ملک مےں علاج معالجے کی سہولےات ۔ اےک جائزہ

ملک مےں علاج معالجے کی سہولےات ۔ اےک جائزہ


کسی بھی ملک مےں علاج معالجے کی مناسب سہولےات کی فراہمی ہر حکومت کے فرائض مےں شامل اور ےہ عوام کا بنےادی حق بھی ہے۔ پاکستان کے آئےن کے مطابق ملک کا ہر شہری بلاتفرےق رنگ اور نسل کسی بھی حکومتی طبی ادارے سے علاج کی سہولت حاصل کرنے کا حقدار ہے۔ اس وقت پورے ملک مےں علاج معالجے کی فراہمی کا اےک وسےع نظام رائج ہے اس مےں تقرےباً 918 ہسپتال 5334 بنےادی طبی مراکز،500 دےہی طبعی مراکز، 4700 ڈسپنسرےاں،900 زچہ و بچہ سےنٹر اور ٹی بی کے علاج کے288 مراکز شامل ہےں اور ےہ نظام 190ملےن لوگوں کو طبی سہولےات مہےا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ سرکاری ہسپتالوں مےں اےک ڈاکٹر 1725 لوگوں کے علاج کا ذمہ دار ہے ۔اےک تحقےق کے مطابق ہر اےک ہزار لوگوں کے علاج کیلئے اےک ڈاکٹر کی شرح کے حوالے سے پاکستان دنےا مےں 200 ممالک مےں سے 120وےں نمبر پر ہے۔ اس ضمن مےں مصر، اےران اور بھارت پاکستان سے نچلی سطح پر آتے ہےں۔ مزےد براں پاکستان ان تین ممالک مےں سے ہے جس مےں پولےو کا مرض ابھی تک جاری ہے دوسرے ممالک مےں افغانستان اور نائجےرےا ہےں۔ تازہ ترےن اطلاعات کے مطابق حےدرآباد، کراچی ، پشاور، لاہور اور راولپنڈی مےں پولےو کے کےسز لگاتار سامنے آ رہے ہےں نےز ملک مےں تقرےباً دس لاکھ سے قرےب جگر کے عارضے مےں مبتلا ہےں اور پوری آبادی کا تقرےباً 10 فےصد ےرقان ےعنی B ےا C مےں مبتلا ہےں۔ علاوہ ازےں آلودہ پانی پےنے سے 12 لاکھ افراد جن مےں بچے شامل ہےں موت کا شکار ہو جاتے ہےں۔ اےک تحقےق کے مطابق پچھلے تےن سال مےں صحت سے متعلق مختلف حادثات پےش آئے۔ جن مےں ڈےنگی بخار، پی آئی سی مےں ادوےات سے لوگوں کی ہلاکت اور کراچی مےں نائجےرےا اےفےکشن شامل ہےں۔ پاکستان انسٹی ٹےوٹ آف ڈوےلپمنٹ اکنامکس کی اےک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا صحت کا نظام ملکی ضرورےات کے حوالے سے کم ہے اور ےہ بہت مہنگا بھی ہے۔ نےز حکومت کی طرف سے مہےا کردہ طبی سہولےات مےں پےسے کی کمی کی وجہ سے عام آدمی کو علاج معالجے کے سلسلے مےں شدےد مشکلات درپےش ہےں اور نجی شعبے مےں ملنے والی سہولےات بے حد مہنگی ہےں اور دےہی علاقوں کے لوگوں کی ان تک رسائی ممکن نہےں۔ مجموعی طورپر طبی شعبے مےں درپےش مسائل کی وجہ آبادی مےں بے تحاشہ اضافہ، نامناسب خوراک کی شدےد کمی، پےسے کی قلت ہے دوسرے حکومت کی اس شعبے مےں عدم دلچسپی بھی قابل ذکر ہے۔ مثال کے طور پر پچھلے 5 سال سے پنجاب مےں وزےر صحت موجود نہےں جس کی وجہ سے ےہ شعبہ مکمل عدم توجےہی کا شکار ہے۔ پنجاب حکومت نے پورے صوبے کے بڑے شہروں مےں مےڈےکل کالج کھولے ہیں مگر ان کے ساتھ Teaching Hospital قائم نہےں کیے گئے جس کی وجہ سے طب کی تعلےم حاصل کرنے والے کو پڑھائی کے اختتام پر دوسرے صوبوں مےں جا کر ٹرےننگ حاصل کرنا پڑے گی جس سے ان کی مشکلات مےں بے حد اضافہ ہو گا۔ اس سلسلے مےں گجرات مےں بننے والا دل کے امراض کا ہسپتال ابھی تک مکمل نہےں ہوا اور ےہ حکومتی عدم توجےہی اور سےاسی رقابتو ں کا شکار ہو گےا اور اس طرح گوجرانوالہ سے لے کر جہلم تک کے لوگ اس اہم طبی سہولت سے محروم ہو گئے۔ اس طرح لاہور مےں17 مےڈےکل کالجز قائم ہےں جبکہ باقی ماندہ صوبے پنجاب مےں صرف 17 کالجز ہےں۔ اس طرح 5 لاکھوں لوگوں کیلئے پورے پنجاب مےں صرف ventilators ےعنی سانس دلانے کی مشےنےں ہےں۔ اس وقت پاکستانی عوام کو ہےضہ، ےرقان ٹی بی پولےو اور خسرہ جےسی بےمارےوں کا سامنا ہے۔ مےڈےا کی طرف سے طبی شعبے مےں پائے جانے والے مسائل کی لگاتار نشاندہی کے باوجود محکمہ صحت کے کان پر جوں نہےں رےنگتی اور حالات بدستور تنزلی کا شکا رہےں۔ اس سلسلے مےں پی آئی مےں دوائےوں سے ہلاکت، کھانسی کی دوا سے اموات اور ڈےنگی بخار سے بے گناہ لوگوں کی ہلاکت سرفہرست ہےں نےز ہمارے ہاں حادثات کی صورت مےں اےمبولےنس کی سہولےات حکومتی سطح پر تقرےباً ناےاب ہےں اور اس کیلئے نجی شعبے مےں قائم خےراتی ادارے اس کمی کو کسی حد تک پورا کرتے ہےں۔ حقےقت ےہ ہے کہ اس وقت ملک مےں طب کی سہولےات کی فراہمی کا 80 فےصد نجی شعبے کے ذمہ ہے۔ اےک سفےد پوش درمےانی درجے کے شہری کیلئے ان مہنگی طبی سہولےات کو حاصل کرنا ناممکن ہے اور حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے ہسپتالوں مےں علاج معالجے کی سہولےات نہ ہونے کے برابر ہےں۔ سرکاری ہسپتالوں کے ایمرجنسی کے شعبے مےں اےک دن سےنکڑوں لوگوں کی آمد سے مرےضوں کو طبی امداد کی فراہمی بری طرح متاثر ہوتی ہے نےز حکومت کے زےر انتظام چلنے ہسپتالوں مےں جگہ کے فقدان کی وجہ سے اےک بستر پر دو سے تےن مرےض داخل کرنے پڑتے ہےں خاص طورپر تدرےسی ہسپتالوں (Teaching Hospital) مےں مرےضوں کیلئے رہائش کی سہولےات بے حد تک محدود ہےں اور حکومتی سطح پر اس بارے مےں کوئی پےشرفت نظر نہےں آتی صوبائی حکومت کی علاج معالجے کی سہولےات کی فراہمی مےں عدم دلچسپی کا اندازہ اس امر سے کےا جا سکتا ہے کہ صوبائی بجٹ مےں فی کس 120 روپے رکھے گئے ہےں جہاں تک سرکاری ہسپتالوں مےں کام کروانے والے ڈاکٹروں کا تعلق ہے ان کو بڑی تعداد اپنے نجی کلےنک چلاتے ہےں اور ان کی ترجیحات بھی اپنے کاروبار کے فروغ کے تابع ہوتی ہےں۔ جہاں تک سرکاری ہسپتالوں مےں علاج معالجے کے سازو سامان کا تعلق ہے وہ بھی نہاےت غےر تسلی بخش ہے۔ کئی کئی ہفتے اےکسرے اور الٹرا ساﺅنڈ کی مشےنےں خراب رہتی ہےں۔ خےبر پی کے اور بلوچستان مےن ےہ خصوصی سہولےات تقرےباً نہ ہونے کے برابر ہےں۔ اس وقت صورتحال ےہ ہے کہ صحت کے شعبے کیلئے حکومت نے بجٹ مےں صرف 2 فےصد کی قلےل رقم مختص کی ہے۔کسی بھی قوم کی ترقی دوسرے عوامل کے علاوہ اسکے باشندوں کی صحت سے منسلک ہے کےونکہ صحت مند لوگ ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کو ےقےنی بنا سکتے ہےں اس سلسلے مےں جو اقدمات ناگزےر ہےں وہ درج ذےل ہےں : اول صحت کے شعبے کیلئے وفاقی سطح پر مناسب رقم مختص کی جائے جو کہ اس وقت نہاےت کم ہے۔ دوم: ملک مےں آبادی کے سےلاب کو روکنا انتہائی ضروری ہے اس کیلئے حکومت کو اےک جامع پروگرام تشکےل دے کہ اس پر سختی سے عملدرآمد کروانا ہو گا۔ سوم: حکومت کے زےر انتظام چلنے والے ہسپتالوں مےں موجود خامےوں کو اےک طوےل مدتی حکمت عملی کے تحت دور کےا جائے۔ چہارم: نجی شعبے مےں موجود ہسپتالوں اور کلےنکس کیلئے اےسے قوانےن تشکےل دیئے جائےں جس سے کہ ان مےں موجود علاج معالجے کی سہولےات اےک عام آدمی کی پہنچ تک ممکن ہوں۔ پنجم: مزےد teaching Hospital اور مےڈےکل کالجز خےبر پی کے، فاٹا اور جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں قائم کئے جائےں جہاں انکی اشد ضرورت ہے۔