کالی بھیڑیں .... جیل جدہ اور جلاوطنی

کالی بھیڑیں .... جیل جدہ اور جلاوطنی


عام انتخابات کے قریب آتے ہی موسمی پرندے اُڑانیں بھرنے لگے ہیں ،کئی نے نئی منزل کی تلاش میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرلیا، کئی تیل اور تیل کی دھار کے منتظر ہیں۔ان کے فیصلے میں صرف انتخابات کے شیڈول کے اعلان کی دیر ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کے ارکان توڑنے میں سبقت لے جانے کے لئے سرگرداں ہیں۔سالہا سال ایک پارٹی میں گزارنے والے یہ لوگ کیامٹی کے مادھو ہیں یا موم کے پتلے کہ ان کو کوئی بھی اپنی سیاست کی برتری اور دوسری پارٹی کو نیچا دکھانے کے لئے استعمال کرلے؟پارٹی وفاداری بدلنے والوں کے اندر کیا ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں ہے؟کالی بھیڑیں ہر شعبہ زندگی میں ہوتی ہیں۔سیاست میں ذاتی مفاد کے لئے پارٹی بدلنے اور کسی بھی طرح اور کسی بھی طریقے سے کرپشن کرنے والے یا والی کا دوسرا نام، کالی بھیڑ ہی ہوسکتا ہے ۔موجودہ دور یعنی دس بارہ سال میں سب سے زیادہ کالی بھیڑیں ق لیگ نے جنم دیں ، یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور ق لیگ کے بے وجود ہونے تک چلتا رہے گا ۔کب تک ؟اگر کسی مہم جو کو اس کی ضرورت پیش نہ آئی تو زیادہ سے زیادہ اگلے انتخابات تک۔ہماری سیاست میں کالی بھیڑ اور مقدس گائے کا تعین بڑی آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔جس سیاستدان نے ایک ہی پارٹی میں اپنی سیاست کی شام کردی یقینا قابل احترام اور مقدس گائے کے درجے کا مستحق ہے ۔کالی بھیڑ کا پہلے ہی تذکرہ ہو چکا ہے۔اگر کالی بھیڑ اور مقدس گائے کی اسی تعریف پر اکتفا کیا جائے تو ہر تیسرا سیاستدان بلیک شیپ نظر آئے گا۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سیاست کے تالاب کو کس نے کتنا متعفن کیا ہے ۔آپ جس کا نام لیںاس کا بائیوڈیٹا اس کی اصلیت آشکار کردے گا ۔ہم میں سے جو جمہوریت کے صاف وشفاف تالاب کو گدلا کرنے والوں کو ووٹ دیتے ہیں وہ بھی خود کو کالی بھیڑ سمجھیں۔گویا کالی بھیڑیں کالی بھیڑوں ہی کی منتخب کردہ ہیں۔ہماری سیاسی پارٹیاں خود سیاسی وفاداریاں بدلنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں ،محض اپنی اپنی سیاست کو چار چاند لگانے لے لئے۔ق لیگ کیسے بنی، یہ پہلے دن ہی سے کوئی راز نہیں تھا ۔جنرل پرویز مشرف کے کاسہ لیسوں اور حاشیہ برداروں نے ہر پارٹی سے لوگ توڑ کر شاہی غلاموں کی ایک فوج تیار کر کے ملک کی گردن پر سوار کردی ،یہ مزید پانچ سال بھی بدستو ر سوار رہتی ،خدا بخشے محترمہ بے نظیر بھٹوکوانہوں نہ صرف،بھولے بادشاہ میاں محمد نواز کی باتوں میں آکر انتخابات کا بائیکاٹ نہ کیا بلکہ ان کو بھی الیکشن لڑنے پر قائل کیا۔
”پارٹی بدل کلچر“ کے ذمہ دار ہمارے وہی سیاستدان ہیں جن کو کبھی جیل، کبھی جدہ اور کبھی جلاوطنی میں جانا پڑتا ہے۔ آج ہر پارٹی دوسری پارٹی کے لوگوں کو گھیر کر اپنے ساتھ شامل کر رہی ہے۔ ریوڑ اور غول کی صورت میں سیاستدانوں کی آنیاں جانیاں عروج پکڑ رہی ہیں۔ یہی جمہوریت کو لے ڈوبیں گی ۔ آمریت سے سب سے زیادہ تھپیڑے پیپلزپارٹی نے کھائے، مسلم لیگ (ن) نے بھی اچھا خاصا خمیازہ بھگتا۔ آج یہی پاکستان کی دو بڑی پارٹیاں ہیں۔ دونوں اقتدار میں ہیں اور آئندہ الیکشن میں ایک بار پھر جہاں اُن کی حکومت نہیں ہے وہاں بھی حکومت بنانے کے خواب دیکھ اور دعوے کر رہی ہیں۔ دونوں نے ہی ماضی سے کچھ بھی نہیں سیکھا، اگر کچھ سیکھا ہوتا تو آمریت کے ہمیشہ کے لئے دروازے بند کر دیتیں۔ جن سیاستدانوں نے آمریت کو بیساکھیاں فراہم کیں، ان کو راندہ¿ درگاہ بنا دیا جاتا۔ کسی بھی پارٹی میں در آنے کی کوشش کرنے والوں کو دھتکار دیا جاتا۔ ہوا اس کے برعکس، (ن) لیگ اور پی پی نے آمریت کو کندھا دینے والوں کو خوش آمدید کہا۔ ایسے لوگوں کو بھی اپنی گود میں بٹھا لیا جن کے دل جنرل پرویز اشرف کی محبت سے لبریز ہیں۔ وہ موقع ملتے ہی کسی بھی آمریت کو ایک بار پھر خوش آمدید کہنے کو بے تاب نظر آئیں گے۔ قصور کس کا؟ ان کا جو چھانگا مانگا، مری اور سوات سیاست کے بانی ہیں۔ جنہوں نے ”کھوتا تجارت“ کو عروج بخشا اور جمہوریت کا کھوتا کھوہ میں ڈال دیا۔ ماشاءاللہ ! اس میں بھی دونوں پارٹیوں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا نام آتا ہے۔ انیس بیس کے فرق کے ساتھ دونوں کی پانچ سال میں حکومتی کارکردگی مایوس کن رہی۔ مرکز والوں نے تو کچھ زیادہ ہی عوام کُش پالیسیاں بنائیں۔ دونوں کو اپنی کارکردگی کا مکمل ادراک ہے۔ اندر سے دونوں عوام کے پاس جانے سے خائف ہیں۔ اپنی کارکردگی سے عوام کو ساتھ ملانے کے بجائے اپنے اپنے حلقوں سے جیتے ہوئے یا جیتنے کی پوزیشن رکھنے والے نمائندوں کو ساتھ ملانے کی دوڑ جاری ہے۔ عوام کو خدا کا سہارا، ان کو کالی بھیڑوں کا۔ کسی بھی طریقے سے اقتدار پر براجمان رہنے کی خواہش تو خوب ہے لیکن تیاری بالکل نہیں ہے۔
پیپلزپارٹی نے مرکز میں بیٹھ کر ہر ادارے کی چولیں ڈھیلی کر دیں۔ کرپشن کو فروغ دیا، عوام کے ناک میں دم کر دیا۔ عوام شاید ایسی ستم گری کے عادی ہو چکے ہیں۔ پی پی پی پہلے سے بھی بڑے مارجن کے ساتھ جیتنے کی دعویدار ہے۔ کسی کے خواب دیکھنے پر پابندی نہیں۔ (ن) لیگ کو کچھ زیادہ ہی سہانے خواب نظر آ رہے ہیں۔ اپنی کارکردگی نہیں بلکہ حریفوں کی بدبختی کو شریفوں نے اپنی خوش بختی سمجھ رکھا ہے۔امید لگائے بیٹھے ہیں کہ گھر سے نہ بھی نکلیں تو بھی لوگ 97ءکی طرح دھڑا دھڑ بیلٹ بکس بھر دیں گے۔ چھلانگیں مارتے اسلام آباد کے تخت پر براجمان ہوں گے ،جس طرح پیپلزپارٹی نے پانچ سال گزار دیئے یہ بھی اُسی طرح گزارنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ عوام جہاں تھے وہیں رہیں گے۔ عوام کے سامنے اب بھی کوئی بڑا آپشن اور متبادل نہیں ہے۔ عمران خان کی مروجہ سیاست میں اصولی باتیں ، تھانہ کچہری، سڑک نالی اور نوکریوں کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے والوں کو زیادہ متاثر نہیں کر سکیں گی۔ خود کو پڑھا لکھا سمجھنے والے پھر چھوٹی اور بڑی لڑائی کے چکر میں ہیں۔ یہ ان کی مرضی کہ کس کو چھوٹی برائی سمجھتے ہیں۔ (ن) لیگ کو یا پیپلزپارٹی کو۔ البتہ جانبداری اور غیر جانبداری پیڈ اور اِن پیڈ سرویز میں (ن) لیگ کو فوقیت حاصل ہے لیکن اس نے سرے سے کوئی تیاری ہی نہیں کی۔ میاں نوازشریف محض عمران خان کی مخالفت میں کہہ دیتے ہیں کہ ”90 دنوں میں مسائل کے حل کے دعوے جھوٹے ہیں۔“ مسائل آپ کے سامنے ہیں ان کے ممکنہ حل کے لئے (ن) لیگ نے کیا حکمت عملی اپنائی؟ کوئی بھی نہیں۔ کیا اس نے کسی بھی مسئلہ کے حل کے لئے، کسی پالیسی کی تشکیل کے لئے کوئی تھنک ٹینک (دانشوروں کا جتھہ) بنایا؟ نہیں بنایا! اگر آپ بغیر تیاری کے اقتدار میں آتے ہیں تو مسائل خاک حل ہوں گے۔ وہ تو پانچ سال میں بھی نہیں ہو سکتے۔ (ن) لیگ نے پانچ سال پیپلزپارٹی کے ساتھ پیار کی پینگیںبڑھانے اورپھر اس پر طعن و تشنیع کے تیر برسانے میں گزار دیئے ،شیڈوکیبنٹ بھی نہ بنا سکے۔دونوں پارٹیاں ان تاریخی حقائق سے چشم پوشی نہ کریں کہ مسائل ایک کمٹمنٹ، عزم و ارادے اور بہترین منصوبہ بندی سے حل ہوتے ہیں، کالی بھیڑوں کو گھیرنے سے نہیں۔ یہ کالی بھیڑیں کل آپ کو پھر تین” جیم“ کے ثکر میں ڈال دیں گی، یعنی جیل، جدہ اور جلاوطنی ۔ چنانچہ وفاداریاں خریدنے پر پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں....!