اہلِ پاکستان کے نام ریگزار کربلا کا پیغام

ڈاکٹر علی اکبر الازہری ۔۔۔
ماہ وسال کے الٹ پھیرکا عجیب اتفاق دیکھئے کہ وطن عزیز میں یوم سقوط ڈھاکہ اوریوم عاشور ایک ساتھ آگئے ہیں۔ خزاںرسیدہ فضائوںمیں یہ دونوں دکھ بھری یادیں آج پاکستانی قوم کو شدید جھنجھوڑنے آئی ہیں۔ یہ باور کروانے آئی ہیں کہ حکمران جب عاقبت نااندیش اور ہوس اقتدارمیں اندھے ہوجائیں تو کربلا کی زمین ہو یا ڈھاکہ کا پلٹن میدان، ہر کہیں خون کی ہولی کھیلنے والوں کی نفسیات ایک جیسی ہوتی ہیں۔ دیکھا جائے تومشرقی پاکستان کی علیحدگی کا دردناک سانحہ بھی یزیدی طرز سیاست کا ہی نتیجہ تھا۔ پاکستان کلمہ گو مسلمانوں کا سب سے بڑاملک تھاجو لاکھوں شہداء کی قربانیوں اور طویل سیاسی جدوجہد کے بعد بیسویں صدی کے وسط میں دنیاکے نقشے پر ابھرا لیکن 25 سال بعد ہی اسے دونوں اطراف کے ہوس پرست سیاستدانوں اورملٹری ڈکٹیٹر کی عاقبت نااندیشی لے ڈوبی۔ اسی طرح ریاست مدینہ کے قیام سے جس عالمی مصطفوی ؐسیاسی ثقافتی اور معاشی انقلاب کا آغاز ہوا تھا اور اسکی بنیادوں میں رسول اکرمؐ کی حکمت و بصیرت سمیت خلفائے راشدین ؓکی پاکیزہ قیادت اور انکی شبانہ روزمحنت و ریاضت کے علاوہ ہزاروں مسلمانوں کی قربانیاں شامل تھیں، ٹھیک نصف صدی کے شاندار تسلسل کے بعد یزیدی اقتدار پرستی کے ہاتھوں ڈگمگا گیا۔
آج بعض بے خبر لوگ معرکہ کربلا کو ’’دو شہزادوں کی جنگ‘‘ قرار دیکر یزیدکو امام حسینؓ کے برابر لا بٹھانے کی سعی لاحاصل میں مبتلاء ہیں۔ یہ لوگ اگرچہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں لیکن زہر تو زہر ہے اسکا ایک قطرہ بھی ماحول کی بے برکتی اور تلخی کیلئے کافی ہے۔ ایسے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ کہاں آغوشِ نبوت محمدیؐ کے انوار، سیدنا علی المرتضیٰؓ کے جلال اورخاتون جنت سیدہ کائنات فاطمۃالزہراء ؓکے وقار میں ڈھلا ہوا حسینی کردار اور کہاں انتقامی سیاست و عصبیت کی زہر آلودہ فضائوں میں ابھرنے والا یزیدی خمار۔ چہ نسبت خاک رابہ عالم پاک؟ مقابلہ کروانے والے بھی دراصل ازلی بدبخت ہیں اور انکی رگوں میں بھی انہی خوارج کا خون دوڑ رہا ہے جنہوں نے تاجدار ولایت سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ایمان پر شک کیا اور بالآخر شہید کردیا۔ ان لوگوں نے آج بھی کلمہ گو مسلمانوں کیخلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں اورقریہ عشق رسولؐ‘ پاکستان کے پرامن شہریوں کے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ گویا یزیدیت اور حسینیت کے درمیان آج بھی مختلف شکلوں میں معرکہ آرائی جاری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اہل حق حسینیت کے ساتھ ہیں اور فتنہ پرور یزیدیت کو پروان چڑھانے میںمصروف ہیں۔
امام حسین ؓ کی سربراہی میں اہل بیت نبوی کے 72 معصوم افراد کی تاریخ سازقربانی کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ ان عظیم المرتبت شہداء کے خون نے منافقت کے چہرے سے پردہ چاک کردیا ہے۔ واقعہ کربلا سے قبل اسلام کی مدمقابل قوت کو صرف کفر سے تعبیر کیا جاتا تھالیکن اسوۂ شبیری نے اسلام کو نقصان پہنچانے والی دوسری بڑی قوت یعنی منافقت کو بھی طشت از بام کردیا ہے۔ اس قربانی نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ آئین حق اور اسوہ رسولؐ کو دربار شاہی کی رعونت و تکبر کی بھینٹ چڑھانے والے بھی اسی منافقت میں لت پت ہیں چاہے ان کا تعلق بنو امیہ کے بادشاہوںکے ساتھ ہو یاآج کے مطلق العنان مسلمان حکمرانوں کے ساتھ۔
شہادت امام حسینؓ یوں تو ہر دور کے مسلمانوں کیلئے مینارہ نور رہی ہے اور اہل حق اس سے عشق و ایمان کے اسباق حاصل کرتے آئے ہیں مگر آج پھر حقیقی اسلام کیخلاف یکجا ہوچکے ہیں۔ منافقت کفر کی آلہ کاربن کر خرمن اسلام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ صلیب و ہلال کی موجودہ معرکہ آرائی میں یہود وہنود کے باہمی اتحادکے شواہد ہمارے باہم متحد ہوجانے کیلئے کافی تھے لیکن امت اب بھی اسی منافقت کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہورہی ہے۔ عالم کفرکا سرغنہ انہی گماشتوں اورایجنٹوں کے ذریعے اسلام کے موثر سیاسی قوت بننے سے روک رہاہے۔ سرزمین عرب جہاں بدرو حنین اور کربلا کے معرکے بپا ہوتے رہے آج وہاں جمہوریت و شورائیت کی بجائے بادشاہت براجمان ہے۔ جن مسلمان ممالک میں نام کی جمہوریت آئی ہے وہاں بھی روح خلافت مفقود ہے‘ اس لئے روح حسینؓ آج بھی اہل اسلام کو حقیقی شورائیت وجمہوریت پر مبنی نظام ریاست کے قیام کی طرف بلارہی ہے۔ سرخ رو ریگ زار کربلا ان مشائخ علماء اور صاحبان جبہ و دستار کو بھی دعوت فکر دے رہی ہے جو دین مصطفویؐ کی نمائندگی اور اسوۂ حسینی کے وارث ہونے کے دعویدار ہیں۔ ان میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اپنے قابل فخر اسلاف کی طرح دین محمدیؐ کی حرمت پر جان و مال اورعزت وآبرو کی قربانی دینے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اسوہ مصطفویؐ ہویا اسوہ شبیری یہاں اگر مگر اور پس و پیش نہیں بلکہ خلوص اور وفاداری کا عملی اظہار ہے۔ ہمارے علماء و مشائخ کی ترجیحات پر غور کیا جائے تو (الا ماشاء اللہ) دین کی خدمت کہیں تیسری یا چوتھی ترجیح ہوتی ہے پہلی ترجیح اپنی ذات کیلئے نمودو نمائش، حصول زر و زمین اور آرام و آسائش، دوسری ترجیح انکے اہل خانہ اورانکی اولادیںہوتی ہیں جن کیلئے انکی گدیاں (تقوی اور عملی استحقاق سے قطع نظر) ملکیت و وراثت کے طور پر انکے سپرد ہو جاتی ہیں۔ عاشورہ محرم ہر سال ہمیں کردار و عمل اورایثار وقربانی کا پیغام دیتاہے۔ ہم اسے روائتی ماتم اور مجالس سوز منعقد کرکے گزار دیتے ہیں اور اگلے ہی دن یعنی 11محرم کو سب کچھ بحال ہوجاتا ہے۔