چادر اتارنے سے چادر اوڑھانے تک!

کالم نگار  |  توفیق بٹ

چورہ شریف کے سجادہ نشین پیر سید کبیر علی شاہ کی ’’چادر اوڑھ تحریک‘‘ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ اللہ کرے پیر صاحب کی ’’چادر اوڑھ تحریک‘‘ اس وقت تک جاری و ساری رہے جب تک وطن عزیر کی ہر عورت سر ڈھانپنے کے عمل کو مذہبی و اخلاقی فریضہ سمجھ کر دل و جان سے قبول نہ کرے۔ اب تو گزشتہ روز لاہور کے ایک مہنگے ترین ہسپتال کی لابی میں کچھ مردوں کے درمیان گھری ہوئی ایک خاتون نے اذان کی آواز سنائی دینے پر سر ڈھانپ لیا اور اذان ختم ہوتے ہی اس کا سر پھر ننگا ہو گیا تو پاس بیٹھے ایک بزرگ نے عرض کیا ’’بہن جی مسلمان عورتوں کو صرف اذان کے وقت ہی سر نہیں ڈھانپ لینا چاہیے کہ عورت کا اصل زیور شرم و حیا ہوتا ہے اور یہ ایسا زیور نہیں جسے صرف اذان کے وقت ہی پہنا جائے‘‘…وہ کوئی اچھی خاتون تھی جو بزرگ کی بات سن کر احتراماً خاموش رہی ورنہ کچھ خواتین آجکل بزرگوں کی ایسی باتوں کو دل پر لگا لیتی ہیں اور ہم تو اس پر بھی اللہ کے شکر گزار ہیں کہ ’’مشرفی عذاب‘‘ اس ملک سے صرف نو برسوں میں ہی ٹل گیا ورنہ روشن خیالی کا کلچر اس انداز میں فروغ پا رہا تھا کہ عورتوں کو اذان کے وقت دوپٹہ اوڑھتے ہوئے بھی شرم سی محسوس ہونے لگی تھی کہ کہیں اس طرح انہیں’’دقیا نوسی‘‘ سمجھ کر معاشرہ دھتکارنے ہی نہ لگ جائے۔ ویسے وہ بھی کیا دن تھے جب ’’چھلکائے جام ٹائپ حکمران اور افسران ملک کو ’’میکدے‘‘ میں تبدیل کرنے کے جذبے سے اس قدر سرشار تھے کہ جس محفل میں جام نہ ہوتا وہ جم کر بیٹھ ہی نہیں سکتے تھے۔ پورے معاشرے پوری دھرتی کو ننگا کرنے کا عزم لے کر حکمرانی کرنے والوں کی راہ میں ’’چادر اوڑھ تحریک‘‘ کی دیوار کھڑی کرکے پیر سید کبیر علی شاہ نے ایسا کارنامہ کیا تھا جسے اس دور کا ’’جرم‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔ ہم تو شکر ادا کرتے ہیں کہ اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں انہیں ’’دہشت گرد‘‘ قرار نہیں دے دیا گیا تھا ورنہ اس دور میں ایسے ’’جرائم‘‘ کے اکثر مرتکبین ’’دہشت گرد‘‘ ہی قرار پاتے تھے۔ ’’دور مشرفی‘‘ میں ایوان صدر سے نکلنے والی بے حیائی اس قدر عام ہوتی جا رہی تھی کہ لاہور کی ایک پارک میں جولائی کی ایک تپتی دوپہر میں پارک کے سیکورٹی گارڈ نے کونے میں چھپ کر بیٹھے روشن خیال نوجوان جوڑے کو روشن خیالی سے روکا تو انہوں نے ون فائیو پر کال کرکے پولیس بلوا لی جس نے سیکورٹی گارڈ کو یہ کہہ کر دھر لیا کہ ’’تم کارِ سرکار میں مداخلت کر رہے ہو‘‘۔ موجودہ وفاقی حکمران بے حیائی کو فروغ دینے کے بجائے ’’راشن پانی‘‘ کو فروغ دے کر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ سابقہ جرنیل حکمران سے ذرا مختلف ہیں۔ پیر سید کبیر علی شاہ فرماتے ہیں ’’آج سے پانچ برس قبل‘‘ پرویزی سوچ کے حامل ’’ایک آمر نے میراتھن ریس کا اہتمام کیا اور عورتوں کو نیکریں پہننے کی ترغیب دی تو اس موقع پر ان کے خون نے جوش مارا اور انہوں نے عریانی و فحاشی اور مغربی تہذیب کے روز بروز بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے شرم و حیا اور پاکیزگی کا بند باندھنے کے لیے اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر ’’چادر اوڑھ تحریک‘‘ کا آغاز کیا اور اب تک کم و بیش ایک لاکھ تہتر ہزار چادریں تقسیم کر چکے ہیں۔ ان میں انٹرمیڈیئٹ، ڈگری کالجز، میڈیکل کالجز، اور یونیورسٹیوں کی طالبات کی کثیر تعداد بھی شامل ہے۔ آج 10محرم الحرام کو خیابان چورہ شریف لاہور میں ایک عظیم الشان ’’چادر اوڑھ کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں دنیا بھر سے مشائخ عظام، سکالرز، دانشور اور قلم کار تشریف لا رہے ہیں۔ اس تحریک کا ’’ون پوائنٹ ایجنڈہ‘‘ ہے کہ ہم نہ تو کسی کو قوم کی بیٹیوں، بہنوں اور مائوں کے سروں سے چادریں اتارنے دیں گے اور نہ ہی زبردستی کسی کو چادریں اوڑھائیں گے۔ پیر سید کبیر علی شاہ کا خواتین کو چادریں اوڑھانے کا جذبہ قابل قدر ہے مگر ان کی خدمت میں عرض ہے اس تحریک کو اس انداز میں آگے بڑھائیں کہ معاشرے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے غیر اخلاقی رحجانات میں عملی طور پر کمی واقع ہو سکے۔
بے حیائی ختم کرنے کی تحریک دو چار لاکھ خواتین کو چادریں اوڑھا دینے سے مکمل نہیں ہو سکتی۔ بے حیائی ختم کرنے کے لیے یہ ایک علامتی عمل ضرور ہو سکتا ہے مگر وسیع پیمانے پر اس کے اثرات تبھی مرتب ہوں گے جب معاشرے کے ہر شعبے اور طبقے میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ سچا مسلمان وہی ہوتا ہے جو اپنی زندگی دینی و اخلاقی قدروں کے مطابق بسر کرے۔ پیر سید کبیر علی شاہ ایک بہت اچھے مقرر ہیں اور ان کی باتیں د ل پر اثر بھی کرتی ہیں۔ سو مجھے یقین ہے ان کا جذبہ سلامت رہا تو ایک وقت آئے گا جب عورتوں کو چادریں اوڑھانے کے لیے کسی تحریک کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہو گی اور آخر میں پیر صاحب کی خدمت میں عرض ہے اپنی چادر اوڑھ تحریک کا دائرہ گرلز کالجز کے ساتھ ساتھ کچھ ٹی وی چینلز تک بھی وسیع کریں کہ جہاں کچھ خواتین اینکرز آپے سے باہر ہوئی جاتی ہیں!