اب میثاق کی نہیں انقلاب کی ضرورت ہے

کالم نگار  |  مطلوب احمد وڑائچ

1988ء میں جنرل ضیاء کی حادثاتی موت کے بعد اس ملک کی سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی لائحہ عمل نہ تھا ماسوائے اقتدار کی منتقلی کے، چنانچہ88میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو جب اقتدار دیا گیا تو یہی وجہ ہے کہ اندرونی سازشوں اور خلفشار کی وجہ سے یہ اٹھارہ ماہ تک بھی کرسی اقتدار سے ہم آہنگ نہ ہو سکے پھر سازشوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا گیا اور اس دوران مسند اقتدار پر چہرے تو تبدیل ہوئے مگر نظام کو تبدیل نہ کیا جا سکا۔ ہر سول و ملٹری آمر اور حکمران نے آئین کی صورت بگاڑ کر رکھ دی۔ اس دوران سیاسی طاقتوں اور ملٹری حکمرانوں کے درمیان بے شمار معاہدے بھی ہوئے جن کی حیثیت کاغذ کے چند ٹکڑوں سے زیادہ کبھی نہ ہو سکی۔ 12اکتوبر 1999ء کو جب جنرل پرویز مشرف نے ایک سازش کے تحت اقتدار پر قبضہ کرکے میاں نوازشریف کی دوتہائی اکثریت والی جمہوریت کا بستر گول کر دیا اور اقتدار پر براجمان ہو گئے۔ یہی وہ موڑ تھا جس پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو ادراک ہوا کہ اگر وہ معاہدوں اور میثاق کا اسی طرح حشر کرتے رہے تو ایک تیسری طاقت ہر وقت اقتدار پر قبضے کے لیے موجود ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ملک کی سیاسی جماعتوں نے اے آرڈی کی صورت میں ایک اتحاد بنا کر پرویز مشرف کی نیندیں حرام کیں ۔ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی معیت میں اس اتحاد نے ملک کے محروم طبقے کو ایک روشنی کی کرن دکھائی۔ 2002ء کے الیکشن کے نتائج کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ اب سیاسی قوتوں کو ایک ایسے میثاق کی ضرورت ہے جس سے جمہوریت کو اس ملک میں پھر سے پٹری پر لایا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ 2003ء میں نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کو محترمہ نے ذمہ داری سونپی کہ وہ آگے بڑھیں اور وہ سیاسی قیادت جسے دیوار سے تقریباً لگا دیا گیا تھا کو متحرک کریں اور باہمی اعتماد کی فضاء بنانے میں اپنا بزرگانہ کردار ادا کریں۔
2003ء میں نوابزادہ نصراللہ مرحوم نے پہلے سعودی عرب میں میاں برادران سے ملاقاتیں کی اور پھر لندن روانہ ہوگئے۔ راقم بھی ان کے ساتھ تھا اس مشن کی تکمیل کے لیے ہم نے سردھڑ کی بازی لگائی۔ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم جو خرابی صحت کی وجہ سے عمر کے اس حصہ میں جہاں کام سے زیادہ آرام کی ضرورت تھی اس مشن میں ثابت قدمی سے آگے بڑھتے رہے اور لندن میں محترمہ کو سعودی عرب میں ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج سے آگاہ کیا پھر اس شٹل ڈپلومیسی کے 2006ء میں نوابزادہ کی وفات کے تین سال بعد ثمرات برآمد ہوئے اور ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے میثاق جمہوریت کے نام سے ایک میثاق پردستخط کیے۔ اس دوران میاں شہباز شریف و میاں نوازشریف کو پاکستان سے ڈی پورٹ کیا جا چکا تھا اور مشرف ایک آمر مطلق کی طرح اقتدار کی مسند پر براجمان تھا۔ پھر 2007ء میں محترمہ کی شہادت کے بعد اس ملک کی دونوں بڑی سیاسی قوتوں نے شروع شروع میں تو میثاق جمہوریت کی لاج کسی نہ کسی طریقے برقرار رکھی مگر پھر سیاسی پارٹیوں کے اپنے مفادات ملکی مفادات پر غالب آنا شروع ہو گئے اور آج یہ حالات ہیں کہ مسلم لیگ ن کو فرینڈلی اپوزیشن کا نام دیا جاتا ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے حکومتی اتحادی جو مفادات کے چکر میں حکومت بھی کر رہے ہیں اور عوام کی نظروں میں اپوزیشن کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ اور ان حالات میں سیاسی چنگل میں پھنسی پیپلز پارٹی کے سامنے تمام راستے مسدودہو چکے ہیں ۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کبھی اپوزیشن کی دل پسند اور کبھی کڑوی گولی بن جاتے ہیں اور صدر مملکت اپنے قریبی حواریوں کی وجہ سے ہر وقت انڈر فائر رہتے ہیں ۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے تمام وزرائے اعلیٰ کو حکم دیا ہے کہ اپنے اپنے صوبوں کے معاشی حالات ٹھیک کریں یہ ایک ایسی خواہش ہے کہ ؎ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ وزیراعظم کبھی اپنے قیمتی سوٹ بیچ کر آٹے کی قلت پوری کرنے کا حکم دیتے ہیںاور کبھی فسٹ لیڈی کا ہار نیلام کرنے کا اعلان فرما کر سیلاب زدگان کے گھر بسانے کا حکم صادر فرماتے ہیں۔ وزیراعظم کی یہ مغلانہ خواہشیں ان کی سیاسی عاقبت نااندیشی کا مظہر ہیں ۔گزشتہ اور موجودہ صدی کے بدترین سیلاب کے بعد پاکستان کے دوست ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ ٹیکس ادا کرے وگرنہ امداد دینے سے قاصرہوں گے۔ جس ملک کے امراء ، وزراء اور محکموں کے چیئرمین کروڑوں ڈالر کے اکائونٹس کھلوانے ملک سے باہر جاتے ہوں اس ملک کو امداد دیتے وقت یورپین یونین ،خلیجی ممالک اور امریکہ،برطانیہ یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ جس ملک کا وزیراعظم اپنے سوٹ ،وزیرداخلہ اپنی ٹائیاںاور فرسٹ لیڈی اپنا ہار بھیج کر 18 کروڑ عوام کا قرض اتارنے کی بات کرتے ہیں اس ملک کو امداد کی نہیں ملک سے ہمدردی کی ضرورت ہے۔ جس ملک میں بم دھماکے ، دہشت گردی کے بادل چھائے ہوں ، جس ’’اندرونی‘‘ لڑائی میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کے افسران سڑکوں پر شہید کر دیئے جاتے ہیں ،کوئی شخَص محفوظ نہیں ۔کراچی بدامنی اور تباہی کے دہانے پر ہو،سڑکوں پر سرعام گاڑیاں چھینی جا رہی ہوں، ہر روز ہزاروں موبائل فون اور پرس چھینے جا رہے ہوں ،جس ملک میں انسانی خون پانی سے ارزاں ہو جائے، جس ملک میں رکھوالے خواتین کی عصمت دری کریں ،جس ملک میں حکمران عیاشی کریں اور غریب عوام روٹی کے ایک نوالے کو ترسیں ،جس ملک میں گڈگورنس مذاق بن کر رہ جائے ،جس ملک میں چادر اور چاردیواری ایک بھیانک خواب بن جائے تو اس ملک میں اب کسی میثاق کی گنجائش نہیں رہ جاتی بلکہ ایک انقلاب کی راہ ہموار ہو رہی ہے اور پانی کی طرح انقلاب اپنے راستے خود بناتا ہے اور نتائج بھی خود تخلیق کرتا ہے۔ جس ملک میں ہر شاخ پر بیٹھا انسان آری لیے اسی شاخ کو کاٹنے کے درپے ہو، جو قوم اپنے مستقبل سے کھیلنے کو صرف کھیل سمجھ رہی ہو وہاں معاہدوں اور میثاقوں کی باتیں کرنا وقت کا ضیاع ہے۔اس ملک کو اب میثاق کی نہیں انقلاب کی ضرورت ہے اور یہ انقلاب ایرانی، فرانسیسی یا برطانوی نہیں بلکہ اس ملک کے عوام کے مزاج اور امنگوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔اگر ہم نے مملکت خداداد کو بچانا ہے تو پھر قوم کو انقلاب کے لیے خود ہی کھڑا ہونا پڑے گا۔کیونکہ حق و انقلاب مانگا نہیں چھینا جاتا ہے۔ (ختم شد)