حضرت سید یعقوب علی شاہ ؒکا روحانی سفر آج بھی جاری ہے

کالم نگار  |  شہر یار اصغر مرزا

ممتازروحانی اور دینی سکالرسیدسرفراز احمد شاہ صاحب نے اپنے لیکچرز پر مبنی دونوں کتابیں”کہے فقیر“ اور ”فقیر رنگ“ میں اپنے مرشد سید یعقوب علی شاہ چشتی، صابری، وارثی رحمة اللہ علیہ کے بارے میں کئی جگہ پر تذکرہ کیا ہے۔ اپنی پہلی کتاب ”کہے فقیر“ کی تشریح کےلئے خود شاہ صاحب ایک ٹی وی چینل تشریف لاتے ہیں اور لوگوں کے سوالات کے جوابات بھی دیتے ہیں، بہت سے لوگ ان کے مرشد کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور بذریعہ ای میل، ٹیلیفون مجھ سے دریافت کرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مجھے وابستگان سید سرفراز اے شاہ اور دوستوں سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ میں قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
جن صوفیائے کرام نے برصغیر میں فروغ اسلام کےلئے کام کیا اور سرزمین ہند میں محبت و آشتی کا پیغام دیا، انسانی عظمت کی سربلندی اور مساوات کا درس دیا، اللہ کی وحدانیت و حقانیت کی تعلیم دی اور عشق رسول سے لوگوں کے قلوب میں ایمان کی شمع روشن کی، نفرت، نسل پرستی سے لوگوں کو منع کیا، دین و دنیا میں توازن رکھنے کی تلقین کی جس سے ہندوستان کے لوگ اسلام کی طرف کھینچتے چلے گئے۔ ان بزرگان دین و اولیاءکرام کے سلسلے کی ایک برگذیدہ ہستی حضرت سید یعقوب علی شاہ صاحب چشتی‘ صابری‘ وارثی بھی تھے۔ آپ انبالہ سے قیام پاکستان کے بعد گوجر خان آئے اور وہاں کافی وقت گذارا‘ آپ نے روحانی بلندی کی منازل وہیں پر طے کیں، بظاہر شاہ صاحب کی دنیاوی تعلیم زیادہ نہ تھی تاہم آپ بے حد ذہین اور علوم باطنی سے مالامال تھے۔ کافی عرصہ کے بعد آپ گوجر خاں سے لاہور آئے اور یہاں اپنی کفالت کےلئے جلیبیاں اور شربت بیچ کر گذر اوقات کرتے رہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ شاہ صاحب کوئی کام نہ کرتے تھے مگر پروردگار انہیں رزق فراہم کرتا تھا۔ ان کو کسی نے دستِ سوال کرتے کبھی نہیں دیکھا۔ چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے جس کا سائز ساڑھے پانچ فٹX ساڑھے تین فٹ تھا اور کرایہ بیس روپے ماہوا تھا جو آپ پابندی سے ادا کرتے تھے، درحقیقت یہ کمرہ اس مکان کا باتھ روم تھا جسے مالکان مکان نے کرایہ کے لالچ میں کمرہ میں تبدیل کیا ہوا تھا۔ یہی چھوٹا سا کمرہ شاہ صاحب کا ڈرائینگ روم‘ بیڈ روم اور سب کچھ تھا جس کے ایک کونے میں ہیٹر رکھا ہوتا تھا جس پر آپ کھانا پکاتے تھے۔
سید یعقوب علی شاہ صاحب کے روحانی فیض سے آج تک ہزاروں افراد فیض یاب ہو رہے ہیں۔ آپ نے عین اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کی اور ہزاروں افراد کے دکھ درد کو دور کیا۔ آپ کے آستانہ پر بلاتفریق ہر مذہب و مسلک کے لوگ آتے تھے اور شاہ صاحب ہر آنیوالے سے محبت و شفقت سے پیش آتے تھے ۔ ہر کسی کے مسئلہ کا حل بتاتے اور تمام افراد کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔سید یعقوب علی شاہ صاحب کے روحانی خلیفہ اور ان کے وارث علم سید سرفراز احمد شاہ صاحب بتاتے ہیں کہ انہوں نے ا پنے مرشد کامل کی بے شمار کرامات دیکھی ہیں، آپ روحانیت کے بہت بلند اور اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ ان کی ارشاد کی ہوئی باتیں آنیوالے وقت میں حرف بحرف صحیح ثابت ہوئیں، آپ علم کی بڑی گہری باتیں فرما جاتے تھے۔ 13 اگست 1986ءکو آپ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس دنیائے فانی سے جاتے ہوئے آپ نے اپنے سب سے چہیتے اور منہ بولے بیٹے سید سرفراز احمد شاہ صاحب کو علم کی یہ مشعل حوالے کر دی تاکہ خلق خدا کی رہنمائی ہوتی رہے۔ آپ کا مزار قبرستان میانی صاحب میں غازی علم دین شہید کے مرقد مبارک کے بالکل قریب واقع ہے۔ جہاں ہر سال آپ کا عرس مبارک منایا جاتا ہے۔ جس میں ہزاروں عقیدت مند روحانی فیوض اور برکات سے اپنی جھولیاں بھر کر لے جاتے ہیں۔
سالانہ عرس پر جس قسم کا لنگر یہاں تقسیم ہوتا ہے۔ یا حاضرین کو پیش کیا جاتاہے، لاہور میں کہیں بھی نہیں ہوتا۔ مزار شریف کے تمام راستوں پر مختلف انواع و اقسام کے کھانے، دیسی گھی کی بریانی، زردہ، نان حلیم، سموسے کچوریاں، دہی بھلے، مختلف قسم کی مٹھائیاں، بسکٹوں اور نمکوں وغیرہ کے پیکٹ کے سٹال لگے رہتے ہیں جو ہر خاص و عام میں یکساں تقسیم ہوتے رہتے ہیں۔ ایک جشن کا سماں ہوتا ہے جو وہاں بیٹھ کر کھانا چاہتے ہیں ان کےلئے بیٹھنے کا بندوبست ہوتا ہے۔ عرس مبارک کےلئے ایک انتظامی کمیٹی قائم ہے جو سال بھر انتظامات کےلئے پروگرام تیار کرتی رہتی ہے۔ نماز مغرب سے پہلے دعا کےلئے سید سرفراز شاہ صاحب تشریف لاتے ہیں جس میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں اور روحانیت سے جھولیاں بھر کر لے جاتے ہیں۔