میرے خیال میں!

کالم نگار  |  توفیق بٹ

٭ ہمارے حکمران جب بھی قومی خزانے سے غریبوں میں خیرات تقسیم کرتے ہیں تو غریبوں کی روحانی تفریح کیلئے اسے ٹیلی ویژن پر ضرور دکھایا جاتا ہے ۔پاکستان میں ٹیلی ویژن نہ ہوتا تو شاید سرکاری خیرات کا کوئی جوا ز نہ ہوتا۔ ہمارا ایمان ہے نیکی کرکے ٹیلی ویژن میں نہ ڈالی جائے تو وہ ضائع ہوجاتی ہے!
٭ ڈارون(Darwan) نے فرمایا تھا کہ انسان بند ر کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے لیکن وہ اپنے اس نظریے کے حق میں کوئی ناقابل تردید ثبوت پیش نہ کرسکا۔قدرت نے ثبوت مہیا کرنا پاکستان کے مقدر میں لکھا تھا۔ ہمارے واپڈا نے ثابت کر دیا کہ ڈارون ٹھیک کہتا تھا۔ واپڈا نے بجلی کے صارفین کے میٹر کھمبوں پر لگادئیے ہیں۔واپڈا کو یقین ہے اگر کوئی صارف یہ معلوم کرناچاہے کہ اس کا بجلی کا بل میٹر کے مطابق ہے یا نہیں تو وہ بند ر کی طرح کھمبے پر چڑھ کر اپنی تسلی کرسکتا ہے۔
٭ جب کسی حلقے سے صرف ایک امیدوار کھڑا ہوتا ہے تو اسے بلا مقابلہ منتخب قراردے دیا جاتا ہے یہ جمہوریت کا قتل ہے ۔جمہوریت کا تقاضا ہے ایسے حلقے کے ووٹروں سے کہاجائے کہ وہ اکیلے امیدوار کے حق میں یا اس کے خلاف ووٹ ڈالیں۔ ممکن ہے ووٹروں کی اکثریت اس کے خلاف ووٹ ڈالے۔ یہ فرض کرلینا کہ چونکہ امیدواروں کا کوئی مدِ مقابل نہیں لہٰذا حلقے کے ووٹروں کی اکثریت کو اس سے عشق ہے جمہوریت سے مذاق ہے
٭ انگریزی زبان کی ایکPhrase ہے ’’The Law of Jungle ‘‘اس کا مطلب ہے لاقانونیت یعنی جنگل میں کوئی قانون نہیں ہوتا۔ یہ ساری Phrase انگریز نے ہمیں گمراہ کرنے کیلئے بنائی ہے۔ حقیقت یہ ہے قانون اگر کہیں ہے تو فقط جنگل میں ہے۔ جنگل میں کسی کو رہائشی یا کمرشل پلاٹ الاٹ نہیں ہوئے۔ قرضے معاف نہیں ہوتے۔ وہاں صرف اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہی زندہ رہا جاسکتا ہے۔ شیر اپنے علاج کیلئے امریکہ نہیں جاتا وہ بھی اُسی طرح مرتا ہے جس طرح چمگادڑ مرتا ہے۔ کیا انسانی دنیا میں اس طرح کی مساوات کہیں دکھائی دیتی ہے۔ تو جناب قانون اگر کہیں ہے تو فقط جنگل میں ہے!
٭ لباس کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ لباس جسے پہن کر ہم اپنا بدن ڈھانپتے ہیں اور دوسرا وہ لباس جسے پہن کر ہم اپنا باطن ننگا کرتے ہیں۔
٭ ہم اندھے خوش قسمت ہیں کہ پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے دیکھ نہیں سکتے۔ ہمیں اپنی’’ نابینگی‘‘ پر اللہ پاک کا شکر گزار ہوناچاہیے!
٭ کچھ لوگ وطن کی خاطر قربانیاں دیتے ہیںاور کچھ لوگ ان قربانیوں کا گوشت کھاتے ہیں ۔قربانی کا گوشت کھانا کارِ ثواب ہے!
٭ مردوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ مردے جو قبرستان میں رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو شہروں میں رہتے ہیں۔قبرستان میں رہنے والے مردے خوش قسمت ہیںکہ ان کے اپنے ذاتی گھر ہیں اور شہروں میں رہنے والے مردے بد قسمت ہیںکہ انہیں اپنی قبروں کا کرایہ دینا پڑتا ہے!
٭ جس قوم کے پاس حکمرانی کیلئے انسان نہیں ہوتے اس قوم پر جانور حکومت کرتے ہیں!
٭ ہر پاکستانی مقروض پیدا ہوتا ہے اور مقروض دفن ہوتا ہے۔نوزائیدہ بچے کے کان میں اذان دینے سے پہلے اسے یہ بتانا ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ وہ مقروض پیدا ہوا ہے۔ممکن ہے یہ’’ خوشخبری‘‘ سنتے ہی وہ واپسی کا فیصلہ کرلے اور ہماری ایک عدد اذان بچ جائے!
(ختم شد)