پاکستانی سفارتکاری کا ایک امتحان....

پاکستانی سفارتکاری کا ایک امتحان....


امریکی صدر باراک اوبامہ نے افغانستان سے آئندہ سال یعنی 2014ءمیں جنگ ختم کر دینے کا اعلان کیا ہے
۔ دوسری بار منتخب ہونے کے بعد بارک اوبامہ نے امریکی سٹیٹ آف یونین خطاب میں کہا ہے کہ اس وقت القاعدہ کی حیثیت پہلے جیسی نہیں رہی اور نہ ہی یہ امریکہ کےلئے پہلے جیسی خطرناک تنظیم رہی ہے بہرحال امریکہ کے ساتھ دشمنی لینے والوں کو ہم براہ راست نشانہ بناتے رہیں گے۔ بارک اوبامہ نے گرچہ 2014 میں افغانستان سے اپنی 34ہزار فوجیں واپس بلا کر افغان جنگ کے اختتام کا اعلان کیا تاہم یہاں یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ امریکی صدر ایک طرف جنگ کے اختتام کا اعلان کر رہے ہیں تو دوسری طرف وہ دشمنوں کو نشانہ پہ رکھنے کی دھمکی دے رہے ہیں گویا کہ ہمیں صدر اوبامہ کے الفاظ و جملوں کی لوچ کو سمجھنے کی ضرورت رہے گی.... ستمبر2001ءسے اب تک بش ڈاکٹرائن نے افغانستان میں جو امن بلڈوز کیا اس کے نہ صرف افغانستان کے ہمسایہ ممالک بلکہ پوری دنیا کے امن کو نقصان پہنچا۔ بادی النظر میں امریکہ دنیا کے بیشتر ممالک کے اتحاد و تعاون سے افغان جنگ میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لئے برسرپیکار ہے اور اپنے اتحادیوں میں اس نے پاکستان کو فرنٹ لائن پر رکھا ہے لیکن امریکہ پاکستان کی سا لمیت و بقا کے تقاضوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے ہمیشہ براہ راست اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنانے میں ریاستی حق خود مختاری کی پروا نہیں کرتا جس کی ایک اہم مثال سلالہ چیک پوسٹ یہ امریکی فوجی اپریشن ہے۔ سلالہ چیک پوسٹ پہ امریکی کارروائی کے حوالے سے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر نے اسے امریکی نا مناسب رویہ قرار دیا ہے۔ امریکی کی اس نامناسب کارروائی سے پاکستان کی ریاستی خود مختاری کے حق کو تو جو گزند آئی خود امریکہ کو بھی اپنی اس نامناسب کارروائی کی معافی لیتے ہوئے8 ماہ لگے جس دوران امریکہ کو اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا بلکہ یہی وہ وقت تھا جب امریکہ نے یورپ سمیت پوری دنیا میں اپنی سیاسی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ فرانس، اٹلی اور جرمن نے نیٹو سے اپنی فوجی نفری واپس بلا لی بلکہ فرانس و جرمن مختلف موقعوں پہ اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکہ طاقت کے زور پہ دہشت گردی کے خاتمے کا حل جنگ کی صورت میں افغانستان پہ مسلط نہیں کر سکتا۔ اسے کسی وقت مذاکرات کی میز پہ آنا پڑے گا۔ پورپ کے ان ممالک نے بھی کرزئی حکومت و حزب اسلامی و افغان طالبان سے مذاکرات و سفارتی رابطوں کی راہ اختیار کی۔ فرانس اور جرمنی نے افغان طالبان کو ایک میز پہ جمع کیا اور پیرس میں افغان طالبان کے موقف کو سنا گیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ یورپ کے وہ ممالک جو کہ امریکہ کے جنگی اتحادی تھے انہیں امریکہ کے علاوہ امریکی مدمقابل کے بھی موقف سے آگہی ہوئی۔ بعد ازاں حیرت انگیز طور پہ یورپی ممالک نے امریکہ پہ زور دیا کہ وہ جارحیت و بربریت کا راستہ ترک کر کے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔افغانستان میں پائیدار امن کی خاطر یورپی ممالک نے امریکہ کی جارحانہ افغان پالیسی سے اتفاق نہیں کیا.... اس وقت افغانستان کی سرزمین پہ امریکہ کے گولہ و بارود کے کھیل کو ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے۔ جو بات امریکہ کے اپنے یورپی اتحادیوں نے بہت عرصہ قبل امریکہ کو سمجھانے کی کوشش کی تھی وہ بات اب آکر امریکہ کی سمجھ میں بالآخر کچھ نہ کچھ آ گئی ہے کہ ”جنگ مسائل کا حل نہیں“۔ اس وقت افغان طالبان کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کی میز پر آنے سے پہلے ان کے گرفتار ساتھیوں کو رہا کیا جائے بلکہ افغانستان میں امریکی جنگ کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کا مطالبہ رہا ہے کہ مذاکرات سے قبل افغانستان سے غیر ملکی قابض فوجوں کا انخلاءکیا جائے ۔ افغان طالبان کا خیال رہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے یہی کافی ہے کہ یہاں امریکی فوجیں موجود ہوں.... اس وقت تو نظر یہ آ رہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاءکا صدر اوبامہ کا حالیہ اعلان صرف افغانستان میں قیام امن کیلئے نہیں بلکہ خود امریکی معاشی انحطاط کے مسئلے کے حل کیلئے بہت اہم ہے۔ پاکستان نے امریکہ کے شانہ بشانہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہو کر ہر سیاسی و معاشی سطح پہ بے حد نقصان اٹھائے ہیں ان میں پاک افغان تعلقات پہ سیاسی و سفارتی ضربیں بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان و خیبر پی کے کے علاقوں میں جس طرح دہشت گردی کا راج قائم رہا ہے اس کے پیش نظر افواج پاکستان اور طالبان کے مابین ماضی میں معاہدے و مذاکرے چلتے رہے ہیں لیکن امریکی وار سٹریٹجی کے باعث یہ مذاکرات و معاہدے نتیجہ خیز نہ ہو سکے۔ دونوں فریقین کے مابین باضابطہ و متوازی مراسم و روابط کے حوالے سے اس وقت جن مذاکرات کو شیڈول کیا جا رہا ہے اس پہ فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ وطن عزیز نے امریکی دہشت گردی کی جنگ میں 80 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھایا ہے.... اپنے چالیس ہزار فوجیوں و سول افراد و عام شہریوں کی جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور کتنا اور کب تک ہم ان بیش قیمت نقصانات کا بوجھ اٹھاتے چلے جائیں گے۔ طالبان نے میاں نواز شریف، جماعت اسلامی کے منور حسن اور مولانافضل الرحمن پہ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے ڈاکٹر قدیر خاں اور عمران خان کی ثالثی حیثیت کو بھی ویلکم کہاہے۔ ہمیں اپنی پلاننگ کے بعد فوری طور پر طالبان سے مذاکرات کا شیڈول و ایجنڈا جاری کر دینا چاہئے اگر آئندہ چھ ماہ میں افغانستان میں امن پروسیس کو مضبوط کر لیا جاتا ہے اور 2014 ءکو امریکہ اپنی فوجیں افغانستان سے واپس بلا لیتا ہے تو امید ہے کہ ہم افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں میں کامیاب ہو جائیں گے جس کا نتیجہ عالمی امن کی صورت میں سامنے آئے گا۔ پاکستان افغانستان کے قیام امن سے پرامن ہو گا تاہم پاکستان کے ساتھ امریکی دیگر مفادات کو بھی بعد ازاں نبٹنے کا سوچا جا سکتا ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت و قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ جدید حالات میں ہمیں بصارت و بصیرت کے ساتھ چلنا ہو گا.... بیرونی ٹریپ پالیسیوں سے ہوشیار رہنا ہو گا۔