شہادت حضرت امام حسینؓ کے تقاضے

واقعہ کربلا حق اور باطل کا ایک ایسا معرکہ ہے جس کی مثال اسلامی تاریخ تو کیا انسانیت کی تاریخ میں بھی نہیں ملتی حضرت امام حسینؓ کا مقصد جنگ کرنا تھا نہ حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینا۔ چونکہ کنبے کے 18 نفوس سمیت 72 افراد جن میں عورتیں، بچے اور بوڑھے سب شامل تھے۔ جنگ کرنے کے ارادے سے گھر سے باہر نہیں نکلے تھے۔ نہ ہی کسی موقعہ پر بھی حضرت امام حسینؓ نے لوگوں کو یہ اپیل کی کہ وہ جنگ کی غرض سے اُنکے جھنڈے تلے اکٹھے ہوں۔ اُنکے ذہن میں چند قلیل المیعاد اور طویل المیعاد مقاصد تھے جن کو وہ پورا کرنے کیلئے حق کی آواز بلند کرتے رہتے تھے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ ملک کے سیاسی اور انتظامی نظام کو ایک ایسے سانچے میں ڈھالا جائے جو قرآن و سنت کی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہو۔ لوگوں کے اندر اتنی سیاسی بیداری آجائے کہ وہ خلیفہ وقت کو بھی شریعت کے قوانین کو پامال کرنے سے روک سکیں۔ مسلم امہ اسلامی تعلیمات سے مکمل آشنائی حاصل کر لے اور حاکم وہ ہو جو صدیق اکبرکا لقب حاصل کرنے والے حضرت ابو بکر صدیقؓ کی طرح یہ کہے کہ میری وہ بات مانو جو حق کی بات ہو۔ اور اگر میں اللہ کی راہ سے ہٹوں تو آپ میری اطاعت چھوڑ دیں۔ مسلم امہ کے اندر جو حاکموں کی دہشت تھی وہ ختم کر دی جائے۔ جب یزید نے اپنے والد حضرت معاویہؓ کے بعد حکومت سنبھالی تو اس کو پتہ تھا کہ سلطنت پر مکمل عبور اس وقت تک ممکن نہیں تھا جب تک حضرت امام حسینؓ کا مکمل تعاون اور حمائت حاصل نہ ہو جائے اس لئے یزید چاہتا تھا کہ حضرت امام حسینؓ اسکے ہاتھ پر بیعت کر لیں لیکن امام عالی مقام اس سے بالکل انکاری تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یزید نے حضرت امام حسینؓ اور اُن کے کنبے کے سارے بے گناہ اور معصوم افراد کی جان لینے کا مکروہ منصوبہ بنایا اور پھر اس پر نہائت بے دردی سے عمل بھی کر ڈالا اصول پرستی اور حق کی سربلندی کیلئے یہ حضرت امام حسینؓ کی اتنی عظیم قربانی تھی جس کی انسانیت کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی حضرت امام حسینؓ جیسا قائد نہ پہلے کوئی تھا اور نہ اُن کے بعد کوئی آئیگا وہ ہمارے پیارے نبیﷺ کے ایسے پیارے اور لاڈلے نواسے تھے کہ نبی کریمؐ کے نماز میں سجدے کی حالت میں اگر حضرت امام حسینؓ اُن کی پیٹھ مبارک پر سوار ہو جاتے تو نبی کریمؐ اللہ تعالیٰ کے حضور اس وقت تک سربسجود رہتے جب تک حضرت امام حسینؓ اُن کی پیٹھ پر سے نہ اتر جاتے۔ نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ امام حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں۔ قارئین اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امام حسینؓ اور اُنکے کنبے کے افراد اور ساتھیوں نے ظلم اور کفر کے مقابلے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا لیکن اپنا سر نہیں جھکایا۔ یہی وجہ ہے کہ اُنکی شہادت کے کچھ عرصے بعد ہی امیہ خاندانکی حکومت ہزیمت کا شکار ہو گئی اور آج ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی حضرت امام حسینؓ کی قربانی اور جرأت پوری کائنات کیلئے ایک مشعل راہ ہے۔ علی بن حسینؓ نے کہا تھا کہ ’’اگر ہم حق پر ہیں تو موت سے ڈر کیسا‘‘ اسی طرح قاسم بن حسنؐ نے کہا تھا۔ ’’موت ہمارے لئے شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے‘‘
سمجھنے والی بات یہ ہے کہ حضرت امام حسینؓ نے اللہ کی راہ میں اپنی جان کا صدقہ دیا وہ ظلم کے خلاف اسلام کیلئے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے جابر حکمرانوں کے سامنے کھڑے ہو کر کلمہ حق کہا اور اگرچہ حضرت امام حسینؓ اور اُنکے کنبے کے 18 افراد سمیت 72 ساتھیوں کو بے دردی سے تہ تیغ کر دیا گیا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ شہادت کا جام نوش کر کے وہ ہمیشہ کیلئے زندہ ہو گئے
قتلِ حُسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
حضرت امام حسینؓ کی یہ عظیم قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق باطل پر ہمیشہ حاوی ہو جاتا ہے۔ مسلم دنیا کے ایک بہت بڑے مذہبی رہنما امام خمینی نے 20 جون 1982ء کو قم اور تہران سے آئے ہوئے لوگوں کے ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ ’’میں آپ کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ عاشورہ کی مجالس اور ماتمی جلوسوں کی اصل اہمیت کا آپ میں سے بہت کم لوگوں کو صحیح ادراک ہے اور کچھ لوگ تو بالکل ناسمجھ ہیں۔ روایات کیمطابق آنسو بہانے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت امام حسینؓ کو ہمارے آنسوئوں کی ضرورت ہے‘‘ مطلب یہ کہ رونے دھونے اور روائتی تقریبات سے ہٹ کر حضرت امام حسینؓ کے کردار کو اپنانے کی کوشش کی جائے۔
بہت سے دانشوروں اور عالمِ دین کا یہ خیال ہے کہ محرم کے مہینے میں حضرت امام حسینؓ اور اُن کے کنبے کی عظیم ترین قربانی کی یاد میں مجالس اور سیمینارز تو ضرور ہونے چاہئیں لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس عظیم قربانی سے ہم نے صبر، استقامت، جرات اور اصول پرستی کے جو اسباق حاصل کئے ہیں اُن پر عمل کرنے کے عہد کی نہ صرف تجدید کی جائے بلکہ عملی طور پر اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پاکیزہ طریقے سے گزارا جائے اور محرم کے مہینے میں اپنی روحانی طہارت کیلئے بندگی پر زیادہ وقت صرف کیا جائے۔ یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ \\\"The tyrant ظالم حاکم کی موت کیساتھ اس کی حکمرانی کا خاتمہ ہو جاتا ہے لیکن اللہ کی راہ میں حق کیلئے جان دینے والے کی لوگوں کے دلوں میں اصلی حکومت تب شروع ہوتی ہے جب وہ جام شہادت نوش کرتا ہے 10 محرم بروز جمعہ 61 ہجری کو اللہ کو پیارے ہو جانے والے حضرت امام حسینؓ اور ان کے 72 ساتھیوں نے دراصل اس دن اپنی ابدی زندگی کا سفر شروع کیا۔ خواجہ معین الدین چشتی ؒنے فرمایا تھا…؎
شاہ است حسینؓ پادشاہ است حسینؓ
دین است حُسینؓ دینِ پناہ است حسینؓ
یعنی حسینؓ شہزادہ ہے اور حُسینؓ بادشاہ ہے۔ وہ خود دین بھی ہے اور دین کا دفاع کرنے والا بھی۔
ویسے تو کربلا کے اس واقعے نے انسانیت کیلئے اللہ سے ڈرنے، حق پر قائم رہنے، اصولوں کا سودا نہ کرنے اور جرأت و بہادری کے بہت سے اسباق چھوڑے ہیں لیکن سب سے اہمیت کی حامل بات یہ ہے کہ اس شہادت نے ہر طبقہ فکر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا ہے اسی لئے تو کہا جاتا ہے ’’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘۔ حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی پر یقین رکھنے والے ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ یوم عاشورہ پر بندگی کرنے کے علاوہ مسلمانوں کی صفوں سے خونی فرقہ پرستی کی لعنت کو ختم کرنے اور مسلمان بھائیوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کیلئے عملی جدوجہد کرنے کا حلف لے۔ بین الاقوامی سطح پر اس سلسلے میں سعودی عریبیہ، ایران، پاکستان، ترکی، افغانستان اور مصر جیسے ممالک کی قیادت کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے اس سے نبی کریمؐ اور حضرت امام حسینؓ کی روحیں خوش ہونگی اور حضرت امام حسینؓ کیلئے یہی بہترین خراج عقیدت ہوگا اور یہی شہادتِ حضرت امام حسینؓ کا تقاضا بھی ہے۔