پاکستان کے پہلے وزیر اعظم

پروفیسر محمد ذوالفقار علی اعوان...
قائد اعظم محمد علی جناح کی ہندوستان واپسی کے بعد 1937ء میں خان لیاقت علی خان آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد آپ نے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ آپ کل ہندو مسلم لیگ کے مارچ1940ء کے لاہور کے تاریخی جلسہ بمقام منٹوپارک (اقبال پارک) میں شریک ہوئے جس میں پاکستان کے قیام اور ہندوستان کی تقسیم کے متعلق تاریخی قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔ 1940ء میں آپ مسلم لیگ کے نائب صدر مقرر ہوئے۔ اس سال آپ مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے۔ آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے۔ ان کو آپ پر مکمل اعتماد تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1943ء میں کراچی کے اجلاس میں لیاقت علی خان کو اپنا دایاں بازو کہا اور فرمایا کہ ’’لیاقت علی خان نے اپنے اجتماعی فرائض کی ادائیگی میں دن رات ایک کرکے سخت کام کیا ہے۔ وہ اگرچہ نوابزادہ ہیں لیکن وہ عام انسانوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ دوسرے نوابوںکو بھی مشورہ دوں گا کہ وہ ان سے سبق حاصل کریں۔‘‘
قیام پاکستان تک آپ مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے۔ 1945ء میں جب برطانوی ہند کے وائس رائے لارڈ دیول نے تاریخی شملہ کانفرنس طلب کی تو آپ نے مسلم لیگ کے نمائندے کی حیثیت سے اس کانفرنس میں حصہ لیا۔ 1946ء میں جب مسلم لیگ نے ہندوستان کی عارضی مخلوط حکومت میں شامل کیا گیا اور آپ وزیر خزانہ مقرر ہوئے۔ اس موقع پر بھی خان صاحب کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا پورا موقع ملا۔ عبوری حکومت کے دوران آپ نے ایسا بجٹ پیش کیا کہ ہندو چلّا اٹھے۔ اس بجٹ میں سرمایہ داروں پر ٹیکس عائد کئے گئے تھے۔ صنعت و حرفت پر ہندو چھائے ہوئے تھے جو کانگریس کی بھر پور مالی امداد کرتے تھے۔ اس بجٹ کی وجہ سے ان کا کافی سرمایہ خزانے کی نذر ہونے لگا۔ اس بجٹ کو غریب عوام کا بجٹ قرار دیا گیا۔ چنانچہ اس بجٹ کو سارے ملک کے مسلمانوں نے سراہا۔ آپ پہلے ہندوسانی تھے جنہوں نے برطانوی عہد حکومت میں ہندوستان کا بجٹ پیش کیا۔ 15؍اگست1947ء کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے عزائم سے پوری طرح آگاہ تھے۔ آپ کو اس بات کا پورا پورا علم تھا کہ پاکستان کی تعمیر و استحکام کے لئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ذہن میں کیا پروگرام تھا۔ چنانچہ آپ نے بڑی محنت سے پاکستان کے تعمیر و استحکام میں حصہ لیا۔ 11؍ستمبر1948ء کو قائد اعظم محمد علی جناح کی اچانک المناک وفات کے بعد ملک کی قیادت آپ کو ہی سنبھالنا پڑی۔ آپ نے پاکستان کے عوام کی امنگوں کے مطابق ایک مثالی اور مستحکم ملک بنانے کا عزم کیا۔ آپ نے دستور ساز اسمبلی میں قرار داد مقاصد پیش کی جو 13؍مارچ1949ء کو منظور کر لی گئی۔ آپ کے دور وزارت میں خارجہ امور میں پاکستان نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ پاکستان ایک نیا اور اسلامی ممالک میں سب سے بڑا ملک تھا۔ روس اور امریکہ دونوں سپر پاورز کی نظریں اس پر لگی ہوئی تھیں۔ یہ ملک جنوب مشرق ایشیا اور مغربی ایشیا میں ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا تھا۔ پاکستان کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے کسی ایک بلاک سے سمجھوتہ کرنا ضروری تھا چنانچہ خان لیاقت علی خان نے سب سے پہلے امریکہ کی دعوت قبول کرتے ہوئے دورہ کیا جس سے پاکستان کو فوجی اور اقتصادی امداد ملی۔ 1950ء میں جب بھارت نے پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں پر اپنی مسلح افواج جمع کر دیں تو آپ کی تقریروں نے ملک کے بچے بچے کے دل کو گرما دیا اور بچہ بچہ ملک کی سلامتی اور تحفظ کے لئے لڑنے مرنے پر تیار ہو گیا۔ قوم میں جذبہ جہاد پیدا کر دیا۔ اس سے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی مقبولیت اور بڑھ گئی لیکن آپ کی اس قدر مقبولیت اور ہر دلعزیزی سے بعض دشمن حسد کا شکار ہو گئے۔ آپ کو اپنی راہ کا کانٹا خیال کرنے لگے۔ چنانچہ 16؍اکتوبر1951ء کو جب آپ راولپنڈی میں جلسہ عام میں خطاب کر رہے تھے کہ ایک بدبخت شقی القلب شخص سید اکبر نے آپ کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ اس طرح قیام پاکستان کو ابھی صرف چار برس گزرے تھے کہ قوم کو دوسرا المناک واقعہ کا سامنا کرنا پڑا۔ مرتے وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔ ’’پاکستان کا خدا حافظ ہے‘‘ اس اعتبار سے پاکستان ایک باصلاحیت، نڈر، عظیم قائد سے محروم ہو گیا۔