انقلاب .... انقلاب

کالم نگار  |  مسرت قیوم

کافی عرصہ سے بہت سارے رہنما انقلاب، خونی انقلاب اور کچھ تبدیلی، کچھ نیا پاکستان کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ”انقلاب“ وقوع پذیر ہونے کی وجوہات کثیر النوع ہوتی ہیں مگر انقلاب بذات خود صرف ایک مقصد کا حامل ہوتا ہے۔ بہت سارے اسباب مل کر ”انقلاب“ کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں مگر دیکھا گیا ہے کہ صرف ایک مقصد حاصل ہونے پر اس کے بقیہ مقاصد کے حصول پر توجہ دینے کی بجائے اس کی روح کے مطابق عمل بھی ندارد ہوتا ہے۔ بس ایک کامیابی پر ہی تکیہ کر کے لوگ بیٹھ جاتے ہیں۔ تبھی ”مابعد انقلاب“ کے اثرات زیادہ تر منفی عوامل۔ عناصر کی پرورش کرتے نظر آئے۔ اس کی حالیہ مثال ”عرب سپرنگ“ ہے۔ یوں جذباتی لوگ ایک اچھے مقصد کے لئے کی گئی جدوجہد کے میٹھے، باعمل ثمرات کو سمیٹنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں پھر معاشرہ جنگ و جدل کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال مصر کی صورت حال ہے۔ اس انتشار کا نشانہ ہماری قوم بنی ہوئی ہے۔ قیام پاکستان کی صورت ”مسلمانان ہند“ نے ایک الگ مملکت کی شکل میں اپنا مقصد تو حاصل کر لیا مگر نوزائیدہ مملکت کی ذمہ داریاں، اس کے افراد کی تربیت، ایک نوآزاد ملک کے تقاضے کیا ہوتے ہیں ہم وہ اگلی نسلوں تک ایک جامع تربیت کا پروگرام ترتیب دے کر پیش آمدہ مسائل سے نبرد آزما ہونے کے بجائے (یہ کسی بھی انقلاب کی پہلی آزمائش، خامی ہوتی ہے) ہر شخص اپنی ذات میں زیادہ سے زیادہ اختیارات کی ٹوکری بھرنے میں لگ گیا۔ ہم ہر وقت انقلاب، انقلاب کے نعرے تو لگاتے ہیں مگر عملاً اس کی آمد کے لئے ہماری کوئی تیاری نہیں۔ بار بار آزمائے ہوئے لوگ جو ایک ”نیا پاکستان“ کا نعرہ لگا رہے ہیں کیا وہ نہیں جانتے ہیں کہ اگر واقعی ایک ”نیا پاکستان“ وجود میں آ گیا تو نئے نظام میں ان کے لئے تو بالکل گنجائش نہیں نکلتی اور رہا انقلاب تو انقلاب تو ہے ہی ایک طرز زندگی، لمحہ موجود میں جاری نظام کی یکسر تبدیلی کا نام۔ ”خونی انقلاب“ میں تو بات ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اس طرز کے انقلاب میں تو اکثریت ڈوب جاتی ہے۔ بقیہ کو انقلاب اپنے اندر جذب کر لیتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں ڈوبنے کی گنجائش زیادہ یا جذب ہونے کی اہلیت زیادہ؟؟ میرے خیال میں ہماری گنجائش ”فہرست اول“ میں نکلتی ہے کیونکہ انقلاب کسی کا ماما‘ بھتیجا نہیں ہوتا۔ کسی بھی انقلاب کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہوتا ہے ”باقیات کی جڑوں تک بیخ کنی“۔
ہم سب تیز زبان، تیز رفتار لفظوں کے کھلاڑی ہیں۔ ہم بعض الفاظ کو جوش بیاں میں استعمال کر کے تالیاں پٹوانے، واہ واہ کروانے کو ہی بس انقلاب، تبدیلی کا لبادہ پہنا کر خوش ہو رہے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ جس دن ”الفاظ“ کو تعبیر‘ قبولیت مل گئی تو ہمارا ٹھکانہ اپنی ہی تراشیدہ لفظوں کی دنیا میں تو نہیں ہو گا۔ اس لئے انقلاب مت لائیں۔ (ویسے بھی انقلاب لایا نہیں جاتا بلکہ خود بخود آتا اور روندتا چلا جاتا ہے) صرف عام آدمی کو روزگار، سماجی انصاف اور عزت نفس دلا دیں۔ عام آدمی کو بدامنی معاشی ناانصافی دھماکوں، انتظار اور سب سے بڑھ کر ہماری سوسائٹی کو تقسیم کرنے کا باعث بننے والے مادر پدر آزاد میڈیا، ٹاک شوز سے نجات دلا دیں۔
امن اور مفاہمت کا قیام ہی ہمارا انقلاب ہو گا۔ مسائل کی گھمبیرتا ختم کرنے کے لئے کسی قابل قبول‘ قابل عمل حل پر تمام مکتبہ فکر کی آمادگی زیادہ ضروری ہے نہ کہ بلاوجہ نت نئے مسائل کو چنگاری دکھانا، پے در پے بحران پیدا کرنا۔ حقیقی تبدیلی صرف رائے دہندگان کا صحیح چناﺅ ہوتا ہے۔ اس کو حاصل کرنے کےلئے الیکشن کمشنر کو پولنگ کےلئے حالات سازگار رکھنے کےلئے اسلحہ پر پابندی لگانے کے علاوہ سرکاری وسائل، حیثیت کے استعمال پر بھی پابندی لگا دینی چاہئے۔ صحیح آزادانہ ماحول ہی صحیح چناﺅ کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اسلئے یقینا ہم سب ”الیکشن کمشنر“ کی پشت پر کھڑے ہونگے۔ ”الطاف حسین“ کو سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد سینکڑوں کالز موصول ہوئیں۔ اکثریت کا خیال تھا کہ لندن میں چونکہ اچھی خبریں گردش نہیں کر رہیں۔ اس لئے محفوظ پناہ گاہ کی خاطر یہ ”لندن ملاقات“ کا نتیجہ ہے مگر میں سمجھتی ہوں کہ سب لوگ ہمارے ہیں۔ اپنے ادارے ہیں سب کی عزت، تکریم ہم پر فرض ہے۔ ”سپریم کورٹ“ عصر موجودہ کی محافظ، مجاہدہ کورٹ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ قابل احترام جج حضرات یونہی راہ مستقیم پر گامزن رہیں۔ آمین! ہمارے قائدین بھی قوم کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کے قابل ہو جائیں۔ آمین!