بیڈ گورننس یا اقتدار کا نشہ؟

کالم نگار  |  فہمیدہ کوثر

کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ طاقت کا نشہ نظریہ تصادم کو جنم دیتا ے۔ یہ صورتحال اسوقت اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے جب حکومتی سطح پر چند افراد یا گروہ کی اجارہ داری قائم ہو جائے جسے ارسطو ”چند سری“ حکومت بھی قرار دیتا ہے۔ یہ گروہ اقتدار کے نشے میں معاشرے کو غیر متوازن کرتا چلا جاتا ہے۔ جس سے نہ صرف نظریہ ضرورت جنم لیتا ہے بلکہ معاشرے کے باقی طبقات میںاحساس محرومی جنم لیتا ہے اور یوں انتشار اور تصادم کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ تصادم ہر دور میں موجود رہتا ہے۔ لیکن مثبت رویے تصادم کا رخم مثبت کاموں کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ جبکہ منفی پالیسیاں اور رویے اسی تصادم کو بھڑکا دیتے ہیں۔ جب کوئی فرد یا طبقہ اصلاح احوال کی کوششوں کے لئے آواز اٹھاتا ہے جو معاشرے پر چھایا ہوا صدیوں کا شخصی نظام حرکت میں آجاتا ہے اور اس فرد یا طبقہ کے خلاف جارحانہ کارروائیوں پر اتر آتا ہے اور معاشرے میں خانہ جنگی کی کیفیت شروع ہو جاتی ہے۔
یونیسکو کے جھنڈے پر یہ مقولہ لکھا ہوا ہے کہ
Educate the Human mind Totaly to Eleminate the war.
اس خانہ جنگی کے خاتمے کی ایک صورت تو یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حقائق پر نظر رکھی جائے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس فرد یا جماعت جو اصلاح احوال کا بیڑہ اٹھاتی ہے۔ اس پر الزام تراشیوں‘ زہریلے پروپیگنڈے اور سزاﺅں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور معاشرے کی اصلا کا کام ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک معاشرے کا انتشار جنگ کو جنم لیتا ہے۔ کارل مارکس اور لینن اس خیال کے حامی ہیں وہ معاشرے میں طبقاتی تقسیم کو تصادم کا نام دیتے ہیں۔ جب معاشرے میں عدم مساوات ہو گی تو انتشار اور تصادم بڑھتے چلے جائیں گے۔
صدیوں سے چھائے شخصی نظام کو ٹوٹتے دیکھ کر یہ ریاستیں درج ذیل حکمت عملی اختیار کرتی ہیں۔ جن میں احتجاجی مراسلے‘ سنگین نتائج کی دھمکیاں معاشی اور سفارتی تعلقات کی قطع تعلقی‘ بین الاقوامی زہریلا پروپیگنڈا وغیرہ شامل ہو جاتا ہے۔ یہ عوامل امن کی کوششوں کو بہتر و بالا کر دیتے ہیں اور ریاستوں کی توجہ انتظامی امور سے ہٹ کر توڑ پھوڑ اور جوڑ توڑ جیسی سازشوں میں لگ جاتی ہے۔ یہیں سے لوٹوں اور لفافوں کی سیاست جنم لیتی ہے اور اقتدار کا نشہ ملک وقار‘ سالمیت اور انا کو بھی داﺅپر لگا دیتا ہے۔ لیکن ان مسائل کا حل آخرکار افہام و تفہیم میں ہی پوشیدہ ہوتا ہے۔ پہلا طریقہ جس کو سیاسیات میں "Good offices" بولا جاتا ہے۔ دراصل یہ کسی ایک شخص کی آفر ہوتی ہے۔ جو متعلقہ گروہوں کے درمیان پائے جانےوالے جھگڑے کو ختم کرا سکتا ہے اور اپنی تجاویز پیش کرتا ہے اور دوسرا طریقہ Negociation کا ہے براہ راست گفت و شنید باہمی تصادم کو ختم کر سکتی ہے۔ اگر یہ دونوں صورتیں قابل قبول نہیں ہوتیں تو محاذ آرائی اور سیاسی انتشار میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے اور صدیوں سے چھائے فرسودہ شخصی نظام کی بھٹی میں پڑے جھلسنے والے عوام محروم تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور معاشرے سے باہر یعنی بین الاقوامی طور پر معاشرے کی وقت ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور شاید آج ہم اسی کیفیت سے گزر رہے ہیں لیکن یہ صورتحال اس وقت اور زیادہ تکلیف دہ ہو جاتی ہے کہ اقتدار کے نشہ میں مست ”چند سری“ حکومت کے افراد شعور اور ادراک کو بالائے طاق رکھ کر حالات کی سنگینی میں اضافہ کا موجب بنتے ہیں۔