عاشورے کے پیغام

کالم نگار  |  عامرہ احسان

محرم الحرام- حرمت اور عزت والا مہینہ سایہ فگن ہے۔نیا ہجری سال اپنے جلو میں نئے امکانات لیے چلا آ رہا ہے۔ کھربوں کہکشائوں (Galaxies) کے مالک و خالق و رب نے بے کنار کائنات کے ایک سیارے پر انسان کو آباد کیا۔ اس پر رہنے بسنے کیلئے اختیارات سونپ دیئے۔ اس اختیار کو استعمال کرنے کا سلیقہ سکھانے کو پہلے انسان سے شروع کرتے ہوئے بار بار اپنے رسول اور ہدایت نامے (صحیفے) بھیجے۔ سارا ہنگامہ اس اختیار ہی کا ہے جسے لے کر انسان آپے سے باہر ہو جاتا رہا۔ برسر زمین ہر انسانی Batch کے سارے ہنگامے اس ’اختیار‘ کے گرد گھومتے کہانیاں تخلیق کرتے رہے۔ ذی الحج کی کہانی اللہ کو الٰہٖ واحد جان کر مان کر سب کچھ اسکی چوکھٹ پر قربان کر دینے کو ہر لمحہ مستعد رہنے کی داستان تھی۔ جس سبق کو پکا کرنے پروانہ وار دنیا بھر سے اہل ایمان عازم سفر ہوئے۔ یہاں بھی دیکھیے تو اختیار کے ہنگامے اور فساد کتنے ہماری وزارت حج اسی اختیار و اقتدار کے ہاتھوں حاجیوں کو ذبیحؑ اللہ، (اسماعیل علیہ السلام) کے چھری تلے آنے کا منظر ہی پکا کروانے کے درپے رہی! محرّم ہمیں دو کہانیاں سناتا ہے۔ عاشورے کے متبرک دن، پہلی کہانی کلیم اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح یابی اور فرعون کی غرقابی کی داستان ہے جو ہمیں پکار پکار کر کہتی ہے۔…ع
مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی
اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگِ ’لاتخف‘
دوسری کہانی سیدنا امام حسینؓ کی اپنے مقدس خون سے ثبت کردہ اس گواہی کی کہانی ہے کہ ’زمین اللہ کی ہے اس پر حکم اللہ کا نافذ ہو گا‘ - اور ’مخلوق اللہ کی ہے اس پر حکمرانی بھی صرف اللہ کی ہو گی‘ - تینوں داستانیں عشق کی چوکھٹ پر عقل قربان کر دینے کی داستانیں ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ تنہا ہیں لیکن کفر کے مقابل اللہ انہیں ایک امت قرار دیتا ہے۔ حضرت موسیٰؑ فرعون کو للکار رہے ہیں۔ نہ کوئی لائو لشکر ہے نہ قوت و اقتدار۔ لیکن حاصل اس کا بھی یہی ہے۔
صحبتِ پیر روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب ایک کلیمؑ سر بکف
اور پھر دنیا نے وہ منظر دیکھا عاشورے کے دن کہ فرعون اور آل فرعون اپنے پورے جاہ و حشم کیساتھ ڈبو دیئے گئے۔ ’’نہ آسمان ان پر رویا نہ زمین!‘‘ (افغانوں نے یہ کہانی از بر کر لی۔ ’لاتخف‘ اور ’سربکف کی‘ لہٰذا فرعون دوراں انکے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے) ۔ عاشورے کے دن عشق نے داستان حرم کو ایک مرتبہ پھر 61ہجری میں رنگین کر دیا سید نا حسینؓ کی صورت:
صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق
صبر حسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں
بدر و حنین بھی ہے عشق!
ہم ان تمام داستانوں کے وارث ہیں‘ ہماری زمین کا چاند پلٹ پلٹ کر ماہ بہ ماہ ہماری تربیت کرتا ہے۔ یہ معرکے ہر انسانی گروہ Batch کو درپیش رہتے ہیں‘ لہٰذا شاندار نمونہ ہائے عمل ہمارے سامنے رکھ دیئے گئے۔ ہر کہانی کامیابیوں، کامرانیوں کی ایک نئی شرح ہمارے سامنے رکھتی ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں! سیدنا حسینؓ کی اقتدأ میں دیوانہ وار اٹھ اٹھ کر دین حق پر نثار ہو جانے والوں کا جو تانتا بندھا ہے تو وہ ٹیپو سلطان، سراج الدولہ، سید احمد شہید، غازی عبدالرشید تک پہنچتا ہے۔ کشمیر کے مرغزاروں میں ہندو کو ناکوں چنے چبواتا ہے۔ مٹھی بھر مجاہدین بمقابل سات لاکھ فوج۔ عراق میں، افغانستان میں دنیا بھر کی فوجوں کے مقابل بے سرو سامان لشکریوں سے محیّرا لعقول فتح کے ابواب رقم کرواتا ہے۔ غزہ میں کبوتر کے تن نازک میں شاہین کا جگر پیدا کرتا ہے۔ 61 ہجری سے 1432 ہجری کے ظہور تک اور اس سے پہلے بھی اسلامی تاریخ کے ہر صفحے پر شہداء کے خون کے چھینٹے ہیں۔ دین حق پر ہر مر مٹنے والے نے اپنے خون سے عظمت قرآن و عشق رسول ؐ کی گواہی یہ کہتے ہوئے دی ہے کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا، بس یہی وہ دیوانگی ہے جو کفر پر خوف سے لرزہ طاری کرتی ہے۔ افغانستان کے پہاڑوں پر امریکی، خوف زدہ ہو کر چلاتے ہیں، پاگل ہو جاتے ہیں ۔ سعدؓ بن ابی وقاص کے بیٹوں کو دیکھ کر کل کی طرح آج بھی پوری دنیا دیوان آمد ند، (دیو آگئے۔ اسلامی لشکر کو دجلہ میں گھوڑے دوڑاتے دیکھ کر خوف زدہ ایرانیوں کی پکار) ضرب کلیمؑ اور صبر حسینؓ کی تربیت والے مجاہدین عظام ہیں۔ خواہ وہ کسی بھی معرکہ کار زار میں ہوں۔ آج ہم کتنے بے شمار حسینؓ کرب و بلا کی گھاٹیوں کی نذر کر چکے۔ کتنے بے شمار سر امریکہ کی چوکھٹ پر قربان کر چکے‘ وہ سر جو صرف اللہ کے در پر سجدہ ریز ہونے کا ذوق رکھتے تھے انہیں ہم نے تہ تیغ کرنے میں کوئی کمی روا نہ رکھی۔ اہل کوفہ کی تو صرف تلواریں یزید کیساتھ لیکن دل سیدنا حسینؓ کیساتھ تھے‘ ہماری تو تلواریں اور دل دونوں امریکہ کیساتھ ہیں بلکہ مسلمان کا عیسائی ہو جانا اگر اتنا معیوب نہ جانا جاتا تو شاید فرنگی کی محبت کے اسیر باضابطہ مسیحیت قبول کر چکے ہوتے۔ آسیہ کیس میں 295-C ختم کرنیکی بے تابیاں تو ملاحظہ فرمائیے۔ اپنی ہتک عزت پر کروڑوں کے دعوے دائر کرنیوالے اور استحقاق مجروح ہونے کے احتجاجی ہنگامے کھڑے کرنیوالے اس ایک ناموسؐ سے (فداہ امی وابی) ہی کیلئے اندھے، گونگے، بہرے بن گئے کہ ’جس نامؐ سے ہے باقی آرام جاں ہمارا‘۔ جن مفادات کی خاطر ایمان بیچ کر کفر کی صفوں میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ قوم اس اعتبار سے موت کا سامنا کر رہی ہے کہ آج قحط الرجال کا وہ عالم ہے کہ ڈھونڈے سے لائق قیادت دور دور کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ یہ قحط النساء ہی کا شاخسانہ ہے۔ سمندر کا سا عالم ہے کہ موج در موج پانی ہے لیکن پینے کو قطرہ میسر نہیں۔ گھروں میں فاطمہؓ، ہونا تو دور کی بات ہے۔ ایک خالص نسوانی عورت تک عنقا ہوتی جا رہی ہے۔ مرد نما کیریئر، تعلیم سے آراستہ لڑتی بحثتی خاتون ہے۔ (یا بیوٹی پارلر سے سجنے والے مرد ہیں عورت نما، برتن دھوتے بچے پالتے!) ترقی کی منزلیں تو ساری سر ہو گئیں۔ ایسے میں محرم، مرثیے نوحے کا مہینہ ہی رہ جائیگا! بادشاہت کی بھینٹ چڑھنے سے خلافت کو بچانے کی خاطر دی جانیوالی شہادت کی سعادت کو کون جانے گا! کون سمجھے گا! اگر اس ماہ مبارک سے کچھ زاد راہ لینا ہے تو مغرب کی دست بُرد سے، اسکے خوشنما دھوکے سے عورت کو بچا کر اسوۂ فاطمہؓ پڑھانا ہو گا۔ محرم حضرت فاطمہؓ کا مہینہ ہے! افغان سادہ بدویہ عورت نے اپنے حسینؓ پیش کر دیئے اور چالیس کافر ممالک کی قوت کو زیر کر دکھایا۔ ہم نے قوم کو کیا دیا؟ وکی لیکس سے پوچھ لیجئے۔ ہم نے حسینؓ ہائے امت پر عقوبت خانوں، آپریشنوں کے سارے دروازے کھول دیئے ۔! رونا ہے تو اپنے ہاتھوں اپنی دنیا (پاکستان) اور آخرت اجاڑنے پر روئیے! سیدنا حسینؓ تو زندہ ہیں۔ ہر گز نہ نمیردآں کہ دلش زندہ شُد بعشق- اُن پر کیسا رونا!