آئی ایم ایف۔۔۔ نئی شرائط نیا طمانچہ

آئی ایم ایف۔۔۔ نئی شرائط نیا طمانچہ


لیجئے آئی ایم ایف نے پاکستان کو نیا قرضہ دینے کے لئے نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو آخر آئی ایم ایف، ورلڈبینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں و ترقی یافتہ ممالک سے قرضے اور فنڈز، ایڈ حاصل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر قدرتی موسم اور ہر طرح کے ذخائر سے مالامال کر رکھا ہے اگر ہمارے حکمران نیک نیت ہو جائیں اور خودانحصاری پر مبنی پالیسیوں کو تشکیل دے کر عمل پیرا ہو جائیں تو کوئی شک نہیں ان عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک جن میں امریکہ سرفہرست ہے ان سے جان چھڑوائی جا سکتی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈبینک ایک ایسا شکنجہ ہے جو جس ملک میں اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دیں پھر اس ملک کی معیشت مزید ترقی پذیر کی بجائے زوال پذیر ہونے لگتی ہے جبکہ اگر کسی اسلامی ترقی پذیر ملک کی طرف سے آئی ایم ایف، ورلڈبینک یا ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے دروازے پر دستک دی جائے تو پھر اس کو ابتدائی طور پر خوش آمدید کہنے کے بعد اس کا جو حشر نشر کیا جاتا ہے وہ اب جدید دور میں کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔ اگر کسی سے پوشیدہ ہے اور کوئی اس کے مفہوم و معنی حقیقتاً سمجھنے سے قاصر ہے تو اس کی بنیادی وجہ وطن عزیز سمیت دنیا بھر پر چھائے ہوئے یہودی میڈیا اور یہودی میڈیا کی ایک بہت بڑی ذیلی شاخ یعنی یہودی میڈیا خبررساں ایجنسیوں کی سازش کی مرہون منت ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ جب جب پاکستان نے نئے قرضے حاصل کرنے کے لئے بات چیت کی اور پھر قرضہ حاصل کیا اسی طرح جب جب ورلڈبینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے قرضے حاصل کر کے قوم کو ملک کی حالت زار بہتر بنانے کی نوید سنائی گئی تب تب وطن عزیز کی معیشت زوال پذیر ہوتی چلی گئی۔ معیشت اس انداز میں ٹوٹ پھوٹ اور بدحالی کا شکار ہوئی کہ عوام دو وقت کی روٹی کو بھی ترسنے لگے۔ مہنگائی اس قدر خوفناک ہوتی گئی کہ عوام اپنی زندگی جینے کا سوچ کر ہی خوفزدہ ہونے لگے۔ ایسی ہی تمام تر صورتحال ان دنوں رواں دواں ہے اور یہی وجہ ہے کہ جرائم کے ساتھ ساتھ ہمارے رویوں میں شدت آ رہی ہے۔ ایسی منفی تبدیلی ابھر رہی ہے کہ معاشرتی قدریں تو درکنار زندہ لوگوں کی روحیں تک کانپ رہی ہیں۔ خودکشیوں کی شرح تھمنے کا نام نہیں لے رہی اور دوسری طرف افسوس صد افسوس کہ حکمرانوں کی شاہ خرچیوں اور اللوں تللوں کی بازگشت اپنے بدترین نقطہ عروج پر ہے۔ ایسے جوبن پر ہے کہ معاشرتی تضاد ایک عام آدمی کو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ کیا وہ حکمرانوں اور سیاست دانوں کے پالتو جانوروں سے بھی کمتر ہیں اور انہیں اتنے حقوق بھی میسر نہیں کہ وہ صحت مند اور خوشگوار سانسیں لے کر مسرت کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ ایسے تمام تر سوال یقینا حکمرانوں کے سر ہیں اور وہ ان سوالوں کے جواب دیں یا نہ دیں جتنے مرضی بہانے تراشیں بالاخر روز محشر عوام وہ بے گناہ عوام کے ہاتھ ان حکمرانوں سیاستدانوں کے گریبانوں پر ہوں گے جب اللہ تعالیٰ کی بے آواز لاٹھی انصاف کر کے رہے گی۔ بہرحال ان دنوں وطن عزیز جس ٹوٹی پھوٹی اور کمزور مفلوج الحال معیشت کے سہاروں چل رہا ہے عوام جس طرح پل پل معاشی و اقتصادی مسائل میں سکڑ کر جی اور مر رہی ہے اس کی تمام تر بنیادی وجہ موجودہ حکومت کی وہ ناکام معاشی و اقتصادی پالیسیاں ہیں جس کو درست کرنے کے بارے میں آج تک موجودہ حکمرانوں نے سوچنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی البتہ اپنی شاہ خرچیوں کو پورا کرنے کے لئے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں کے حصول کو یقینی بنانے کے علاوہ سٹیٹ بینک سے نوٹوں پر نوٹ چھپوائے جاتے رہے جس سے وطن عزیز میں افراط زر خطرناک کن سطح تک پہنچ گیا اور بالاخر اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر اس قدر گر چکی ہے کہ ڈالر سو روپے تک جا پہنچا ہے۔ ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قیمت میں اضافے کے سبب ہر طرح کی کاروباری سرگرمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ بجلی، گیس کے بحرانوں کے بعد روپے کی قدر میں کمی رہی سہی کسر نکال رہی ہے۔ برآمدات اور درآمدات کے شدید متاثر ہونے کے باعث شعبہ زراعت اور شعبہ ٹیکسٹائل جنہیں ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے وہ تقریباً ٹوٹ چکی ہیں۔ لاکھوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں اور حکمران نجانے کس خواب مستی میں مگن ہیں۔ ان حکمرانوں کو لاہور میں دو سو کنال اراضی پر بم پروف بلاول ہا¶س تو قبول ہے مگر عوام کے وہ مطالبات قبول نہیں جن میں وہ دو وقت کی روٹی کے حصول کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
 افسوس پیپلزپارٹی کی اس حکومت میں جس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ لگایا تھا، آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی حکمت عملی یکسر تبدیل کرے، مجموعی قومی پیداوار اور ٹیکسوں میںاضافہ، خسارے میں کمی کرے، تب نیا قرضہ ملے گا۔ پاکستان کو نیا قرضہ دینے کے لئے آئی ایم ایف کی پیش کردہ شرائط کے تحت اگر پاکستان کو قرضے کا نیا پروگرام حاصل کرنا ہے تو اس سے پہلے جی ڈی پی میں 1.5فیصد اضافہ کرنا ہو گا جو تقریباً 660ارب روپے یا تین ارب 67کروڑ ڈالر کے برابر ہے۔ اس وقت ہماری معیشت کو 162کھرب 40ارب روپے خسارے کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان کو نیا قرضہ نہ دے یہ تو ممکن نہیں کیونکہ آئی ایم ایف لابی کا وہ شکنجہ ہے جس کا مقصد پوری دنیا بالخصوص اسلامی ممالک کو اپنی گرفت میں لے کر جکڑنا ہے۔ یہودی صیہونی لابی نے ہی آج تک امریکہ میں کوئی سینٹرل بینک نہیں بننے دیا۔ امریکی سابق صدر جان ایف کینیڈی نے صرف اپنے دوراقتدار کے دوران سینٹ میں امریکہ کے لئے سینٹرل بینک قائم کرنے کی بات کی تھی انہوں نے نہ تو اس بارے میں کوئی قرارداد پیش کی، نہ کوئی سمری نوٹ پیش کیا اور نہ ہی کوئی قرارداد یا سمری نوٹ پیش کرنے کا کہا مگر ان کو گولی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے 1997ءمیں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت تمام عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کر کے ملک کو خودانحصار معیشت دینے کی ٹھانی تھی اور پھر قرض اتارو ملک سنوارو مہم کا ساتھ پوری قوم نے بڑھ چڑھ کر دیا۔ آج اسی ملک میں میاںمحمدنوازشریف کے جانے کے بعد پاکستانی آمر اور امریکی مجاہد جنرل(ر) پرویزمشرف نے عالمی مالیاتی اداروں کے زر سے ملکی معیشت کو مصنوعی انداز میں چلایا۔ ایک امپورٹڈ بینکر کو قوم پر وزیراعظم کی صورت میں مسلط کر دیا جس کے بعد پورے ملک میں پلاسٹک منی کی گردش نے ہماری معیشت کو نئے رنگ ڈھنگ دکھائے مگر ان کے جانے کے بعد کیا ہوا؟ آج تک قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ مشرف کی کاربن کاپی پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت نے مشرف سے بھی دو ہاتھ آگے نکل کر قرضوں کے حصول کی بارش کر کے ملک کی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ آج آئی ایم ایف نئے قرضے دینے کے لئے شرائط پیش کر رہا ہے اور صرف چند سال پہلے اسی ملک کے ایک وزیراعظم نے آئی ایم ایف سمیت تمام عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے نہ لینے کی ٹھان لی تھی اور ان کی تمام شرائط کو ٹھوکر مار دی تھی۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت پورے پانچ سال کوئی معاشی و اقتصادی ایجنڈا ڈکلیئر نہ کر سکی آئندہ کرے گی۔ جناب صدر پاکستان قوم کو جنوبی پنجاب بہاولپور ریاست اور اس طرح کے شوشوں سے کوئی سروکار نہیں۔ عوام صرف ملک کی مضبوطی اور اپنے پیٹ کی آگ کو بجھانے کے لئے دو وقت کی روٹی کاتقاضا کرتی ہے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے نئی شرائط کے ساتھ نئے قرضے دینے کا کہنا وفاقی حکومت کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہے۔ اس حکومت پر جس نے ملک اور قوم کا سودا کر دیا اور رہی سہی کسر اپنی عیاشیوں، کرپشن سے نکال رہے ہیں۔