سقوط ڈھاکہ ۔۔کچھ لغزشیں کچھ سازشیں

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد

مسلم بنگال میں تاریخ کے ہر دور میں سیاسی اور علمی بیداری پائی گئی۔ 1905ءمیں مسلم آبادی کی بنیاد پر تقسیم بنگال ہوئی۔ 1906ءمیں مسلم لیگ کی داغ بیل بھی ڈھاکہ میں ڈالی گئی۔ تحریک پاکستان کا مرکز بنگال ہی رہا۔ 1940کی قرارداد لاہور بھی شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی جس کی تائید برصغیر کے کونے کونے سے آئے ہوئے مسلم زعما نے فرمائی۔ قیام پاکستان میں بنگال کے قائدین اور عوام کا کردار کسی بھی دوسرے صوبے سے زیادہ نمایاں ہے مگر وہاں موجود ہندو اقلیت جو کاروبار اور اہم سرکاری عہدوں خصوصا تعلیم کے محکمے پر بڑی گرفت رکھے ہوئے تھی اپنی سرشت میں شامل مسلم نفرت کو ختم نہ کر سکی۔ انہوں نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ اور اکھنڈ بھارت کے مرض میں مبتلا ہیں ۔ پاکستان کو اپنے وجو دکا کٹا ہوا حصہ محسوس کرتے ہیں اور وپس ملانے کے جنون میں اخلاقی حدود پار چکے تھے اور اب بھی اسی حالت میں ہیں لہذا مشرقی پاکستان میں موجود سازشی ہندوﺅں نے اپنے عزائم کی تکمیل کا آغاز فروری 1948ءمیں پاکستان کی قانون سازاسمبلی میں مشرقی پاکستان کے ایک ہندو رکن سرہند ناتھ دتہ نے بنگالی زبان کو پاکستان کی دوسری قومی زبان قراردینے کا مطالبہ کر ڈالا جس کو وزیر اعظم لیاقت علی خان نے یہ کہہ کر مستر د کر دیاکہ یہ پہلے سے طے شدہ معاملات ہیں ان کو دوبارہ سے چھیڑنا مناسب نہیں ۔ مارچ 1948ءڈھاکہ میں حضرت قائداعظم ایک جلسہ عام سے خطاب فرما رہے تھے ۔ سٹیج کے سامنے ڈھاکہ یونیورسٹی کے کچھ طالبعلم جن کی قیاد ت شیخ مجیب الرحمن کر رہے تھے بنگالی کو دوسری قومی زبان کے حق میں نعرے لگائے جس کے جواب میں قائداعظم نے کہا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور اردو ہی رہے گی آپ اپنے صوبے کے لئے چاہیں تو صوبائی اسمبلی میں فیصلہ کرلیں ۔ہندو کی چال بازی نے بنگالی زبان کو مسئلہ بنا کر دونوں حصوں میں نفرت کی بنیاد ڈالی جس پر خوب خون خراباہوا ۔قائد کے بعد کے حکمرانوں نے یہ مطالبہ تسلیم کر لیا کہ مغربی پاکستان میں ایک خاص طبقے نے بنگالیوں کو اقتدار سے دور رکھنے کےلئے بیشمار غلطیاں کیں جیسے ون یونٹ کا قیام آبادی کے لحاظ سے مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ اور مغربی پاکستان کی قدر کم تھی مگر ون یونٹ کے تحت دونوں کو برابر قرار دیا گیا ۔ اس حق تلفی کو ہندو نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا ۔ سپیکر قومی اسمبلی مولوی تمیز الدین کی تذلیل کا واقعہ ہوا۔ رہی سہی کسر ایوبی مارشل لاءنے نکال دی جس پر مشرقی پاکستان کے لیڈروں کا نمایاں رد عمل آیا ان کا کہنا تھا ہم نے جمہوری جدوجہد کے ذریعے پاکستان حاصل کیا جرنیل شاہی کو تسلیم نہیں کرتے ۔ایوب نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی الیکشن کے ذریعے شکست دے دی جو ہر محب وطن کےلئے اذیت ناک عمل تھا ۔ 1965ءکی جنگ میں مشرقی پاکستان میں بسنے والوں کا دل توڑ کر رکھ دیا ۔ سارا دفاعی سازو سامان بری افواج کی اکثریت اور فضائیہ مغربی پاکستان کی حفاظت کرتی رہی۔مشرقی کمان کے پاس بھارت سے مقابلے کا مناسب انتظام نہ تھا یہی عدم تحفظ کی سوچ نفرت کی جانب سفر کرتی۔1969ءمیں ایوب خان نے بیماری کے سبب صدارت چھوڑی تو قانون کے مطابق قائم مقام صدر سپیکر قومی اسمبلی کو ہونا چاہیے تھامگر سپیکر بنگالی ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا ۔ اقتدار ایک دوسرے جرنیل کو منتقل کر دیا گیا ۔1970ءمیں ہونے والے عام انتخابات اور ان کے نتائج کو تمام پارٹیوں نے تسلیم کیا ۔ شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی جس کو اقتدار منتقل نہ ہوسکا اس بے اعتمادی ، نااتفاقی اور جمہوریت کش پالیسی کے سبب پاکستان کے دونوں بازوﺅں کا چلنا محال تھا لہذا قیادت کی ناکامی بین الاقوامی سازش بھارتی جارحیت اور مشرقی پاکستان کے باسیوں کی محرومی نے کشور حسین کو دو لخت کر ڈالا۔ قائداعظم کا پاکستان آدھا رہ گیا۔
16دسمبر ہماری ملی قومی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جس کو آنے والی نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ہر سال 16دسمبر ذلت رسوائی کی وہ یادیں تازہ کرتا ہے جس کے باعث عالم اسلام کی سب سے بڑی سلطنت ہی دو لخت نہیں ہوئی بلکہ ہمارے نوے ہزار فوجی اور سول افراد بھارت میں قیدی بنا لئے گئے ۔ اگر ہم اپنے قائدین کے فرمودات اپنی زندگیوں میں شامل کر تے تو تاریخ کے اس بھیانک موڑ کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ حضرت قائداعظم نے بارہا ہمیں ہوشیاررہنے کےلئے کہا ۔ ہماری صفوں میں ففتھ کالمسٹ سرایت کر چکے ہیں ان پر کڑی نظر رکھنی ہے یہ ہمیشہ پاکستان کو اپنے منزل کی جانب لیجانے سے روکے رکھیں گے ۔1945ءکے مخلوط الیکشن میں مشرقی پاکستان کی 25% ہندو آبادی تھی جنہوں نے وقت آنے پر بنگالی بھائیوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ مغربی پاکستان کی تمام خوشحالی کاباعث مشرقی پاکستان کی اہم پیداوار پٹ سن ہے ۔ شیخ مجیب نے ایک مرتبہ کہا کہ اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آتی ہے ۔ جناب مجید نظامی اکثر بتاتے ہیں کہ شیخ مجیب جب رہا کئے گئے تو ان سے ملاقات میں کہا کہ تم اسلام آباد بیٹھ کر پورے پاکستان کی خدمت اور حکومت کرو مگر شیخ مجیب نے کہا یہ ممکن ہی نہیں دراصل اس کے ذہن میں بنگلہ بندوبننے کا خناس سمایا ہوا تھا ۔ بقول نظامی صاحب اگر متحدہ پاکستان کا دارالخلافہ ڈھاکہ بھی منتقل ہوجاتا تو کوئی حرج نہ تھا مگر فساد کی جڑ فوجی حکمران تھے کیونکہ بنگالی جمہوریت پسند ہیں ۔ انہوں نے پاکستان ووٹ کے ذریعے بنایا تھا اب بیلٹ کی جگہ بلٹ کے زورپر حکمرانی ہو رہی تھی ۔ اس نفاق کا فائدہ بھارت نے اٹھاتے ہوئے مکتی باہنی کے ذریعے لوگوں میںاسلحہ اورآزادی کا سلوگن تقسیم کیا ۔16دسمبر ہمارے سینے پر وہ زخم ہے جو کبھی نہیں مٹ سکتا ۔ مشرق و مغرب دونوں حصوں کے صاحب اختیار اور اہل اقتدار سب کی اجتماعی غلطی کا شاخسانہ تھا۔ مغربی پاکستان سے ممتاز دولتانہ‘ خان عبدالقیوم خان اور دیگر زعما نے مشرقی قیادت سے مصالحت کا سلسلہ شروع کیا جسے حکمرانوں نے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پولینڈ کی قرار داد کو مسٹر بھٹو نے پرزے پرزے کرکے اقوام عالم کی کوششوں کو پامال کر دیا۔ ہم امریکی ساتویں بحری بیڑے کا انتظارکرتے رہے۔ جو ملک بلند کردار‘ اعلیٰ اوصاف کے مالک بزرگوں نے طویل جدوجہد اور کثیر قربانیوں کے بعد حاصل کیا اسے بدمست جرنیلوں اور خود غرض سیاست دانوں نے پہلے دو لخت کیا تھا آج اس حال کو پہنچایا کہ جوہری قوت کے حامل ہونے کے باوجود پوری دنیا میں ہماری کوئی عزت ہے نہ اعتبار ہم معاشی‘ معاشرتی اور اخلاقی لحاظ سے دیوالیہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارا نام دہشت گردی‘ کرپشن اور ناخواندہ ملکوں کی فہرست میں نمایاں ہے۔