حُسینیت کا پیغام کیا ہے؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر حسین احمدپراچہ

دسویں محرم 61 ھجری کی صبح کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، نے اپنے جواں سال فرزند ارجمند علی اکبر کو اذانِ صبح کا حکم دیا، جس کے بعد امام عالی مقام نے اپنے تمام ساتھیوں کیساتھ صبح کی نماز باجماعت ادا کی۔ ابھی نماز تمام ہی ہوئی تھی کہ دشمنوں کی طرف سے ایسی ہولناک تیروں کی بارش ہوئی کہ امام کے متعدد جاں نثار شہید ہو گئے اور باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو گیا۔ تاریخ میں اس شان سے لڑی جانیوالے جنگ کی مثال کہاں ملتی ہو گی۔ ایک طرف لشکر جرار دوسری طرف 72 انسانوں کی مختصر جماعت جس میں چھوٹے بڑے سب شامل تھے۔ اس مختصر جماعت نے تین دن کی بھوک پیاس میں ٹڈی دل لشکر کا مردانہ وار سامنا کیا لیکن یہ مختصر جماعت اس پرشور لشکر کا کب تک مقابلہ کرتی۔ چنانچہ آپکے یہ جاں نثار ایک ایک کر کے درجۂ شہادت پر فائز ہوتے گئے۔ پھر آپکے قریبی رشتہ داروں نے آپکی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔ سب سے آخر میں چھ ماہ کا علی اصغر بھی درجۂ شہادت پر فائز ہو گیا۔ دشمنوں نے ہر طرف سے امام عالی مقام کا محاصرہ کر لیا کوئی تلوار کے زخم لگاتا، کوئی نیزہ مارتا، کوئی تیر چلاتا رہا۔ اس دوران سنگدل ظالموں کے دل میں یہ خیال تک نہ آیا کہ وہ یہ ظلم جس ہستی پر ڈھا رہے ہیں وہ نواسۂ رسولؐ ہیں اور راکبِ جوش مصطفٰیؐ ہیں۔ سب سے آخر میں میدان کربلا میں امام عالی مقام نے جام شہادت نوش کیا۔ ہر سال کروڑوں مسلمان شیعہ بھی اور سنی بھی امام حسینؓ کی شہادت پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان غمگساروں میں بہت ہی کم اُس عظیم مقصد کی طرف توجہ کرتے ہیں جس مقصد کی خاطر امام عالی مقام نے اتنی بڑی قربانی دی اور اپنے ساتھ اپنے اہلِ خاندان کو بھی کٹوا دیا۔ اپنے اہلِ خاندان کی دردناک اور المناک شہادت پر اظہار افسوس کرنا عین فطری ہے اور اس خانوادے سے عقیدت و محبت رکھنے والوں کا اس غم میں شامل ہونا اُنکی محبت کی دلیل ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ مقصدِ عظیم کیا تھا جس کیلئے امام عالی مقام نے اپنی اور اپنے پیاروں کی جان کی کوئی پروا نہ کی اور مقتل کربلا میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔ بعض لوگ یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ امام حسینؓ نے اقتدار کے حصول کیلئے سفرِ کربلا اختیار کیا۔ امام عالی مقام کی بلند اخلاقی سیرت کا مطالعہ کرنیوالے اچھی طرح جانتے ہیں کہ آخرت کو دنیا پر ہزار بار ترجیح دینے والے نواسۂ رسول ؐ کبھی اقتدار کی خاطر مسلمانوں کے درمیاں خونریزی نہیں کروا سکتے تھے اور اگر یہ نظریۂ اقتدار درست بھی مان لیا جائے تو پھر اس نظریے والوں کی آنکھوں سے خلافتِ راشدہ ؓ کی چالیس سالہ تاریخ کیوں اوجھل رہتی ہے کہ جس عرصے میں اس خانوادے نے حصول اقتدار کیلئے کبھی کشت و خون کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
پھر وہ کیا تبدیلی تھی جس کیلئے امام عالی مقام نے اتنی عظیم قربانی دی۔ 71 ھجری میں بظاہر حکومتی معاملات و انتظامات اسی طرح چل رہے تھے جیسے خلافت راشدہؓ کے دور میں چل رہے تھے۔ عدالتیں بھی قرآن و سنت کیمطابق فیصلے دے رہی تھیں۔ دین نہیں بدلا تھا، قرآن نہیں بدلا تھا، مملکت کا قانون نہیں بدلا تھا۔ جہاں تک یزید کا تعلق ہے تو اسکی شخصیت کا برے سے برا تصور بھی اگر پیش نظر رہے تب بھی امام عالی مقام جیسی دینی و شرعی شعور سے معمور ہستی درست نظام میں ایک برے شخص کے آنے پر اتنے بڑے ردعمل کا اظہار نہیں کر سکتی تھی۔ ہمیں زیادہ توجہ اس بات پر مرکوز رکھنی چاہئے کہ وہ بنیادی تبدیلی کیا تھا جس نے امام عالی مقام سے راتوں کی نیند اور دنوں کا چین چھین لیا تھا۔ تاریخ اسلام کا گہرا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ یزید کی ولی عہدی اور پھر اسکی تخت نشینی سے دراصل اسلامی ریاست کے دستور اور اسکے مزاج میں بہت بنیادی تبدیلی آ رہی تھی۔ بقول سید ابوالاعلیٰ مودودی ’’ایک صاحبِ نظر آدمی گاڑی کا رخ تبدیل ہوتے ہی یہ جان سکتا ہے کہ اب راستہ بدل رہا ہے اور جس راہ پر یہ مڑ رہی ہے وہ آخر کار اسے کہاں لے جائیگا۔ یہی رخ کی تبدیلی جسے امامؓ نے دیکھا اور پھر گاڑی کو صحیح پٹڑی پر ڈالنے کیلئے اپنی جان لڑا دینے کا فیصلہ کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی سربراہی میں ریاست کا جو نظام چالیس برس سے چل رہا تھا، اس میں یزید کی ولی عہدی سے بڑی بنیادی تبدیلی واقع ہو گئی۔ خلافت سے ملوکیت میں تبدیلی سے بنوامیہ، بنو عباس اور بعد کی مسلمان بادشاہتوں میں جو طرزِ حکمرانی اختیار کیا اسکا خلافت راشدہؓ کی روح سے کوئی تعلق نہ تھا۔
اس تصور حکمرانی کے تحت مسلمان خلفاء کا یہ فرض تھا کہ وہ خدا کی رعیت پر خدا کا حکم نافذ کریں لیکن یزید کی ولی عہدی سے جس انسانی بادشاہی کا مسلمانوں میں آغاز ہوا ہے اس میں خدا کی بادشاہی کا تصور صرف زبانی کلامی حد تک رہ گیا اور عملاً اس نے وہی طور طریقے اختیار کئے وہ ہمیشہ سے ہر انسانی بادشاہت کے طور طریقے رہے ہیں‘ یعنی ملک بادشاہ اور شاہی خاندان کا ہے اور وہ رعیت کی جان، مال، آبرو ہر چیز کے مالک ہیں۔ آج بھی جن اسلامی ممالک میں بادشاہتیں قائم ہیں وہاں حکومت کا عوام کیلئے دیا ہوا نعرہ ہے سب سے پہلے اللہ پھر بادشاہ اور اسکے بعد وطن۔ اللہ کا نام تو برائے تقدس موجود ہے اصل اشارہ یہ ہے کہ بادشاہ کو وطن پر بھی فوقیت حاصل ہے اور وہی سیاہ و سفید کا مالک ہے۔ آج ارضِ پاکستان کو جتنی ضرورت حسینیت کی ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ حسینیت کا پیغام یہ ہے کہ ظلم، ناانصافی اور شاہانہ و ملوکانہ استبداد کے سامنے سینہ سپر ہو جائو اور اس راستے میں اگر آپکو اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑے تو اس سے گریز نہ کرو۔