لیاقت علی خان‘ پاکستان کے پہلے وزیراعظم

ڈاکٹر محمد سلیم ..........
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خاں ایک متوازن ذہن اور دھیمے مزاج کے پرخلوص سیاستدان تھے اور دلآویز شخصیت کے مالک۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت اور اپنے عزم واستقامت سے ملک کو سنبھالااور دستور ساز اسمبلی سے ’’قرارداد مقاصد‘‘ منظور کروا کے پاکستان کے آئین کو کتاب وسنت کا پابند کیا۔ شہادت ان کا مقدر تھی۔
قائد اعظم نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر لیاقت علی خاں کو چنا اور اس اعزاز میں کوئی ان کی برابری نہ کر سکا۔ 15 اگست 1947ء کو انہوں نے حلف اٹھایا۔ وہ تقریباً چار سال پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ 15 اگست 1947ء سے 16 اکتوبر 1951ء تک۔ قائد اعظم کی وفات پر پاکستان ایک نازک دور میں داخل ہو گیا تھا۔ ہندوستان نے حیدر آباددکن کی ریاست پر قبضہ کر لیا۔ اس مشکل دور میں جب ہندوستان ہر قسم کی حرکت کیلئے تیار تھا وہ پاکستان کی سلامتی کے محافظ رہے۔ اکتوبر 1948ء میں وزرائے اعظم کی کانفرنس میں شرکت کیلئے وہ انگلستان گئے۔ وہاں انہوں نے ایک ہوٹل میں لارڈ ویول کی دعوت کی جس میں ان دونوں کے علاوہ صرف پاکستان کے ہائی کمشنر حبیب ابراہیم رحمت اللہ شریک ہوئے۔ دیول لکھتے ہیں کہ لیاقت علی خان تقریباً 3 گھنٹے مسلسل بولتے رہے وہ بڑی اچھی فارم میں تھے۔ صحت مند دکھائی دیتے تھے اور ان کا رویہ بہت دوستانہ تھا۔ لیاقت کی بادشاہ سے بھی طویل ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے بادشاہ کو باخبر اور دوستانہ رویہ کا حامل بتایا۔ ہم نے کشمیر کی بات کی۔ لیاقت کے خیال میں ہندوستان سے اچھے تعلقات کی راہ میں صرف یہی ایک رکاوٹ ہے۔ نہرو سے بحث کا کچھ نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے کشمیر کے الحاق کو پاکستان کبھی قبول نہیں کریگا۔ مائونٹ بیٹن کے بارے میں لیاقت بہت تلخ تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ انکے وزراء کچھ زیادہ تیز نہیں لیکن وہ دیانتدار لوگ ہیں۔ انہوں نے بالکل صحیح کہا کہ پاکستان کو اپنے آپ پر اعتماد ہے وہ قائم رہے گا۔قیام پاکستان کے وقت لیاقت علی خاں کی ہندوستان میں گراں قدر جائیداد تھی‘ لیکن پاکستان آ کر انہوں نے کوئی جائیداد حاصل نہ کی حتیٰ کہ معاوضے کا کلیم داخل کرنے پر بھی راضی نہ ہوئے۔
11 ستمبر 1948ء کو قائد اعظم وفات پا گئے۔ ان کی وفات پر لیاقت علی خاں نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا: مجھے اس میں ذرا بھی شبہ ہیں کہ تاریخ قائد اعظم کا شمار دنیا کی عظیم ہستیوں میں کریگی۔ دنیا میں کم آدمیوں کو یہ نصیب ہوا ہے کہ وہ ایک عظیم الشان کام کو ہاتھ میں لیں اور اپنی ہمت‘ عزم اور دانش سے اس کو اپنی زندگی ہی میں پروان چڑھتا دیکھیں۔ قائد اعظم نے نہ صرف پاکستان کا نصب العین مسلمانوں کے سامنے پیش کیا بلکہ اس کیلئے جدوجہد کر کے دنیا میں سب سے بڑی اسلامی ریاست قائم کر دی۔ قائد اعظم ان برگزیدہ ہستیوں میں سے تھے جو دنیا میں کبھی کبھی پیدا ہوتی ہیں۔ اپنی تمام سیاسی زندگی میں انہیں ملت اسلامیہ کی بہبود منظور تھی اور وہ اسی کیلئے کوشاں رہے۔ قائد اعظم کی وفات سے جو صدمہ قوم کو پہنچا ہے اور جو رنج سب پر طاری ہے مجھے اسکا اندازہ ہے‘ لیکن مجھے جو صدمہ ہوا ہے اور جس کرب میں میں مبتلا ہوں اسکا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔
فروری 1949ء میں کراچی میں مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت نے کہا: مسلمان ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے‘ ہزاروں باپردہ خواتین اغوا ہوئیں‘ ہزاروں بچوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا‘ لاکھوں مہاجرین پاکستان آئے‘ ان کے سر پر آسمان اور نیچے زمین تھی۔ یہ لوگ بھوکے تھے‘ ننگے تھے‘ بیمار تھے‘ ناتواں تھے اور انہوں نے سینکڑوں میل پیدل سفر طے کیا تھا وہ راستے میں دریافت کرتے ’’پاکستان آ گیا ہے‘‘؟ اور یہ جواب پا کر کہ ابھی پاکستان نہیں آیا وہ پھر پرامید ہو کر چلنا شروع کر دیتے تھے ان میں سے کچھ پاکستان کی سرزمین پر پہنچ کر خدا کا شکر ادا کرتے‘ گرجاتے اور پھر کبھی نہ اٹھتے‘‘۔
اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان کے مسلمان‘ پاکستان کیلئے قربانیاں نہ دیتے تو پاکستان قائم نہ ہوتا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا حشر کیا ہو گا انہوں نے جان‘ عزت‘ مال کو خطرے میں ڈالا‘ صرف اس لئے کہ اکثریت کے علاقوں کے مسلمان اسلامی طریقہ سے زندگی بسر کریں اور پاکستان دنیائے اسلام کی خدمت کر سکے۔ آپ بھی انکے اس ایثار کو نہ بھولیں ہم کبھی اسلام کے نام لیوائوں کو فراموش نہیں کر سکتے۔
لیاقت علی خان کے وزارت عظمیٰ کے دور میں ایک موقع پر بھارتی حکومت نے اپنی فوجیں پاکستان کی سرحدوں پر لا کھڑی کیں اس سے اہل پاکستان کو سخت تشویش تھی‘ لیکن قائد ملت لیاقت علی خاں نے قوم سے خطاب کیا‘ انہیں اطمینان دلایا اور تسلی دی کہ انکی حفاظت کا مکمل انتظام موجود ہے وہ کسی قسم کی فکر اور پریشانی کو اپنے پاس نہ آنے دیں۔ ساری قوم منظم اور متحد ہو کر آرام سے زندگی بسر کرے۔ ہم دشمن کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں خدا کے فضل وکرم سے ہمیں کسی دشمن سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کی مٹھی بند کر کے مکا ہوا میں لہراتے ہوئے کہا: آج سے ہر دشمن کے غلط عزائم کے مقابلے کیلئے ہمارا قومی نشان یہ مکا ہے۔
لیاقت علی خاں کے دور کا سب سے اہم کارنامہ ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی منظوری ہے۔ پاکستان 14 اگست 1947ء کو وجود میں آ گیا تھا لیکن اس کا آئین ابھی تیار نہیں ہوا تھا۔ مسلمانوں کا یہ تقاضہ تھا کہ اس ملک میں اسلامی اصولوں پر آئین بنایا جائے۔ چنانچہ اس سلسلے میں مولانا شبیر احمد عثمانی‘ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور دیگر علمائے کرام کی متفقہ کوشش سے لیاقت علی خاں نے 7 مارچ 1949ء کو دستور ساز اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جسے ’’قرارداد مقاصد‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ قرارداد 12 مارچ 1949ء کو منظور کی گئی۔ اسکے مطابق ساری کائنات پر حاکمیت کا حق بلا شرکت غیرے اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور اس نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیار حکمرانی اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کیلئے نیابۃً عطا کیا ہے‘ اس لئے دستور ساز اسمبلی آزاد و خودمختار مملکت پاکستان کیلئے ایک ایسا دستور مرتب کرے…
-1 جس میں اصولِ جمہوریت ومساوات ورواداری اور عدل عمرانی کو جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے۔
-2جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگیاں اسلامی تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق جو قرآن مجید اور سنت رسول میں متعین ہیں ڈھال سکیں۔
-3 جس کی رو سے اس امر کا ضروری انتظام کیا جائے کہ اقلیتیں آزادی کیساتھ اپنے مذہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور اس پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافت کو ترقی دے سکیں۔
12 مارچ 1949ء کو لیاقت علی خاں نے قرارداد مقاصد کی منظوری کے وقت تقریر کرتے ہوئے کہا: ہم اپنے ہاں اقلیت کیلئے جو کچھ کر رہے ہیں آرزو صرف یہی ہے کہ ہندوستان بھی اپنی اقلیتوں کو یہی مراعات اور تحفظات فراہم کرے۔
ستمبر 1949ء میں برطانیہ نے ڈالر کے مقابلے پر اپنے پونڈ کی قیمت کم کر دی۔ برطانیہ کے اس فیصلے کے بعد دنیا کے بہت سے ملکوں میں جن میں بھارت بھی شامل تھا اپنے اپنے سکوں کی قیمت کم کر دی‘ لیکن لیاقت علی خاں نے طے کیا کہ پاکستان اپنے روپے کی قیمت قائم رکھے گا۔ دنیا حیران رہ گئی‘ ایک سو پاکستانی روپے‘ تقریباً ڈیڑھ سو ہندوستانی روپیوں کے برابر ہو گئے۔ بھارت میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ یہاں تک کہ اس نے پاکستان کے مقرر کردہ شرح مبادلہ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے پاکستان سے تجارتی تعلقات منقطع کر لئے اور کوئلے کی فراہمی روک دی۔ ان دنوں پاکستان کے ریلوے انجن بھارت سے درآمد شدہ کوئلے سے چلتے تھے۔ ادھر بھارت کی ملوں کیلئے خام مال کی صورت میں کپاس اور پٹ سن پاکستان فراہم کرتا تھا ہندوستان کے رویہ کے پیش نظر لیاقت علی خاں نے صاف صاف کہہ دیا کہ پاکستان اپنا پٹ سن خلیج بنگال میں غرق کر دیگا لیکن بھارت کے ہاتھوں فروخت نہیں کریگا۔ پاکستان نے اسکی فروخت کیلئے دوسری منڈیاں ڈھونڈ لیں اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خام مال نہ ہونے کی وجہ سے بھارت کی ملیں بند ہو گئیں ادھر پاکستان نے دوسرے ممالک سے کوئلہ خرید لیا لیاقت علی خاں نے روپے کی قیمت کم کرنے کیلئے دبائو قبول نہ کیا۔ چھ ماہ کے اندر بھارت نے ہار مان لی اور پاکستانی سکے کی مقرر کردہ قیمت کو تسلیم کر لیا۔ پٹ سن اور روئی کی زبردست فروخت اور سکے کی قیمت کم نہ کرنے کی وجہ سے ملک میں خوش حالی پھیل گئی۔
لیاقت علی خان کی شہادت سے تقریباً ایک مہینہ پہلے ایک افسوس ناک واقعہ ہوا۔ ستمبر 1951ء میں قائد اعظم کی برسی پر محترمہ فاطمہ جناح کی تقریر کے بعد حصے ریڈیو سے براڈکاسٹ نہ کئے گئے۔ براڈ کاسٹنگ کنٹرولر نے ٹیکنیکل خرابی کا بہانہ بنایا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے جواب دیا: آپ لوگوں کے پاس ایسے ٹرانسمیٹر ہیں جو آپکی مرضی کیمطابق عین وقت پر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
16 اکتوبر 1951ء کو وہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے کیلئے کراچی سے روانہ ہوئے گھر سے روانہ ہوتے وقت ان کے بیٹے اکبر اور اشرف سکول جا رہے تھے۔ اکبر نے کہا: ڈیڈ ہم آپکے ساتھ چلیں گے۔ انہوں نے کہا: نہیں تم اپنے سکول جائو گے۔ راولپنڈی میں چار بجے کے قریب وہ جلسہ گاہ پہنچے اور چند منٹ بعد تقریر کیلئے کھڑے ہوئے۔ ابھی انہوں نے صرف برادران ملت ہی کہا تھا کہ سید اکبر نامی ایک شخص نے ان پر پستول سے فائر کئے وہ گولیاں انکے سینے میں لگیں اور خون بہنے لگا۔ انکے پولیٹیکل سیکرٹری ان کے پیچھے تھے۔ انہوں نے سہارا دیا۔ لیاقت علی خاں نے نحیف آواز میں کہا: مجھے گولی لگ گئی ہے اسکے بعد کلمہ پڑھا اور کہا کہ ’’خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘ اسکے بعد وہ بے ہوش ہو گئے۔ انہیں فوراً! کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا جہاں جسم میں خون پہنچائے جانے کے باوجود وہ فوت ہو گئے۔ شہادت پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کا مقدر تھی۔ انکی وفات پر تمام ملک سوگوار تھا۔ انہیں کراچی میں قائد اعظم کے پہلے میں دفنا یا گیا۔ آج تک انکے قتل کا سراغ نہیں مل سکا۔ …؎
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
وزیر اعظم لیاقت علی خاں کا قتل پاکستان میں سیاسی استحکام کیخلاف پہلی سازش تھی۔ مجرموں کا سراغ لگا کر انہیں سزا دینے میں جو غفلت برتی گئی اس سے آئندہ کیلئے بھی سازشی افراد کی حوصلہ افزائی ہوئی اور اس سے آج ہم اس حالت کو پہنچ گئے ہیں۔