یوم عاشور، سقوط ڈھاکہ اور آج کا المیہ

صحافی  |  عطاء الرحمن

آج دس محرم ہے، یوم عاشور ہے، نواسہ رسول حضرت حسینؓ اور ان کے افراد کنبہ کی جانب سے اقتدار کے مرکز برخلافت کا خاتمہ کر کے مسلمانوں کی تاریخ میں ملوکیت کا آغاز کرنے والی سیاسی طاقت یعنی یزیذ کی حکمرانی سے ٹکرا جانے کی یاد منائی جا رہی ہے۔ ہر سو ان کی بے مثال قربانیوں کا چرچا فضاؤں میں بلند ہو رہا ہے۔ کل سولہ دسمبر تھا۔ سقوط ڈھاکہ کی انتالیسویں برسی تھی، دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ فوجیوں کی بھرپور جنگ لڑے بغیر دشمن کی فوج کے آگے ہتھیار پھینک دینے اور ملک کا آدھا حصہ گنوا دینے کی تلخ ترین یاد بھی قومی حافظے سے منٹ نہیں پا رہی۔ حضرت حسینؓ نے جس شہادت کو گلے لگایا تھا امر ہو گئے تھے، اصولاً اسلام کا پرچم بلند کیا تھا حق حکمرانی اور اقتدار پر باطل کے قبضے میں فرق کو واضح کیا تھا، خلافت کے پاکیزہ تصور کو ملوکیت سے جدا کر کے رکھ دیا تھا۔
اس مقصد کے لئے اپنی اور ساتھیوں کی زندگیوں کی پرواہ نہ کی تھی، مظلومیت کے عالم میں خدا کی راہ میں قربان ہو گئے تھے اس مثالی نے انہیں نہ صرف تاریخ اسلام کا عظیم ہیرو بنا دیا بلکہ دنیائے انسانیت کے پانچ ہزار سالہ معلوم … کے ان عظیم المرتبت مروان حریت کی صف میں نمایاں جگہ پا گئے جن میں سقراط اور مسیح علیہ السلام روشنیوں کا مینار بن کر کھڑے ہیں۔ سولہ دسمبر 1971ء کو ہمارے بدفطرت حکمرانوں نے جس غیر آئینی اور غیر جمہوری اقتدار کے نشے میں پاکستانی قوم کو خطرناک دوراہے پر لا کھڑا کیا اس کا جو انجام ہوا۔ قائداعظمؒ کا پاکستان دولخت ہوا ایک حصہ بنگلہ دیش بن گیا دوسرے کی حالت نہیں سدھر رہی۔ اس سے جو مثال قائم ہوئی سو ہوئی سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ابھی تک سبق نہیں سیکھا گیا۔ دو مارشل لاء اس کے بعد بھی ہمارا مقدر بنے۔ امریکہ کے غلام تب تھے اب بھی ہیں، اقتصادی میدان میں غیر ملکی محتاجی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بیرونی قرضوں کے بغیر ایک سال کا بجٹ نہیں بنا سکتے نئے قرض دینے والوں کے اصرار پر نئے ٹیکس لگانے پر زور ہے پرانے اکٹھے نہیں ہو رہے۔ بدعنوانی کا یہ عالم ہے کہ اندرون ملک لوگ کیا دنیا پکار اٹھی ہے اس قدر کرپٹ حکمران کسی قوم کو کاہے کو ملے ہوں گے۔آج جو ہر سو شہیدان کربلا پر کئے جانے والے مظالم کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، جلوس نکل رہے ہیں، ماتم کی محفلیں بپا ہیں، درودوسلام کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ان کی یاد میں آہ و بکا کی جا رہی ہے۔ نذرونیازیں تقسیم کی جا رہی ہیں، واعظ حضرات ان واقعات کا منظر باندھ کر دلوں کو تڑپا رہے ہیں روح گرما رہے ہیں۔ میں خدائے وحدہ لاشریک اور اس کے فرشتوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اگر ہم نے ان عظیم انسانوں کی مثال سے ایک فیصد سبق بھی حاصل کر لیا ہوتا اپنے نظام حکومت کو اسلام کے سکھائے اور انسانیت کے بتائے ہوئے اصولوں پر اپنے نظام حکومت کو استوار کر لیا ہوتا تو سقوط ڈھاکہ کا شرم ناک ترین المیہ رونما نہ ہوا۔ ہماری اتنی زیادہ فوج کو بھارتی کمانڈر کے سامنے ہتھیار پھینکنے کی ہزیمت برداشت نہ کرنا پڑتی تب بھی جنرل یحییٰ نامی آرمی چیف کو جو ناجائز طور پر صدر پاکستان بن بیٹھا تھا، امریکہ پر بہت انحصار تھا وہ مدد کو آئے گا اس کا ساتواں بحری بیڑہ کسی کو نظر نہ آیا۔ وائٹ ہاؤس میں صدر نکسن نے کہ یحییٰ خان کو اپنا ذاتی دوست کہتا تھا اپنے وزیر خارجہ ولیم زحرز سے بات کرتے ہوئے کہا ان کا مشرقی بازو تو علیحدہ ہو جائے گا لیکن پاکستانی فوج آگے بڑھے تو کشمیر پر قبضہ کر سکتی ہے ۔ ’’اس سے ایک نیا توازن وجود میں آ جائے گا۔‘‘ ہمارے سپوتوں سے یہ بھی نہ ہو سکا۔ مشرقی پاکستان چھین لیا گیا کشمیر ہاتھ نہ آیا۔اس وقت اگرچہ ملک خداداد پر فوجی راج نہیں آئین کی بظاہر عملداری ہے لیکن ہم نے حکومتی ایوانوں کے اندر جو گند پھیلا رکھا ہے اس کے تعفن سے دم گھٹتا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت ہے اس نے پارلیمنٹ میں قطعی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے کچھ چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کر رکھا ہے یہ اتحاد کیا ہے جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے۔ سرعام ایک دوسرے کو گالیاں دی جا رہی ہیں ایسے ایسے الزامات کا تبادلہ ہو رہا ہے کہ خدا کی پناہ۔ شکسپئر نے کہا تھا \\\"AbHouse Devided Afaitnshatered\\\" کہ ان کے اندر سخت انتشار وافتراق ہے ان کا یقین ریزہ ریزہ ہو چکا ہے۔ ان کے پاس ایمان کی دولت ہے نہ یہ اتفاق کی برکتوں سے مستفید ہو رہے ہیں کیا سندھ کے وزیراعلیٰ ذوالفقار مرزا کے الزامات درست ہیں جن سے ایم کیو ایم انکار نہیں کر سکی۔ اس کے ترجمان نے صرف اتنا کہا ہے وصاحت کرے یہ زرداری گیلانی حکومت کے خیالات ہیں یا ذوالفقار مرزا کی ذاتی رائے۔ یہ جو کچھ بھی ہے اگر ان میں شمر برابر صداقت پائی جاتی ہے تو مطلب ہے کہ سندھ کے نہایت درجہ امن پسند عوام پر ا… دہشت گردی کے مختلف الخیال گروہوں کی حکومت ہے۔ جو سرے عام ایک دوسرے کا گلا کاٹتے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں۔
فساد فی الارض کے علمبردار بنے ہوئے ہیں کیا ہمیں اپنی زبانوں سے حضرت حسینؓ اور ان کے پاکیزہ ساتھیوں کا نام لینا زیب دیتا ہے۔ ہم اپنے ساتھ منافقت کیوں کر رہے ہیں۔ آج یوم عاشور ہے، سقوط ڈھاکہ کی یادیں بھی تازہ ہیں اگر ہم اپنی منافقت کی جڑوں کو تلاش کر کے انہیں اکھاڑ پھینکیں تو ایک کامیاب قوم کے سفر کا آغاز کر سکتے ہیں۔