’’مرشد نے فیصلہ سنا دیا‘‘ ........… (۱)

کالم نگار  |  پروفیسر نعیم قاسم

دی اکانومسٹ (The Economist) اپریل 2007 ء کا شمارہ میرے سامنے پڑا ہوا ہے جس کے ٹائٹل پر تحریر ہے:
Naseem A Beg.
The world awaits your decision
سنجیدہ اور متین فکر ڈاکٹر حافظ محمد اقبال (پنجاب یونیورسٹی شعبہ آئی ای آ کے ڈین) کی موجودگی میں مرشد نے اپنا فیصلہ سنا دیا، ’’خون کا بدلہ خون‘‘۔ پانی بہتا ہے، وقت بہتا ہے، خون بھی بہتا ہے۔ انکل عرصہ دراز کے بعد امید بہار کے جانفزا پھول کھلا رہے تھے۔ ذہنی اور جسمانی صحت بھی بہت بہتر لگ رہی تھی اور بھرپور ردھم میں دکھائی دے رہے تھے۔ انکل کی شخصیت تو ہفت اقلیم ہے۔ سدرہ شریف کے مزار کی چادر عقیدت مندوں نے انکل کیلئے تبرکاً بھجوائی ہوئی تھی۔ دیدار کیلئے بندہ بھی وہاں پہنچ گیا۔ کیونکہ اختر آنٹی کے گھر کا مکین میرے لئے تو ہمیشہ باعث سکون اور قلبی اطمینان کا ذریعہ ہے …؎
اک دکھ کا سمندر نظر آتی ہے یہ دنیا
اک شخص مگر اس میں جزیرے کی طرح ہے
مرشد پورے جوش اور جذبہ ایمانی کیساتھ کلمہ ایمانی کیساتھ کلمہ طیبہ اور درود پاک کے ورد کیساتھ گویا ہوئے۔ ’’دیکھیں ڈاکٹر صاحب پاکستان ایک عظیم ملک ہے جہاں آپ جیسی نیک سیرت ہستیاں نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہی ہیں۔ آپ یقیناً کم گو ہیں مگر میرا دل یہ گواہی دیتا ہے کہ آپکی بات لازماً طالبعلموں کے دلوں کو چھوتی ہو گی ’’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘‘ مرشد نے ذرا توقف کیا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، سنو نعیم آواز اور لب و لہجہ کے رعب اور کھنک نے مجھے مبہوت کر دیا۔ میں جو بولنے سے کبھی نہیں چوکتا تھا آج سحر زدہ ہو گیا۔ مجھے آج سننا تھا اور قارئین تک خیالات کی ترسیل کرنا تھا۔ ’’پاکستان ایک عظیم ملک تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ہر شخص کو چاہے وہ کسی بھی منصب اور مرتبے پرکیوں نہ فائز ہواسے اپنے جرم کا حساب دینا ہو گا۔ وگرنہ قدرت کی سزاواری کا عمل جاری و ساری رہے گا۔ میں نے بصد احترام عرض کرنے کی جسارت کی۔ صاحبان اختیار اور ارباب بست و کشاد کا کہنا ہے احتساب تو سب کا ہونا چاہئے تو وہ سخت جلال میں آ گئے۔ ’’قیامت کے روز رب تعالیٰ سے یہ کہنے کی جرات رکھتے ہو کہ اللہ میاں میں تو گناہگار اور مجرم ہوں مگر مجھے تب سزا دینا جب تم دوسروں سے حساب کتاب لے لو۔ ایسا ناممکن ہے۔ اپنی اپنی باری پر سب کو حساب دینا ہے۔ اللہ سے رحم مانگو اور انصاف مت طلب کرو۔ حکمرانوں عوام پر غربت مسلط کر کے غیرملکی بینکوں میں جمع اربوں ڈالرز تو قوم کو واپس کرنا ہونگے اور ناجائز اثاثوں اور جائیدادوں کا تو حساب دینا ہو گا۔ بہتر یہی ہے کہ منصف اعلیٰ کے سامنے اپنا حساب کتاب رکھ دو وگرنہ معاملات ہاتھ سے نکل جائینگے۔ اللہ مہلت دیتا ہے کہ آدمی اپنی انا کے خول کو توڑ کر عجز و انکساری کی راہ اختیار کرے۔ وگرنہ ٹیڑھے انسان کا کیا ہے۔ اس کو سیدھی راہ پر چلائو گے تو پھر بھی وہ ٹیڑھا ہی چلے گا۔ اسے تو سیڑھیاں چڑھنی آتی ہیں مگر اترنی نہیں آتی ہیں جن کی کشتیاں خود ڈوب رہی ہوں، وہ ڈوبتی کشتیوں میں بیٹھ کر کیسے دوسروں کو بچا سکتے ہیں۔ معافی کھلونا نہیں ہے۔ اللہ سے مت کھیلو۔ کلمہ گو فوج کو کلمہ گو مسلمانوں کیساتھ لڑانے والے ڈکٹیٹر کا انجام عبرت ناک ہے۔ جب شہداء کی مائیں عرش پر اللہ سے فریاد کرینگی تو پھر شہداء جو زندہ ہیں قبروں سے پکار اٹھیں گے کہ پانچ ہزار بہادر افواج کو امریکا کے مفادات کی خاطر شہید کروانے والوں کیلئے قطعاً معافی نہیں ہے۔ روس نے افغانستان پر نو سال جنگ مسلط رکھی۔ (جاری ہے)