لفظوں کا تقدس

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری

کون سنتا ہے فغان درویش اور کون پڑھتا ہے ان ڈھیر سارے کالم نگاروں کے کالم، ہم تو اپنا ہفتہ وار کالم محض اپنے لئے لکھتے ہیں۔ خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو لیکن پچھلے دنوں پگ داڑھی والے اردو کے اکلوتے کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی نے ہمیں یہ شبہ سا ڈال دیا ہے کہ وہ بھی ہمارا کالم پڑھتے ہیں۔ ہمیں یہ شک ان کے فون سے گزرا وہ خفا ہو رہے تھے کہ لفظ بھی کچھ اپنی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کیا کہ کسی حیثیت دار لفظ کو کسی بے حیثیت آدمی کے ساتھ چپکا دیا جائے، انہیں شکایت تھی کہ میرے یوسف رضا گیلانی کو وجیہہ لکھنے کی۔ سچی بات ہے کہ بڑھیا ارمانی سوٹوں میں وہ ہمیں خاصے وجیہہ دکھائی دیتے ہیں۔ ویسے یہ بھی درست ہے کہ وجیہہ وہ ہمیں اڈیالہ جیل میں بھی دکھائی دیتے تھے۔ اگرچہ ان دنوں کثرت استعمال سے گھسے پٹے کپڑے ان کے زیر استعمال ہوتے تھے۔ اک سوال ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے ہاں سوٹ، ٹائیاں اور جوتے بھلا کتنی تعداد میں ہونگے؟ جواب: حساب دان ان کی گنتی میں مصروف ہیں، ابھی گنتی مکمل نہیں ہوئی۔ سوال گیلانی ہاﺅس میں کتابوں کی تعداد بھلا کتنی ہو گی؟ آخر وہ ایک رائٹر ہیں، ان کی ذاتی لائبریری تو ضرور ہو گی؟ جواب: ان کے گھر میں کتاب نام کی کوئی شے موجود نہیں حتیٰ کہ ان کی اپنی کتاب ”چاہ یوسف سے صدا“ کی بھی کوئی جلد نہیں۔ کسی کے پاس ہو تو انہیں بھجوا دے۔ ان دنوں ان کے ہاں فراغت ہی فراغت ہے۔ فون خاموش ہے ا ور گیٹ کی گھنٹی بے صوت، ہاں تو ڈاکٹر اجمل نیازی کی رائے میں وقار وجاہت کا ایک لازمی جزو ہے۔ کسی بے وقار شخص کو وجیہہ نہیں کہا جا سکتا۔ ادھر ہمارے یوسف رضا گیلانی ہیں کہ بعضوں کی رائے میں میر تقی میر نے دو صدیاں پیشتر یہ شعر خاص انہی کے لئے کہا تھا....
پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی
اب یہاں لفظ ”عاشقی“ کے استعمال پر آپ کو اعتراض ہو گا۔ آپ کہیں گے زر سے عشق‘ عشق نہیں ہوتا اس لئے یہاں عشق کے لفظ کا استعمال درست نہیں۔ اہل زباں ایسے موقعوں پر لفظ ”ہوس زر“ استعمال میں لاتے ہیں۔ اپنی طرز کے انوکھے شاعر جون ایلیا کی طرح آدمی اپنے دل کو خوش رکھنے کےلئے کیا کیا کچھ گماں نہیں رکھتا۔ وہ ہوس میں بھی عزت کا ایک پہلو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش میں ہیں....
اپنے درباں کو سنبھالے رکھئے
ہیں ہوس کی اپنی عزت داریاں
فیض احمد فیض کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کے قائل دکھائی دیتے ہیں۔ عشق نہیں تو ہوس ہی سہی۔ انہوں نے عشق اور ہوس میں انیس بیس کا ہی فرق رہنے دیا ہے ....
ہو چکا عشق اب ہوس ہی سہی
کیا کریں فرض ہے ادائے نماز
ہاں یاد آ گیا۔ پی سی لاہور میں یوسف رضا گیلانی کی کتاب ”چاہ یوسف سے صدا“ کی تقریب رونمائی تھی۔ یہی ڈاکٹر اجمل نیازی وہاں اسٹیج سیکرٹری تھے۔ آبروئے صحافت جناب مجید نظامی نے اپنی تقریر کے آخر میں کتاب ”چاہ یوسف سے صدا“ اٹھائی، اس کا سرورق حاضرین کو دکھاتے ہوئے پوچھا کہ”اس تقریب میں ایسا خوش چہرہ آدمی کوئی اور بھی ہے؟“ اپنی کتاب کے سرورق پر یوسف رضا گیلانی کی اپنی تصویر تھی۔ ان دنوں اس تصویر میں حسن جمال، وقار، وجاہت سب کچھ موجود تھا۔ اس گھڑی ڈاکٹر اجمل نیازی کو یوسف رضا گیلانی کےلئے وجیہہ سمیت ہر باعزت لفظ کا استعمال روا تھا۔ یہ قصہ ہے تب کا جب ارمانی سوٹوں نے ابھی یوسف رضا گیلانی کا پنڈا نہیں چھوڑا تھا۔ ان کے صاحبزادے ابھی کھل کھیلے نہیں تھے۔ یہ ان کے لئے نئے بنگلے خریدنے کا نہیں، گھڑی بیچ کر ان کی سکول فیس ادا کرنے کا زمانہ تھا۔ شاید انہی دنوں گیلانی ہاﺅس ملتان برائے فروخت کا بینر بھی لہرایا کرتا تھا۔ پھر یوسف رضا گیلانی سوئے دار سے سیدھے کوئے یار پہنچ گئے۔ اڈیالہ جیل سے وزیراعظم ہاﺅس کا آخر فاصلہ ہی کتنا ہے۔ صاحبزادگان کی موج ہو گئی۔ اب زمینوں کی آمدن سے بلٹ پروف گاڑیاں آ گئیں۔بنک نوکری چھوڑ چھاڑ اسمبلی ہال پہنچ گئے۔ گیلانی ہاﺅس سے برائے فروخت کا بینر اتر گیا۔ سریے، بجری، ریٹ، کنکریٹ کا دل کھول کا استعمال کیا گیا۔ وہ گھڑی بھی واپس پہنچ گئی جو بچوں کی سکول فیس کی ادائیگی کے لئے بیچی گئی تھی البتہ ایک چیز واپس نہیں آئی۔ اگر سمجھ نہیں سکے تو پھر بتانا بھی فضول ہے۔ تبھی تو ڈاکٹر اجمل نیازی کو یوسف رضا گیلانی کیلئے لفظ”وجیہہ“ کے استعمال پر اعتراض ہے۔ ذکر لفظوں کا چھڑا ہوا ہے تو لفظوں کا سراپا اور حدود اربعہ سن لیں۔ لفظوں کا ایک رنگ ہوتا ہے۔ ڈھنگ، انگ اور آہنگ بھی ہوتا ہے۔ کچھ لفظ زندہ ہوتے ہیں اور کچھ نیم جان، کچھ مردہ اور کچھ پژمردہ اور پورے فقرے کا مزہ کرکرا کر دیتے ہیں۔ کچھ لفظ ہوتے ہیں مزیدار چٹپٹے او مصالحہ دار۔ کچھ لفظوں کی تاثیر دیسی چھوٹی سبز مرچوں کی سی ہوتی ہے۔ پڑھیں اور سوں سوں کرتے جائیں پھر ہر لفظ حیثیت دار کہاں ہوتا ہے اور آخری بات یہی ہے کہ حیثیت دار لفظوں کو بے حیثیت لوگوں کےلئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ لفظوں کا تقدس برقرار رکھنا چاہئے۔ لفظ بھی اپنے استحصال کا بہت برا مناتے ہیں۔