پاکستان کے ٹکڑے ہونے کے بعد ہم نے کیا سبق سیکھے؟

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور

16 دسمبر 1971ءہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے جب قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان کو ہم نے دو ٹکڑے کروا کر ملکِ خداداد کی ناشکری کی اور اللہ کے ”انعام“ پاکستان کی سالمیت کو بچانے میں ناکام ہوئے لیکن کیا ہم نے ایک قوم کے طور پر اس روح اور دل کو برباد کر دینے والے واقعہ سے واقعی کچھ سبق سیکھے؟ یا نہیں! آج بھی پاکستان کے طول و عرض میں ملک دشمن طاقتیں آج کے پاکستان کو مغلوب‘ غیر مستحکم‘ ٹکڑے کرنے کی سازشوں پر عمل کر رہے ہیں قوم کے بعض گروہ مکار ہندو بنیے، 1971ءکے سقوط پاکستان کے ایک فیکٹر (وجہ) امریکہ اور تعصب پرست، لسانی، علاقائی، قبیلہ، نسل پرست کالے دل والے نام نہاد سیاستکاروں، دانشوروں، مہاجر، بلوچ، پشتون، سندھی نسل پرست، بعض گمراہ اور بکے ہوئے صحافیوں، تجزیہ کاروں قلمکاروں کے ملک دشمن ہمہ جہت ہتھکنڈوں اور سازشوں کے ”شکنجے“ اور زہریلے پروپیگنڈے کے نرغے میں ہیں۔ آج کا دن ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنے کا درس دیتا ہے۔ جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں وہ تباہ و برباد ہو سکتی ہیں۔ 1971ءکے سانحہ سے ملنے والے تاریخی سبق درج ذیل ہیں جو اپنے ہیروز سے غیر مشروط عقیدت کے جذبات کے بجائے حقائق اور بے رحم تاریخی سچ کے تناظر میں دیکھے جانے چاہئیں۔ ”ہیرو ورشپ“سے بلند ہو کر تاریخ کے سچ، کڑوے سچ درست راہِ عمل کیلئے لازم ہیں۔ آئیے تجزیہ کریں۔
-1 تحریک پاکستان میں قوم نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ ہم ایک اسلامی سلطنت قائم کریں گے قائداعظم نے بھی ”قرآن ہمارا آئین اور دستور ہے“ متعدد تقاریر میں بتایا تھا۔ تحریک پاکستان میں اکثر شہروں، قصبات میں یہ نعرے لگتے تھے پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ! 1971ءتک اور آج 2012ءتک ہم بطور قوم اللہ اور رسول سے کئے وعدے کو پورا نہ کر کے اللہ سے دھوکہ دہی (اپنے اوپر عذاب الٰہی کو دعوت) کے مرتکب ہوئے اور آج بھی ہیں۔ سزا 1971ءمیں مل چکی، سبق ہم پھر بھی نہیں سیکھتے۔ آج بھی ہم سقوط ڈھاکہ کے فوجی حکمت عملی، خارجہ امور میں ناقص منصوبہ بندی، سیاستدانوں کی اقتدار کی ہوس، آئینی حقوق سے روگردانی، جمہوریت کے بڑے اصولوں کی نفی اور کئی طرح کے اسباب بتاتے ہیں حالانکہ یہ اسباب ضمنی نوعیت کے ہیں جب بطور قوم ہی اللہ اور رسول کے مجرم ہو گئے اور اپنی اجتماعی زندگی اور ملکی نظم و نسق ہی اللہ کے باغیوں والا بنا کر سرکشی پر اُتر آئے اور عقائد سے اعمال تک (زیادہ اکثریت) اللہ اور رسول کے فیصلوں کے خلاف ہو چکے تو اللہ کا عذاب شکل بدل بدل کر آنا لازم ہے۔ یہ بڑا کڑوا سچ ہے لیکن ہمارے دل اور دماغ اس سچ کو سننا بھی نہیں چاہتے، دنیاوی اسباب کی طرف ذہن جاتا ہے اصل ”جڑ“ درست کرنے کو ہم تیار نہیں۔
اللہ اور رسول نے قرآن حدیث میں حکم اور ارشاد کیا ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مومن اور مومنات ایک دوسرے کیلئے وہ پسند کرتے ہیں جو اپنے لئے کرتے ہیں۔ نسل، رنگ، زبان، علاقہ، قبیلہ صرف شناخت کیلئے ہیں۔ تعصبات (زبان، نسل، علاقہ، قبیلہ کی بنیاد پر جتھہ بندی) قائم کرنے والے ہم (مسلمانوں، مومنوں) میں سے نہیں جس نے تعصبات کو پھیلایا وہ ہم میں شامل نہیں۔ اتحاد و اتفاق والے عمل اور فیصلے کرو، نفاق، حسد، کینہ، غیبت، مسلمان بھائی کا حق مارنا حرام ہے دوزح کا راستہ ہے کبیرہ گناہ ہے۔ زبان، نسل، علاقہ کی بنیاد پر تعصبات پیدا کرنا، پھیلانا رسول کی اُمت کو ٹکڑے کرنا اللہ اور رسول سے بغاوت ہے۔ اپنا حق لینا چھوڑ دو، آخرت سے بڑا اجر دنیا نہیں ہے۔ قربانی دو اپنا حق دوسرے مسلمان کیلئے چھوڑ دو، باہم اتحاد و اتفاق پیدا ہو گا ورنہ یہ زہریلے تعصبات جو بنگالی (بنگلہ زبان اور نسل) میں ہندو¶ں نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے 1965ءکی جنگ کے بعد پھیلائے تھے ”شالا پنجابی“ ہماری پٹ سن پر پلتا ہے۔ یہ گالی زہر آلود تھی جو ”اندر“ کے غیر اسلامی تعصب کی آئینہ دار تھی؟ بلا شک و شبہ مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے بنگالی کے حقوق کماحقہ ادا نہیں کئے لیکن ہندو اور بنگالی اساتذہ نے نوجوانوں میں ”پنجاب“ ہمیں اپنا غلام اور کالونی سمجھتا ہے، ایک بڑی منصوبہ بندی سے ”اپنے حق لیں گے“ کے دلفریب نعرے کے زیر اثر، بھارتی مدد اور روپیہ سے جوان نسل کو زہریلے پروپیگنڈے سے متاثر کیا۔ آج سندھ، خیبر پی کے، بلوچستان کے علاقوں میں یہی پروپیگنڈہ پاکستان سے بغاوت کیلئے شد و مد سے جاری ہے ہم نے مشرقی پاکستان گنوا کر کوئی سبق نہیں سیکھا۔ میڈیا ”سیاسی مرغوں“ کی لڑائی کے ٹاک شو کرتا ہے، چنیل کے بڑے افسران قومی خدمت اور قوم سازی میں کبھی کبھی پروگرام تشکیل دیتے ہیں ہم نے قوم سازی کے کتنے پروگرام ٹی وی پر بنا کر دئیے؟ بڑے معیاری کوئی نہیں۔ ملک، مذہب، ملت، خدا رسول کے خلاف فلسفے اور کافرانہ سازشیں ہمارے ملک کے اپنے کر رہے ہیں۔ میڈیا ”مال“ بنانے میں مصروف! ملک بچانے کیلئے منظم مہم نہیں چلانی آتی؟ 5 سال میں تو میڈیا چینل بہت کچھ کر سکتے تھے۔
-3 اقتدار کی رسہ کشی سقوط ڈھاکہ کی بڑی اہم وجہ ہے نہ شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کا جمہوری حق مارنے کی حماقت کی جاتی نہ جلتی پر پٹرول گرتا۔ اکثریتی جماعت عوامی ووٹوں سے اقتدار کی حقدار تھی لیکن اگرتلہ سازش کیس میں شیخ مجیب الرحمن کی بھارت سے سازباز کے پیش نظر جنرل صاحبان اسے مستقبل کے حکمران کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے تھے (خفیہ رپورٹیں اور بعض ثبوت بھارتی لابی کا ہے) ایک یہ وجہ تھی جو سینئر ترین جرنیلوں کیلئے دردِ سر تھا۔ دوسرا مسئلہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کو مغربی پاکستان یا متحدہ (پاکستان غیر منقسم) پر اقتدار حاصل کرنے کی خواہش تھی۔ مینار پاکستان پر عوامی جلسے میں بھٹو نے ایسے اشارے دئیے تھے جس سے یہ واضح ہوتا تھا کہ ”اُدھر تم (مشرقی پاکستان) اور اِدھر ہم (مغربی پاکستان) “ یہ الفاظ تو نہیں بولے لیکن وہ مجیب الرحمن کی اکثریت کے پیش نظر مفہوم یہ ہی دے رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو منتخب رکن اسمبلی ڈھاکہ میں اجلاس کیلئے گیا اسکی ٹانگیں توڑ دوں گا اور جہاز کا ایک طرف کا ٹکٹ لے کر جائے یعنی وہ سیاسی رسہ کشی میں ”پارٹی“ تھے، محلاتی سازشوں میں جنرل یحیٰی کے ساتھ ، بیورو کریٹ اور سیاستدان بھی!
-4 1971ءکی بنگلہ بغاوت کے دوران بنگالی مُکتی باہنی (بنگلہ قوم پرست، تربیت یافتہ مسلح کمانڈوز) نے بھارتی فوجی اور سول خفیہ اداروں کی تربیت، منصوبہ بندی، روپیہ (بے بہا)، اسلحہ سے افواج پاکستان پر اور اُن کے بیوی بچوں پر منظم اور سفاک قتل و غارت گری والے حملے کئے۔ فوج کے اندر بھارتی ”را“ اور فوجی خفیہ ادارے نے ”شالا پنجابی“ کے نعرے کو ہَوا دی اور بنگالی فوجیوں میں بڑی بغاوت کرانے میں کامیاب ہوئے۔ کئی افسر و جوان سیدھے بارڈر پار بھارت چلے گئے۔ وسیع بھارت مشرقی پاکستان بارڈر سے بھارتی تربیت یافتہ گروہ اور باغی بنگالیوں کا آزادانہ آنا جانا معمول تھا اور تحفظ بھارتی فوج کا تھا! ان حالات میں ملکی سلامتی کو سنگین چیلنج درپیش تھے آخر فوجی جرنیلوں اور سیاستدانوں نے بنگالی باغیوں پر فوجی ایکشن کا اقدام کیا کہ اس طرح ملک ٹوٹنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ بنگالیوں نے فوجی جوانوں اور خاندانوں کو خون کی ندیوں میں نہلا دیا تو جواباً فوجی ایکشن بھی تباہ کن تھا (یہ طویل مدلل بحث کا متقاضی ہے) ۔
-5 جنرل یحییٰ خان کمانڈر انچیف نے مسلح افواج میں شراب کو فوجی میس میں قانونی اجازت سے پینے اور نام نہاد روشن خیالی و گمراہی کے احکامات دے رکھے تھے خود ”مست جوانیوں“ کے نرغے میں ٹُن حالت میں مشغول ہوتا‘ اس نے فوجی فیصلے اور منصوبہ بندی خاک کرنی ہے۔ جنگ اور چھوٹی جنگوں کے دوران بھی شرابی زانی جرنیل اپنے کالے کرتوتوں سے پاکستان کا سودا کرتے رہے۔ آج بھی ایک زندہ مثال جنرل (ر) مشرف کی ہے، طبلہ، جوان حسینہ، شراب کی بوتل اور مجرے! نتیجہ قوم کے سامنے ہے۔ سبق کوئی نہیں سیکھتا۔ بھٹو نے بھی ناصر باغ میں جلسہ میں مانا تھا کہ ”ہاں تھوڑی سی پیتا (شراب) ہوں۔“
-6 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت پاکستان جنگ بندی کی قرارداد کو پھاڑ کر پھینک دیا تھا جو بہت جذباتی فیصلہ تھا۔ جنگ بندی کا معاہدہ عالمی ضمانت سے ہو جاتا تو پاکستان دو ٹکڑے ہونے سے بچ سکتا تھا۔ بھٹو نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا اور بڑھک بھی لگا آئے کہ ”میں ہزار سال تک لڑوں گا“ جنگ کے دوران یا بعد، جوش کے ساتھ ہوش بھی رہنے چاہئیں۔
-7 اپنے صوبوں، علاقوں میں ریاست کے حکمران کو برابر کے وسائل، ترقی، حقوق، آزادی، آئینی حقوق دینے لازم ہیں ورنہ محرومی، پسماندگی، جاہلیت، کمزور ایمانی حالت بیرونی دشمن قوتوں کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ ملک کی بنیادیں ہلا دینے والے زہریلے متعصبانہ نعرے لگانے والے پاکستان پر رحم کریں اور متحد قوم کو زبان، نسل، علاقہ کی گندی سیاست میں ملوث نہ کریں، یہ سیاست نہیں ہے کہ اللہ، رسول، کلمہ، قرآن والی قوم کو نام نہاد حقوق کے نام پر باغی بنانے کا مشن چلایا جائے۔ قوم کے جوانوں کو بھی یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ ہم پاکستان کی جڑیں کاٹنے والے دلفریب نعروں کا شکار تو نہیں ہو گئے۔