حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسینؓ

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

پاکستان نظریۂ حسین کی تجدید ہے، کیونکہ پاکستان لا الٰہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا، جمہوریت کے لئے پہلی قربانی حسین ابن علی رضی اللہ عنھما نے دی۔ انہوں نے خلافت (جمہوریت) میں ملوکیت کا پیوند نہیں لگنے دیا، اگر حسینیت کو فلسفۂ جمہوریت سے ملحق کیا جاتا تو آج مسلم امہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہوتی، حسینؓ ابن علیؓ نے معرکہ کربلا میں اس لئے شرکت نہیں کی تھی کہ وہ اپنی خلافت چاہتے تھے، مگر انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ میں کسی ایسے اقتدار کو نہیں مان سکتا جو نااہل ہونے کے ساتھ صرف اس وجہ سے مسند خلافت سنبھالے کہ وہ ایک خلیفہ کا بیٹا ہے، بلکہ جمہور مسلمانوں کی رائے اس میں شامل ہونی چاہئے، یہ وہ دور تھا جب اجل صحابہ کرامؓ موجود تھے، اور کوئی بھی دل سے یزید کی خلافت پر راضی نہ تھا، مگر طاقت کے زور پر ایک ایسے شخص کو خلیفہ بنا دیا گیا جو کسی لحاظ سے بھی اس منصب کے اہل نہ تھا، آج بھی مسلمانوں کے لئے اسوۂ شبیری جمہوریت کو زندہ رکھنے کا ایک زوردار وسیلہ ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ اس سانحہ کو محض افسوس اور غم کے قلزم میں ڈبو کر حسینیت جو ایک جمہوری مکتبِ فکر کا نام ہے، ناپید کر دیا گیا، اور اقبال یہ کہتے رہ گئے کہ؎
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
72 نفوس قدسیہ نے جان مال اور عزت کا نذرانہ دے کر درحقیقت معرکہ کربلا جیت لیا تھا، اور جو لوگ مسندِ اقتدار پر فائز ہونے دئیے گئے انہوں نے کربلا ہی پر بس نہیں کی، کربلا کے چند روز بعد ہی شہر رسولؐ مدینہ منورہ پر حملہ کر دیا، اور تاریخ بتاتی ہے، کہ یزیدی لشکر نے آمریت کے نشے میں سرشار ہو کر مدینہ منورہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، قتل و غارت کا وہ بازار گرم کیا، حسین رضی اللہ عنہ نے تو صرف اپنا فرض ادا کیا، اور آغوش نبوت میں پانے والی تربیت کی تکمیل کی، یزیدیت (آمریت) نے جو ورثہ چھوڑا اُسے عباسی آمریت نے اور آگے بڑھایا اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ سادات کرام کی نسل کو سیاسی خطرہ سمجھتے ہوئے عباسیوں نے چُن چُن کر آل نبی اولادِ علی کی نسل کشی شروع کر دی، ابن خلدون لکھتے ہیں کہ میرے قلم میں سکت نہیں کہ میں اُس 14 سالہ سید زادے کے بغداد کے چوراہے میں قتل کا منظر لکھ سکوں، اور جس منظر کو لوگوں کے ایک بڑے ہجوم نے بطور تماشا دیکھا، ظالم کے ہاتھ روکنے والا کوئی نہ تھا، سادات کرام کے اگر سیاسی مقاصد ہوتے تو وہ بڑی آسانی سے حصولِ اقتدار کے لئے مہم چلا سکتے تھے، مگر انہوں نے جہاں پناہ ملی سر چھپا لیا، اور دنیا کے اطراف و اکناف میں بکھر گئے، شہادت حسینؓ ایک فلسفہ ہے ایک حقیقت ہے، ایک نظام جمہوریت ہے جس سے رہنمائی لینے کے بجائے امت مقصدِ کربلا کو بھول گئی، اگر حسینیت کو زندہ رکھا جاتا تو تاریخ اسلام میں ملوکیت کا نشان تک نہ ملتا، آج ہی کے روز اُس پروردۂ آغوش نبوت کو بڑے ظالمانہ انداز میں تہہ تیغ کر دیا گیا، اُس کے خانوادے جوان تو کیا بچے کے حلق میں بھی پانی کی جگہ تیر اتارا گیا، فرات پر پہرہ بٹھا دیا گیا، تاکہ جس نے پوری دنیا کو علم و آگہی سے سیراب کیا اُس کے خاندان کو پانی کی بوند تک نہ مل سکے، آخر رسول اللہؐ کے نواسےؓ نے یہ معرکہ کیوں سر کیا، اور کیوں اپنا سر نیزے کی زینت بنایا، صرف اس لئے کہ سیدالرسلؐ نے جس نظام عدل و انصاف اور زہد و تقویٰ کی بنیاد رکھی تھی وہ کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں نہ دی جائے جس کے کردار کے بارے میں منفی معلومات کے انبار تاریخ کے صفحوں پر لگے ہوئے ہیں۔ سانحہ کربلا ہماری تاریخ کا سنہری باب اور باطل آمریت کا سیاہ باب۔ یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام آج بھی جمہوری قدروں سے محروم اور ملوکیتوں کی زد میں ہے، اس وقت اگر ٹوٹی پھوٹی کوئی جمہوریت چل رہی ہے تو خدارا اُسے چلنے دیا جائے وگرنہ جمہوری قوتیں طعنہ دیں گی کہ مسلم امہ ملوکیت پرست اور آمریت نواز ہے، اس لئے اسے اسی میں مبتلا رکھ کر تباہ کیا جائے۔ آج کا دن اگرچہ غم و اندوہ کی کربناک داستان دہرانے کا دن بھی ہے، مگر اس دن میں اک گونہ طمانیت بھی ہے، کہ ہم باطل کو بتا سکتے ہیں کہ خانوادۂ نبوت نے مسلمانوں میں جمہوریت عدل انصاف اور رحم کا آغاز کیا تھا، مگر اُن کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا، اور ایک امام زین العابدین باقی بچے جو بیماری کے سبب میدان جنگ میں نہ جا سکے، اللہ نے نسل محمدی کو برقرار رکھنا تھا، اُن ایک زین العابدین سے یہ نسلِ پاک اتنی بڑھی کہ دنیا کے ہر کونے میں موجود ہے۔
بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن......... خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
(انہوں نے خاک و خون میں تڑپنے کی اچھی رسم ڈالی، اللہ ان پاکیزہ صفت عاشقان الٰہی پر رحمتوں کی بارش برسائے)