جناب مجید نظامی کی صحافتی خدمات

کالم نگار  |  انوار فیروز

کسی زمانے میں صحافت مشن تھا، اگرچہ آجکل یہ صنعت کا درجہ اختیار کر چکا ہے لیکن اب بھی ایسے صحافی موجود ہیں جو اسے مشن اور ایک عظیم مقصد خیال کرتے ہیں، ایسے صحافیوں کے سرخیل قائد صحافت اور مرشد صحافت جناب مجید نظامی ہیں جنہوں نے آزادی صحافت کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ وہ تحریک پاکستان کے عظیم کارکن رہے، آج بھی وہ نظریہ پاکستان، آزادی¿ صحافت اور جمہوریت کے علمبردار ہیں جنہوں نے بکنا اور جھکنا نہیں سیکھا۔ وہ سر تا پا پاکستانی ہیں، ان کی شناخت پاکستان اور نظریہ پاکستان ہے اور وہ اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کرتے اور ان کی 70 سالہ صحافتی خدمات اس بات کا بین ثبوت ہیں، اب بطور مدیر اعلیٰ انہوں نے 50 سال پورے کر لئے ہیں۔ صحافت کیلئے ان کی خدمات کے اعتراف میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے جناب مجید نظامی کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی ہے۔ حقیقت یہ کہ یہ ڈگری جناب مجید نظامی کیلئے نہیں بلکہ ڈگری کیلئے اعزاز ہے۔
جناب مجید نظامی کے ڈاکٹر بننے کے بعد بے شمار لوگوں نے کالم لکھے ہیں جن میں بجا طور پر ان کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے اس لئے ہم سوچ رہے تھے کہ مختلف حضرات جناب مجید نظامی کی جرا¿ت، ہمت اور عظمت پر روشنی ڈال چکے ہیں، اب ہم کیا لکھیں لیکن نوائے وقت سے ہمارا تعلق بہت پرانا ہے۔ ہمارے بڑے بھائی منصب حسین خان فیروز پور میں سٹی مسلم لیگ کے سیکرٹری تھے، صدر خان سعادت نواز خان تھے، تحریک پاکستان کے عروج کے زمانے میں ہمارے ہاں نوائے وقت اور زمیندار آتے تھے ہم اسلامیہ حنفیہ ہائی سکول میں پڑھتے تھے اور وہاں ہم نے مسلم سٹودنٹس فیڈریشن کی شاخ قائم کی تھی جس کا میں سیکرٹری تھا، سکول میں ایم ایس ایف کی شاخ قائم کرنے کی غالباً یہ واحد مثال تھی۔ ایم ایس ایف کے حوالے سے ہم نوائے وقت کے بانی مدیر جناب حمید نظامی کی فوج کے سپاہی تھے اور اکثر ہماری ٹیلی فون پر شباب مفتی سے بات ہوتی تھی۔ خضر وزارت کے خلاف ایجی ٹیشین میں ہمارے بڑے بھائی منصب حسین خاں، ہمارے تایا زاد بھائی محمد احسن خان کی اہلیہ رشیدہ خانم بھی قید ہوئیں، آنسو گیس ہم نے بھی کھائی کیونکہ جلوس میں شریک تھے لیکن ہمیں کئی گھنٹے تھانے میں بٹھا کر غالباً کم عمری کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا۔ یہ بات تو برسبیل تذکرہ ہو گئی، جب حمید نظامی ایوب خان کے مارشل لا دور میں گھٹن کی وجہ سے انتقال کر گئے تو جناب مجید نظامی جو لندن میں روزنامہ نوائے وقت کے نمائندہ خصوصی تھے نے آ کر نوائے وقت کی ادارت سنبھالی اور حمید نظامی کے مشن کو جاری رکھا اور آزادی¿ صحافت کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔
26 دسمبر 1975ءکو ہم روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی کے سینئر رپورٹر مقرر ہوئے۔ ہم نے حق اور بے خوفی سے اپنے فرائض انجام دینا جناب مجید نظامی سے سیکھا۔ ایک واقعہ یاد آ رہا ہے، جنرل ضیاالحق صدر تھے وہ ایک روز دفتر خارجہ گئے اور وہاں ایک اجلاس کی صدارت کی۔ دفتر خارجہ میں ہمارے ذریعے نے ہمیں صرف یہ بتایا کہ جنرل ضیاالحق اتنے بجے دفتر خارجہ آئے، ظہر کی نماز وہاں ادا کی اور اتنے بجے واپس چلے گئے، باقی خبر ہماری اپنی تھی کہ روس میں فلاں شخص کو سفیر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور فلاں فلاں ملکوں میں دوسرے سفیروں کے نام بھی ہم نے دئیے۔ جس روز خبر شائع ہوئی اسی روز صبح ہم نوائے وقت کے دفتر گئے تو جنرل ضیاالحق کے پریس سیکرٹری بریگیڈئر صدیق سالک کا ٹیلی فون آیا کہ کیا کر رہے ہو۔ ہم نے کہا کہ کچھ نہیں۔ کہنے لگے تھوڑی دیر کےلئے آ سکتے ہو۔ میں نے کہا آ سکتا ہوں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو بریگیڈئر صدیق سالک یوں گویا ہوئے ”آج آپ نے دفتر خارجہ کی جو خبر شائع کی ہے آپ ایسا کریں کہ اپنا سورس بتا دیں، نہ آ پ کو کچھ کہیں گے نہ سورس کو۔ ہم نے کہا ”سالک صاحب آپ نے ہمیں اس لئے بلایا ہے“ رپورٹر کبھی اپنا سورس نہیں بتاتا۔ آپ کو جو کرنا ہے وہ کر لیں ہم جا رہے ہیں۔ اس کے بعد دفتر آکر ہم نے جناب مجید نظامی کو ساری بات بتائی تو وہ بولے ”اگر اب وہ پوچھیں تو ان سے کہیں کہ میرا سورس مجید نظامی ہے“ یہ ہم صرف ایک واقعہ بتا رہے ہیں ایسے بے شمار واقعات ہیں۔ مجید نظامی ہر آمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے وہ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف کے سامنے بڑی جرا¿ت سے بات کرتے تھے۔ ایک بار انہوں نے ضیاالحق سے کہا تھا ”ایہہ دسو ساڈی جان کدوں چھڈو گے“ اور جب ضیاءالحق نے انہیں بھارت کے دورے میں ساتھ چلنے کی دعوت دی تو انہوں نے کہا کہ ”جب آپ ٹینک پر بیٹھ کر بھارت جائیںگے تو میں آپ کے ساتھ جا سکتا ہوں“ وہ کہتے ہیں کہ جب تک بھارت جموں و کشمیر پر قابض ہے میں بھارت نہیں جا سکتا۔ وہ بھارت کو پاکستان کا دشمن نمبر ایک سمجھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بھارت جو آبی جارحیت کر رہا ہے اسے روکنے کیلئے ایٹم بم بھی چلانا پڑے اور پاکستان کو چلانا چاہئے۔
جناب مجید نظامی بے باک صحافی ہیں، دل کا تین بار بائی پاس آپریشن کرانے کے باوجود وہ جوانوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے مشن میں کامیاب کرے۔