پاکستان کی رسوائی کا باعث نہ بنیں

خواجہ عبدالحکیم عامر۔۔۔۔۔
کیا انہیں پاکستانی کہنا جائز ہے جو بیرونی ممالک خاص کر بھارت میں داخل ہوتے ہی اپنی پاکستانیت ا ور ضمیر کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ پردیس میں اپنے ملک کے سفیر کی حیثیت سے داخل ہوئے ہیں۔ یہاں پر کئی گئی ان کی ایک ایک حرکت نوٹ کی جائے گی۔
آج تک کے تجربے اور مشاہدے نے بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے بھارت جانے والوں کی اکثریت نے جن میں شاعر، ادیب، صحافی اور فنکار شامل ہیں۔ پاکستان کا نام بدنام ہی کیا ہے اور اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہ دو قومی نظریے کو نہیں جانتے نہیں مانتے، پاکستان اور بھارت کو ایکبار پھر اکھنڈ بھارت کے رو پ میں دیکھنے کے متمنی ہیں، امن کی آشا کے روپ میں اپنے دلوں دماغوں میں مذموم عزائم لئے ہوئے ہیں۔ وہ بھارت میں جا کر ایسی ایسی حرکتیں کر گزرتے ہیں جنہیں دیکھنے اور سننے کے بعد قائدؒ کی روح یقیناً تڑپ اٹھتی ہو گی۔ غیرت مند پاکستانی ان بے حمیتوں کے کردار اور کام پر لعنت بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن پاکستان کی ہر حکومت یہ سب کچھ دیکھ اور سن کر خاموش رہی ہے اور یہ امر کسی المیہ سے کم نہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کو دولخت کرنے والے بھارت نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا ہے کہ ہم پاکستانیوں پر ثقافتی یلغار کر کے ان کے دل جیتیں گے اور پھر وہ یہ کہنے اور سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ تقسیم ہند غلط تھی، پاکستان کا بنانا ایک غلطی تھی، پاکستان نہیں بنناچاہئے تھا اور اکھنڈ بھارت ہی میں فلاح ہے۔
بھارتیوں نے فلمسٹار میرا سے اپنی فلم میں ایسا گھنائونا ، مکروہ اور قابل نفرت کام کروایا کہ پاکستانیت رو پڑی، ٹوٹ پھوٹ گئی خوش قسمت ہے میرا کہ سب کچھ کر گذرنے کے بعد آج تک دندنا رہی ہے۔ میرا نے بھارت میں رہ کر جو گل کھلائے ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس ضمن میں پاکستانیوں کی قوت برداشت پر آفریں ہی کہا جا سکتا ہے۔ میرا کی بے حیائیوں کے باعث پاکستانیوں کی جبینوں پر ابھی شرمندگی کے پسینے موجود ہیں کہ پاکستان کی ایک اور بے حس بے حیا اور سنگدل نام نہاد آرٹسٹ وینا ملک نے جسے پاکستان کی بیٹی کہنے اور ماننے کو دل نہیں مانتا بھارت میں وہ گل کھلا ڈالے جسے دیکھ اور سن کر دل پھٹ پڑے۔ پاکستان، قائداعظم اور اقبال سے پیار کرنے والے حکومت کی بے حسی اور خاموشی پر سراپا احتجاج ہیں۔ وینا ملک ٹی وی اور فلم کی ایک باصلاحیت فنکارہ ہو گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بھارت میں جا کر یہ ثابت کرتی پھرے کہ اس کی کوئی شناخت نہیں، اس کے وجود کے اندر پاکستانیت موجود نہیں، اس کا مذہب کوئی نہیں، بے حیائی ہی اس کا مذہب ہے۔ وینا ملک نے بھارتی سرزمین پر جو کچھ کیا اسے دھرانا مناسب نہیں البتہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا اپنا رول ادا کریں اور پاکستانیت کو ملیا میٹ کرنے والوں کا ایسا محاسبہ کریں کہ آئندہ کوئی میرا یا وینا ملک بھارت جا کر پاکستان اور پاکستانیوں کی رسوائی کا باعث نہ بنیں۔