60 ملین ڈالر آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی

صحافی  |  عطاء الرحمن

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے درست کہا ہے ان کی پیشنگوئی پوری ہو گئی ہے 13 اکتوبر کو کچھ نہیں ہوا، حکومت اپنی جگہ قائم ہے، یوسف رضا گیلانی شریف النفس انسان ہیں انہیں اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی زحمت بھی کرنی چاہیے۔ حکومت کو تیرہ اکتوبر کے روز کچھ نہیں کہا گیا ماسوائے اس کے کہ نیب کے چیف سید دیدار حسین شاہ کی تقرری سپریم کورٹ کے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور یہ کہ نیب کے چیف کی جانب سے این آر او فیصلے پر عملدرآمد کی جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اسے بھی عدالت عظمٰی کے سترہ رکنی فل بنچ کی جانب سے عدم اعتماد کے اظہار کے بعد مسترد کر دیا گیا ہے۔ قانون اور انصاف کی نظروں میں اپنی ساکھ اس حد تک خراب کر لینے کے بعد بھی اگر حکومت قائم ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ عدالت عظمٰی ملک کے اندر آئین و قانون کا راج دیکھنا چاہتی ہے۔ انصاف کی عملدرآمد کی خواہاں یقیناً ہے لیکن حکومت کی انتہائی ناقص کارکردگی کے باوجود آئین اور جمہوریت کی پٹڑی کو اکھیڑ کر رکھ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ وہ جمہوری عمل کو کامیاب دیکھنا چاہتی ہے۔ کسی غیر آئینی تبدیلی کو سخت ناپسند کرتی ہے۔ سپریم کورٹ کی اس سوچ اور اپروچ کی وجہ سے اگر حکومت قائم ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں لینا چاہیے کہ آئین کے تقاضوں پر پوری طرح عمل نہ ہو۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا مکمل احترام نہ کیا جائے، ان کا نفاذ غیر یقینی ہو۔ حکومت مسلسل تاخیری حربوں سے کام لے کر انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ ہونے دے۔ وزیراعظم کے لئے اگر کوئی قابل اطمینان بات ہے تو یہ کہ جمہوری نظام کی برکات سے مستفید ہو کر اپنی حکومت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں لیکن اس میں ان کے لئے Wake up call بھی پنہاں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل نہ کرنے کی روش اختیار کر کے حکومت اپنے آپ کو زیادہ دیر تک برقرار رکھ نہ سکے گی عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو جائے گا ۔ وہ وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ کریں گے اور اس کا تختہ الٹ کر رکھ دیں گے۔
سپریم کورٹ کیا ملک کا متفق علیہ آئین اور سب کی پسندیدہ جمہوریت بھی اس حکومتی طرز عمل کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکیں گی۔ پاکستان کے لوگ اس کے متحمل نہ ہو پائیں گے کیونکہ ان کی اپنی ساکھ بھی داؤ پر لگ سکتی ہے۔ وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کو ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ پاکستان کے لئے جس قدر آئین کی بالادستی اور جمہوریت کا تسلسل ضروری ہیں اسی قدر یہ امر لازم ہے کہ حکومت شفاف طریقے سے چلے۔ آئین وقانون کے سامنے مکمل طور پر جوابدہ ہو۔ عدلیہ کے فیصلوں کا آخری حد تک احترام کرے۔ یہ قدریں فروغ پائیں گی تو آئین اور جمہوریت کو پختہ سہارا ملے گا۔ ان کی عملداری مضبوط سے مضبوط تر ہو گی لیکن اگر یہ ستون ہی کھوکھلے ہو کر رہ جائیں تو آئین و جمہوریت کی چھت نیچے آن گرے گی۔ خدا نہ کرے ایسا ہو کیونکہ ہم یہ زخم پہلے ہی بہت سہہ چکے ہیں مزید کی ہر گز خواہش نہیں رکھتے لیکن اس انجام سے بچانے کے لئے سب سے اہم کردار حکومت کا ہو گا اسے اپنے گریبان میں جھانک کر جلد از جلد اصلاح کرنی چاہیے۔
یہ بات تو سپریم کورٹ طے کرے گی سوئس مقدمات میں صدر زرداری کو استثناء حاصل ہے یا نہیں۔ صدر اور ان کے قانونی مشیروں کا ایک نقطہ نظر ہے بہت سے دوسرے آئینی ماہرین کا اس کے برعکس یا خاصا مختلف لیکن اس سوال کا حکومت کے پاس کیا جواب ہے کہ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے خط (جس کا سرکار کے پاس باقاعدہ ریکارڈ بھی موجود نہیں) کے بعد سوئس بنکوں میں 60 ملین ڈالر کی جو خطیر رقم غیر منجمد ہو گئی تھی وہ کہاں گئی آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی۔ نیب کے چیف کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں (جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے) کہا گیا ہے حکومت کو علم نہیں وہ رقم کہاں گئی۔ یہ ایسا جواب ہے جس پر پاکستان کا کوئی ذی شعور فرد ایک لمحے کے لئے یقین کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ عوام کی لوٹی ہوئی رقم ہے اگر موجودہ حکمرانوں میں کسی کی تجوری میں نہیں گئی تو سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بنچ کی مانند ان کا بھی برابر کا فرض ہے اس کا سراغ لگائیں لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ آخر کیوں، کیا پاکستان کے عوام اس ملک کا آئین و قانون اور جمہوریت کی روح پرلے درجے کی اس بدعنوانی کو معاف کر دیں گے، ہر گزنہیں۔