ناراض رب

عارفہ صبح خان.....
پاکستان کے جو حصے بچ گئے ہیں وہاں حکمرانوں اور سیاستدانوں کے پروٹوکول نے زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔ رہی سہی کسر دہشت گردی نے نکال دی ہے۔ اس وقت پاکستان خود دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں اپنے ہی دہشت گردوں کے ہاتھوں ملک دہشت گردی کا شکار ہے۔ خودکش بم دھماکوں نے خوف وہراس اور ماتمی فضاء قائم کر رکھی ہے اس کے بعد جو تھوڑی بہت پاکستانیوں میں سانسوں کی رمق باقی ہے اسے مہنگائی، بیروزگاری غربت اور افلاس ختم کرنے کے درپے ہے۔ ایک اپنے آقا امریکہ کی ناراضگی سے بچنے کے لئے ہمارے حکمران اور سیاستدان کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں اور اپنے رب کی ناراضگی سے نہیں ڈرتے جو سب آقاؤں کا آقا ہے۔ اصلی ناراض رب کو نہیں مناتے کہ سارے مسئلے حل ہوں اور پائیدار اقتدار ہاتھ لگے۔ مگر ناراض رب کو منانے کے لئے منافقتوں، حرص طمع، جھوٹ، بہتان اور ظلم سے ہاتھ کھینچنا پڑتا ہے اور انسانیت کے درجے پر آنا پڑتا ہے۔ عوام کو ان کے حقوق دینے پڑتے ہیں۔ خلفائے راشدینؓ کی سی سادگی اور استقامت دکھانی پڑتی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی طرح خالی گھر اور اللہ رسولؐ کے نام کے ساتھ زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کی طرح بہادر جفاکش، حوصلہ مند، ایماندار اور ایثار پسند بننا پڑتا ہے تب دونوں جہانوں کی دولت ہاتھ آتی ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ بھیس بدل کر راتوں کو اٹھ اٹھ کر رعایا کے دکھ سکھ جاننے کیلئے گشت کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے پاس دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ اور شہنشاہ پیغامات بھجواتے اور ملنے آتے لیکن آپ نے انہیں مرعوب کرنے کیلئے کبھی خلعت فاخرانہ زیب تن نہیں کی۔ بڑے بڑے محلات، لمبی بڑی لش لش کرتی گاڑیاں، تھری پیس سوٹ، ٹائی اور چمچماتے جوتے اور اردگرد مشیروں حواریوں اور پروٹوکول آفیسروں کی معیت میں نکلنے کا ڈھب کھوکھلے پن کی غمازی کرتا ہے جو شخص اپنی ذات میں تنہا کمزور، بودا اور بزدل ہوتا ہے۔ اسی نے اپنے ساتھ اتنے جھمیلے لگائے ہوئے ہیں۔ ایک بہادر اولولعزم، شاہین صفت، درویش منش کو اتنے دُم چھلے لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جس میں قائدانہ صلاحیت اور شہباز کی طرح جھپٹنے اور صرف اپنا شکار پکڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کا بچا کھچا نہیں کھاتا نہ دوسروں کے گھونسلوں میں منہ مار کر مظلوم پرندوں کے انڈے کھاتا اور نہ کسی کے آگے کاسہ گدائی پھیلاتا ہے۔ اصلی شیر خود شکار کر کے کھاتا ہے اور اصلی لیڈر مانگے تانگے کی حکمرانی اور خیرات کے اقتدار کا بھوکا نہیں ہوتا کیونکہ اس کا رب اس سے راضی ہوتا ہے۔ مگر دکھ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں سے رب ناراض ہی رہا ہے کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے 63 برسوں میں رب کو ناراض کرنے والے کاموں کے سوا کیا ہی کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ امریکہ کو راضی کرنے کے بجائے رب کو راضی کر لیں۔(ختم شد)