’’مسلم لیگ تصادم کی راہ پر گامزن‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’مسلم لیگ تصادم کی راہ پر گامزن‘‘

مسلم لیگ (ن) تصام کی طرف جا رہی ہے جس کا سراسر نقصان اسی کو ہو گا کیونکہ اس وقت سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور عوام الناس جانتے ہیں کہ میاں نواز شریف اور ان کی فیملی نے کسی نہ کسی سطح پر کچھ گڑ بڑ ضرور کی ہے، جس بنا پر انہیں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ لہٰذا اب عدالت میں ہنگامہ آرائی چور مچائے شور کے مترادف ہے اس لیے انہیں اب ذرا اپنی اداووں پہ غور کرنا چاہئے۔ احتساب عدالت میں مریم صفدر اور کیپٹن(ر) صفدر کی پیشی پر(ن) لیگی وکلاء اور کارکنان کی جانب سے ہلڑ بازی نے سپریم کورٹ پر نواز لیگ کے حملے کی تاریخ دہرا دی ہے۔ جو بدقسمتی ان کے خلاف ہی جا رہا ہے، سپریم کورٹ پر حملہ کر کے پاکستان کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین باب رقم کیا۔ آئین میں تیرھویں ترمیم کر کے صدر کے اختیارات ختم کیے جس سے وزیرِاعظم سے پوچھ گچھ اور چیک اینڈ بیلنس ختم ہو گیا۔ پھر چند ہی دن بعد نواز شریف نے چودھویں ترمیم کر کے آئین کا جنازہ نکالا۔چودھویں ترمیم کا مطلب تھا کہ ارکان قومی اسمبلی پارٹی صدر کے کسی بھی فیصلے سے اختلاف نہیں کر سکتے اگر اختلاف کریں گے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔ اس ترمیم نے ایم این ایز کو پارٹی قیادت کا غلام بنا دیا اور نواز شریف احتساب سے مکمل آزاد ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی نواز شریف نے آئین میں پندرھویں ترمیم کیلیے کوشش شروع کر دیس۔ اس کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان سجاد علی شاہ اور صدر پاکستان فاروق لغاری نے اعتراض کر دیا جس کے بعد میاں نواز شریف نے ایک طرف سپریم کورٹ پہ حملہ کیا اور دوسری طرف اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو مجبور کرنا شروع کر دیا کہ صدر فاروق لغاری سے استعفی لے۔ آج پھر وہی حالات ہیں۔ میاں نواز شریف نے احتساب سے بچنے کیلئے ایک طرف الیکشن بل پاس کروا لیا ہے، دوسری طرف یہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ میں ترمیم کی کوشش میں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کے وزراء روزانہ سپریم کورٹ پر بیانات سے حملہ آور ہو رہے ہیں، میاں نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر رینجرز کی تعیناتی دانشمندانہ فیصلہ تھا جس بنا پر بعض شرپسندوں کو ہنگامہ آرائی کا موقع نہیں ملا تھا۔ اب اس واقعے کو دیکھتے ہوئے آئندہ سماعت پر سکیورٹی کے سخت انتظامات ہوں گے۔ جس پر پھر نون لیگ تلملائے گی، گزشتہ روز کے واقعہ سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اگر ایسے مواقع پر سامنے فوج نہ ہو تو یہ عناصر ہنگامہ پر اتر آتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی عدالتوں کے احترام بارے پہلے بھی تاریخ اچھی نہیں ہے۔ احتساب عدالت میں رینجرز کی تعیناتی پر سیخ پا ہونے والے لیگی وزراء گزشتہ روز کے افسوسناک واقعہ پر خاموش ہیں حالانکہ اس واقعے کی بھی تحقیق ہونی چاہئے کہ اتنی تعداد میں وکلاء کس کے کہنے پر آئے۔ آخر انہیں لانے کا کوئی تو مقصد تھا۔ نیب کی رپورٹ کے مطابق پراسیکیوشن ٹیم کو ڈائس سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ ٹیم کے سربراہ سردار مظفر کے نہ ہٹنے پر انہیں دھکے دیئے گئے۔ درحقیقت ہنگامہ آرائی کی آڑ میں نیب پراسیکیوشن ٹیم پر حملہ کر کے میاں نواز شریف، مریم صفدر اور کیپٹن (ر) صفدر پر عائد ہونے والی فردجرم کو روکنا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ٹھہرے ہیں۔ یہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس میں وہ کامیاب ہو گئے ہیں، ویسے حکمران جماعت جس ڈگر پر چل نکلی ہے وہ اچھی نہیں۔ درحقیقت ہنگامہ آرائی سے عالمی سطح پر ہلچل پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ یقینی طور پر ایک مضبوط منصوبہ بندی سے پلان تیار کیا گیا تھاجس کامقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دبائو ڈالنا تھا۔ سماعت کے دوران مختلف النوع پٹیشنز، درخواستیں اور عرضیاں دائر کر کے کیس کو مقررہ مدت سے تاخیر کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تاخیری حربے استعمال کر کے سابق آمر پرویز مشرف کی طرح کیس سے فرار ہونے کی سعی ہو سکتی ہے۔ گزشتہ روز احتساب عدالت کے معزز جج نے شدید برہمی کا اظہار بھی کیا ہے۔ وزارت داخلہ اس معاملے کی تحقیق کرائے اور اس واقعہ میں ملوث افراد کا تعین کر کے انہیں قانون کے حوالے کرے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ اور ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کے معیشت پر بیان کے بارے میں کہا ہے کہ انہیں عوامی سطح پر ملکی معیشت پر بیانات دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ حالانکہ اس بیان دینا کوئی قبیح نہیں ہے۔ پاک فوج بھی اس ملک کی ہی ہے اسے ہر چیز کی خیال رکھنا ہے، احسن اقبال نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کے حوالے سے کہا کہ ’پاکستان کی معیشت مستحکم ہے، غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر کر سکتے ہیں۔ احسن اقبال نے وضاحت دی ہے کہ ’میرا مقصد کسی قسم کی تنقید نہیں، میرا مقصد صرف یہ ہے کہ ہر کسی کو اپنے شعبے سے متعلق بیان دینا چاہئے۔‘ یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان فوج کے ترجمان آصف غفور نے بھی اسی نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سکیورٹی اور معیشت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان کی معیشت اگر بری نہیں ہے تو اچھی بھی نہیں ہے‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کی سکیورٹی کے حالات اچھے نہیں ہوں گے تو اس کا اثر معیشت پر پڑے گا اور اگر معیشت خراب ہو گی تو سکیورٹی بھی اثرانداز ہو گی۔ پاکستان فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے بھی کہا تھا کہ ’’ہماری ٹیکس اور جی ڈی پی شرح بہت کم ہے‘، اگر ہمیں کشکول توڑنا ہے تو اس میں تبدیلی لانا ہو گی۔‘‘ ملک میں ترقی تو ہو رہی ہے لیکن قرضے بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔ انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبے بہتر ہوئے لیکن جاری خسارہ موافق نہیں۔ ''بہتر مستقبل کے لیے ہمیں مشکل فیصلے لینا ہوں گے۔ ہمیں اپنے ٹیکس بیس کو بڑھانا ہوگا، مالی معاملات میں نظم و ضبط لانا ہوگا اور اپنی معاشی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنا ہو گا۔ یہ بات درست ہے کیونکہ ہمیں زمینی حقائق پر بھی نظر رکھنی چاہئے اس وقت ہماری معیشت بہتر نہیں ہے، معاشی بدحالی کے باعث مسائل بڑھ رہے ہیں۔ خدانخواستہ اگر جنگ ہو جاتی ہے تو مسائل کا کسے سامنا کرنا پڑے گا، پاک فوج کو ہر لحاظ سے دیکھنا پڑتا ہے اس لئے اگر آرمی چیف نے معیشت بارے کوئی بات کی ہے تو اس پر حکومت کو برا نہیں منانا چاہئے بلکہ معیشت کی بہتری کی کوشش کرنی چاہئے۔