افضل گورو کی شہادت ۔اور ۔امن کی آشائ

افضل گورو کی شہادت ۔اور ۔امن کی آشائ


29برس بعد فروری کے مہینے میں مقبول بٹ شہید کی برسی سے دو دن پہلے 9فروری کو ایک حریت پسند رہنما افضل گورو کو بھارتی پارلیمنٹ حملہ کرنے کے الزام میں تہاڑ جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور شدید رد عمل سے بچنے کیلئے جیل میں دفن کر دیا گیا ۔ نہ ہی اُن کے ورثاءسے آخری ملاقات کرائی گئی اور نہ ہی مرحوم کی نعش دفنانے کیلئے اُن کے حوالے کی گئی۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے اس عدالتی قتل کی شدید مذمت کی ۔ اس کو کشمیریوں کے ضمیر اور جسم پر حملہ قرار دیا گیا ۔ افضل گرو کی شہادت پوری دنیا کے امن پسند ۔ آزادی پسند اور مہذب قوموں کیلئے پیغام ہے۔ خود بھارت کے اندر سے بھی اس سفاکانہ فیصلے کے کلاف بھرپور احتجاج جاری ہے۔ بھارت نے اپنے ملک میں کشمیریوں ، سکھوں اور دیگر اقلیتوں اور ہمسایوں کے خلاف جو رویہ اختیار کر رکھا ہے وہ بھارت کی بڑی جمہوریت کے ماتھے پر بد نما داغ ہے۔ بھارت نے29برس بعد وہی کہانی دوبارہ دہرائی ہے جس سے کشمیری نوجوانوں کو بندوق اُٹھانے پر مجبور کر دیا گیا تھا ۔ افضل گرو کی زندگی علم ، فن اور مزاحمت کا ایک دلچسپ امتزاج تھا ۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھا ۔ حالات اُس کو اس طر ف لے آئے وہ اپنے وطن میں بھارتی مسلح افواج کے مظالم برداشت نہ کر سکا ۔ خواتین کے عصمت دری ۔ معصوم بچوں کا قتل عام ۔ ماورائے عدالت قتل اسی طرح سینکڑوں ظلم ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں کے سامنے نہ دیکھ سکا اور صدائے احتجاج بلند کیا اور 13دسمبر2001ءکو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کا واقع پیش آیا۔ اس حملہ کا الزام پاکستان پر لگایا گیا اور جیش محمد کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اس الزام میں افضل گورو کو گرفتار کیا گیا اور جیش محمد کا کارکن ہونے اور پارلیمنٹ پر حملے کا الزام لگایا گیا ۔ افضل گورو کو 2002ءمیں موت کی سزا سنائی گئی ۔ ہائیکورٹ نے 2007ءکو اس سزا کو برقرار رکھا اور بعد میں سپریم کورٹ نے بھی توثیق کی۔ رحم کی اپیل پر بھی رحم نہ کیا گیا اور ایسے کیس میں جس میں بے شمار شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں یکطرفہ کاروائی کرتے ہوئے وارثین سے ملاقات کرائے بغیر رات کے اندھیرے میں قواعد و ضوابط سے ہٹ کر خاموشی سے پھانسی دینے اور دفنانے کے بعد اعلان کیا گیا ۔ یہ ہے بڑی جمہوریت کی دعویدار بھارت کا مکرو ہ چہرہ جو ہر پر امن کشمیری مسلمان سے کانپ رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور پہرے کے باوجود افضل گورو کی پھانسی کی خبر اہل کشمیر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ انتہا پسند ہندو اور بجرنگ دل خوشی منا رہے ہیں ۔ دوسری طرف کشمیری احتجاج کر رہے ہیں ۔ دونوں گروپوں میں ہاتھا پائی کے مناظر پوری دنیا میںدیکھے جا رہے ہیں اور اس بات کی علامت ہے کہ کشمیر ی بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے اور نہ ہی زبردستی اُن کو مٹایا جا سکتا ہے۔ بھارتی حکمران جس قدر جلد اس حقیقت کا اعتراف کر لیں کہ کشمیر کو بھارت کا حصہ نہیں رکھا جا سکتا ۔ شہادتیں کسی قوم کی اجتماعی شعور اور خوداری کی عکاسی کرتی ہے۔ شہید شہادت کے بعد ایک سوچ بن کر قوم کے اجتماعی شعور کی آبیاری کرتا ہے ۔
 مقبول بٹ شہید اور افضل گورو شہید اسی طرح کشمیر اور آزادی کے سب شہید جنہوں نے اپنی زندگی وطن اور قوم پر نچھاور کر دی ہے اُن کے پیغام حریت پسندوں کے لیے درس آزادی بن گیا ہے۔ بہترین موت وہی ہے جو اسلام وطن اور ملک و قوم اور انسانیت اور انسانوں کو ظلم و جہالت سے انصاف دلانے کیلئے ہو اس مقبول بٹ اور افضل گورو نے بہترین موت کا انتخاب کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہادتوں سے دورس نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔ کشمیریوں کو یقین ہے اور بھارت بھی یقین کرے کہ ابھی جنگ جاری ہے ۔ افضل گوروکا کشمیر کا اہم کردار بن کر ابھرنا کوئی معمولی واقع نہیں ہے۔ افضل گوروپھانسی اور بھگت سنگھ کی پھانسی سے مختلف نہیں ہے جس کو بھارت ہیرو مانتا ہے ۔ وہ جدو جہد آزادی میں حریت اور شجاعت کی اہم شخصیت بن کر ابھرے ہیں جو کہ کشمیری نوجوانوں کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن کرتی رہے گی۔ جتنی قربانیاں کشمیریوں نے آزادی کیلئے دی ہیں اس کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے بھارت کو یاد رکھنا ہو گا کہ تنازعہ کشمیر دو فریقوں کے درمیان کسی قطعہ زمین کی ملکیت کا نہیں ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے ۔ بھارت خود اقوامتحدہ میں اور کشمیریوں کے سامنے اور پوری دنیا کے سامنے حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کر چکا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے پابند ہیں اور جنوبی ایشیاءکی سلامتی کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے ۔ افضل گورو کی پھانسی پاکستان میں بھارت کے بہی خواہوں کیلئے بھی پیغام ہے جو امن کی آشاءکے دیپ جلا کر بھارت کی دوستی اور کاروبار کیلئے مرے جا رہے ہیں ۔ کشمیر کی تحریک کو بھارت کے بعد سب سے زیادہ نقصان انہی لوگوں نے پہنچایا ہے ۔ ہماری امن کی آشاءکی امید اور ہمارے میڈیا ، این جی او اور کاروبار کرنے کی خواہش نے کشمیری ماں ، بہن اور بیٹیوں پر ہونے والے مظالم کو کیوں بھولا دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری حکومت اور ادارے بھارت سے ناکام مذکرات میں بھارت کو واضح کرے اور قائد اعظم کے افکار شہ رگ کی روشنی میں کھل کر بھارت سے بات کریں ۔ یہی ہماری اصولی کشمیر پالیسی ہونی چاہیے۔ مقبول بٹ اور افضل گورو شہید نے اپنے جانوں کے نظرانے دیکر ہمارے لیے آزادی کی راہ متعین کی ہے ان کو جتنا خراج عقیدت پیش کیا جائے کم ہے ۔ امن کی آشاءکی خواہش رکھنے والوں جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔