاموشی کی کیا ضرورت تھی؟ یوم پاکستان سے لے کر آج تک ہر سال 5فروری کو سابقہ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں صدر‘ وزیراعظم کی طرف سے ایک ہی فقرہ ’’ہم کشمیریوںکی اخلاقی وسفارتی حمایت جاری رکھیں گے‘‘ جاری ہوتا ہے۔ جتنی چالاکی اور پھرتی سے انڈیا ہمارے حافظ سعید کو پوری دنیا میں بدنام کرنے پر تلا ہوا ہے اس کے مقابلے میں ہم 70سال میں مسئلہ کشمیر کی آواز مردہ عالمی ضمیر کو جگانے کیلئے بلند نہیں کرسکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کشمیر کے بارے ہم خود مردہ ضمیر اپنائے ہوئے ہیں۔ کشمیریوں سے محبت کا یہ عملی ثبوت ہے کہ چند ہفتے قبل بڑے جوش سے ’’بھارتی نشریات‘‘ کو بند کرنے کا ڈراما ہوتا ہے مگر چند روز قبل پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے بھارتی فلمیں پاکستان میں دکھانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ایک طرف مودی پر لعنت بے شمار کی جاتی ہے‘ اسے اسلام وپاکستان دشمن کا خطاب پاکستانی عوام کی طرف سے دیا جاتا ہے دوسری طرف پاکستانی وزیراعظم اسی مودی کو اپنی نواسی کی شادی پر رائے ونڈ مدعو کرتے ہیں اور وہ پاکستان دشمن تین چار گھنٹے ہمارے وزیراعظم کے گھر قیام کرتا ہے اور تحفے تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے۔ بیرونی دوروں پر اکثر میڈیا ہمارے وزیراعظم اور مودی کو علیحدہ ’’کانا پھونسیاں‘‘ کرتے دکھاتا ہے۔ وہ جب چاہتے ہیں ہمارے سرحدوں پر ہمارے شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں‘ شہید کرتے ہیں۔ ہماری طرف سے محض ایک ہی اعلامیہ جاری ہوتا ہے کہ ’’ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘‘ اور بس۔
گزشتہ دنوں چند افراد پر مشتمل ڈیلی گیشن بیرونی دوروں پر بھیجنے کا فیصلہ ہوا تھا تاکہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں۔ کیا کہنے ہماری حکومت کی ڈرامہ بازی کے، آج کل کے دور میں جب میڈیا سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ دنیا کو ابھی تک کشمیر کے ایشو کا علم نہیں‘ اقوام متحدہ نے تو جان بوجھ کر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ کسی ملک میں غیرمسلم مرے تو اقوام متحدہ کے اندر ’’انسانیت‘‘ تڑپ اٹھتی ہے‘ 70سال سے کشمیری مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ معصوم بچوں کو مارا جارہا ہے‘ مسلمان عورتوں کی عصمتوں کو پامال کیاجاتا ہے مگر ہماری پاکستانی حکومتوں کی طرح ’’مردہ ضمیر‘‘ اقوام متحدہ نے بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ کشمیری مسلمانوں کو شہید کرنے پر اقوام متحدہ اپنیبھائی بھارت کو ’’نوبل پرائز‘‘ کیوں نہیں دیتا؟ اقوام متحدہ کو تو بنایا ہی غیر مسلموں کے تحفظ اور مسلمان ممالک کی ’’سرکوبی‘‘ کیلئے گیا تھا۔ موجودہ حکومت کی طرف سے جو ڈیلی گیشن کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے بھیجا گیا‘ ان میں مولوی فضل الرحمن بھی تھے۔ ’’مولوی‘‘ صاحب مسئلہ کشمیر کو کیا خاک اجاگر کریں گے جن کے اپنے والد گرامی نے فرمایا تھا کہ ’’شکر ہے ہم پاکستان بنانے کے جرم میں شریک نہیں ہوئے‘‘ اور پھر انہی کے صاحبزادے مولوی فضل الرحمن سالوں سے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نامزد ہوتے چلے آرہے ہیں۔ اپنی کارکردگی عوام کو بھی دکھا دیں۔ ہماری حکومتوں کی بے حسی اور بے غیرتی کی انتہا یہ ہے کہ ہم اپنی بیٹی عافیہ کو امریکہ سے واپس لانا تو درکنار ہم امریکہ سے بات بھی نہیں کرسکے۔ یہ ہماری خودداری کی علامت ہے‘ جب ریمنڈ ڈیوس لاہور میں قتل کرتا ہے تو بجائے اس بدمعاش کو جیل میں ڈالتے‘ زرداری کی سرپرستی میں انہیں دیت کا راستہ دکھایا گیا چونکہ ہماری حکومتیں بھی امریکہ سے بھیک لیتی ہیں لہٰذا مقتول کے وارثوں کو کروڑوں دے کر ریمنڈ کو بغیر پاسپورٹ روانہ کر دیا گیا۔ اب بھارت کی خواہش پر حافظ سعید صاحب کو نظربند کر دیا گیا ہے۔ بھارتی سرکاری ایجنٹ کلبھوشن اور دیگر کو گرفتار کیا گیا، کیا کارروائی ہوئی؟ غدار وطن الطاف جو آج کل برطانیہ کا شہری ہے کے ’’را‘‘ سے مراسم کے ہزاروں ثبوت ہیں۔ اس کی آواز میں ببانگ دھل پاکستان دشمنی کے اعلانات ہیں‘ ہماری وزارت داخلہ نے کیا کارروائی کی؟ وزارت داخلہ نے حکومت پاکستان کی طرف سے غدار وطن الطاف کے خلاف ایک بھی ایف آئی آر درج کرائی؟ سابق فوجی مشرف کے خلاف غداری کا ڈرامہ رچایا اور پھر اسے فرار کرا دیا کیونکہ سپریم کورٹ کی آڑ لی گئی‘ دوسری طرف اسی سپریم کورٹ کے کہنے پر ایان علی کو کیوں نہیں جانے دیا جارہا؟ کشمیر کے لئے منافقانہ دوغلی حکمت عملی حکومت کو ترک کرنا ہوگی۔ بھارت سے ہر قسم کی تجارت ختم کرنا ہوگی‘ انکی نشریات پر مکمل پابندی لگانا ہوگی۔ محض لفاظی ’’ایک منٹ کی خاموشی‘ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘ ہم کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی حمایت جاری رکھیں گے‘‘ اور بس‘ دوسری طرف حکومتی سطح پر بھارت سے اندر کھاتے دوستیاں ۔۔۔۔۔ ایسے تو کشمیر نہیں ملے گا۔ کچھ عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ کشمیر کے بارے ایک منٹ کی خاموشی کا کیا مطلب؟؟؟ ہم تو 70سال سے ’’خاموش‘‘ ہیں۔