بھارت سمیت غیروں کی جیلوں سے پاکستانیوں کو آزاد کروایا جائے

بھارت سمیت غیروں کی جیلوں سے پاکستانیوں کو آزاد کروایا جائے


 آج تک جتنے بھی پاکستانی بھارتی جیلوں سے کسی نہ کسی طرح آزاد ہوکر وطن واپس لوٹے ہیں وہ تمام کے تمام بے پناہ جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہی ہوتے ہیں انہیں یہ خبرنہیں ہوتی کہ پاکستان میں ان کا گھر کہاں ہے اور گھر میں کون کون ان کا انتظار کرتا ہوا قبروں میں اتر چکا ہے ۔ابھی چند دن پہلے تین پاکستانیوں کو واہگہ سرحد پر رینجر ز کے سپرد کیا گیا ان تینوں پاکستانیوں پر بھارت کی جیلوں میںاس قدر مظالم توڑے گئے کہ وہ اپنا ذہنی توازن ہی کھو بیٹھے ہیں ۔اس سے پہلے بزرگ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر خلیل چشتی ایک ناکردہ جرم کے الزام میں 20 سال بھارت میں قید رہے اور 19 سال مقدمہ چلانے کے بعد ان کو عمر قید سنادی گئی ۔ شومئی قسمت کہ صدر پاکستان نے پہلی مرتبہ بھارتی وزیر اعظم کو ذاتی طور پر ڈاکٹر خلیل چشتی کو رہا کرنے کی درخواست کی تب ان کی جان چھوٹی ۔کشمیر ی رہنما افضل گورو کو جس طرح بھارتی ایجنسیوں نے اپنے دام میں پھنسایا اور پھر انصاف کے تمام تر تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 9 فروری 2013ءکو پھانسی دے کر جیل میں ہی دفن کرکے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی گئی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ بھارت میںکشمیریوں اور پاکستانیوں کی جان و مال کس حد تک خطرے میں ہے ۔یہ تو چند پاکستانیوں کی داستان ہے جو صرف بھارت میں ناجائز طور پر قید تھے اور ان کے ساتھ بھارت نے کیا کچھ نہیں کیا لیکن اس کے برعکس پاکستانی جیلوں میں قید سربجیت سنگھ جیسے دہشت گردوں ( جوخود جاسوس ہونے اور بم دھماکوں کرنے کا خود اعتراف بھی کر چکے ہیں ) کو نہ صرف وی آئی پی قیدی کی حیثیت حاصل ہے بلکہ اس کی رہائی کے لیے پاکستانی حکومت حد سے زیادہ خیر سگالی کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ پاکستانی حکمران اور پاکستانی سفارت خانہ بھی بھارت کی ناراضگی کے ڈر سے نہ تو بھارت میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے قانونی جنگ لڑتا ہے اور نہ ہی بھارتی حکمرانوں پر کسی قسم کا دباﺅ ڈال کر اپنے ہم وطنوں کو رہا کرانے کی جستجو کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1965 اور 1971 کے پاک بھارت جنگوں کے سینکڑوں سویلین اور فوجی ( سپاہی مقبول حسین کی طرح ) بھارتی جیلوں میں نہ جانے کب سے قید ہیں اور وہ کس حالت میں ہیں حکومت پاکستان کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے ۔چند دن پہلے پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ اس وقت بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں 8 ہزار 715 پاکستانی قید ہیں ۔ ان ممالک میں سعودی عرب ، برطانیہ ، عرب امارات ، چین ، یونان ، ہانگ کانگ ، جرمنی ، ہنگری ، فرانس ، اٹلی ، ایران ، ملائیشیا ، اومان ، قطر ، سری لنکا ، تھائی لینڈ، افغانستان اور امریکہ شامل ہیں ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان تمام ممالک میں پاکستانی سفارت خانے موجود ہیں اور ان کے سالانہ بجٹ کا تخمینہ بھی یقینا اربوں میں ہوگا ۔ یہ سفارت خانے پاکستانی حکمرانوں کی عیاشیوں اور اللوں تللوں پر تو سرکاری خزانے سے بے دریغ خرچ کرتے ہیں لیکن کسی مصیبت زدہ پاکستانی کو جیل سے رہائی دلانے کے لیے نہ تو ان کے پاس پیسے ہیں اور نہ ہی وقت ۔جن خاندانوں اور گھرانواں کے افراد دوسرے ملکو ں کی جیلوں میں قید ہیں ان پر حقیقت میں کیا گزرتی ہوگی اور وہ کس طرح زندہ ہیں یہ تو وہی جانتے ہیں دنیا کا کوئی پیمانہ ایسا نہیں جو ان کے درد کی پیمائش کرسکے ۔بھارت کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میںپاکستانیوں کی اکثریت غیر قانونی امیگریشن کی وجہ سے قید ہے اور غیر قانونی امیگریشن کے ذمہ دار پاکستان بھر میں پھیلی ہوئی غیر قانونی اور جعل سازی میں مصروف ٹریول ایجنسیاں اور ادارے ہیں۔
پاکستانی حکمران اپنی شاہ خرچیوں سے بچا کر کچھ رقم پاکستانی سفارت خانوں کو فراہم کریں تاکہ پاکستانیوں کو باعزت طور پر واپس لا یاجاسکے ۔ وہاں ایسی ٹریولنگ ایجنسیوں اور بیرون ملک تعلیم دلانے کا جھانسہ دے کر دوسرے ملکوں میں بھیجنے والے اداروں کی جانچ پڑتال کی جائے جو روزگار کی تلاش اور بہتر مستقبل کی خاطر پاکستان سے باہر جانے والوں کو نہ صرف مالی طور پر شدید ترین نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ جان و مال کے ساتھ ساتھ دوسرے ملکوں میں ان کے بھیجے ہوئے افراد پاکستان کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں ۔ایسے تمام ایجنسیوں اور اداروں کے خلاف کسی امتیاز کے بغیر سخت ترین اقدامات کیے جائیں اور عدالتوں کے ذریعے ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دلوانا اشد ضروری ہے۔سعودی عرب ، چین ، سری لنکا ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور ایران سے تو پاکستان کے گہرے دوستانہ تعلقات ہیں صدر یا وزیر اعظم ذاتی طور پر ان ممالک کے ہم منصبوں سے بات کرکے پاکستانیوں کو جیلوں سے رہائی دلوا سکتے ہیں اگر وہ چاہیں تو ۔ کاش پاکستانی حکمرانوں کے دلوں میں اپنے ہم وطنوں کے بارے میں تھوڑی سی محبت پیدا ہو جائے اور لاوارث پاکستانیوں کو بھی غیروں کی جیلوں سے رہائی میسر آجائے ۔