عورت کا تیسرا رخ … نقاب اٹھائیے!!!

عارفہ صبح خان ۔۔۔
بظاہر یہ ایک خبر ہے کہ ’’خواتین ارکان اسمبلی مرد حضرات سے امیر نکلیں‘‘۔ الیکشن گوشواروں سے معلوم ہوا ہے کہ سینٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کی 15 خواتین ارکان ایسی ہیں جن کے اثاثے مرد ارکانِ اسمبلی سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگر الیکشن گوشواروں کا بغور مطالعہ کیا جائے یا خواتین ارکان کے اثاثوں کی صحیح جانچ پڑتال کی جائے تو حیرتوں کا زلزلہ اور دُکھوں کا سیلاب امنڈ آئے کیونکہ اکثر خواتین نے اپنے اثاثے اصل سے 70 گنا کم درج کرائے ہیں۔ حقیقت میں تعداد 15 سے تین گنا زیادہ ہے۔ ارب پتی خواتین کی تعداد 40 سے 50 کے قریب ہے۔ ان میں اگر اُن خواتین سیاستدانوں اور سابقہ ارکان اسمبلی کو بھی شمار کر لیا جائے جو اب اسمبلی سے باہر ہیں تو ایسی خواتین کو بآسانی دریافت کیا جاسکتا ہے جو خیر سے ارب پتی ہیں۔ امیر ہونا کوئی بُری بات نہیں بلکہ عورت ذات کا امیر اور خودمختار ہونا تو ملکی ترقی کی ضمانت اور فخر کا امر ہے بشرطیکہ اس میں غریبوں کا خون نہ چُوسا گیا ہو، قومی خزانے پر نقب نہ لگائی گئی ہو۔ غرضیکہ حقائق کا در کھولیں تو انکشافات کا نہ ختم ہونیوالا سلسلہ شروع ہو جائیگا۔ فی الحال فرزانہ شاہ نے 15 ارب پتی خواتین کا راز فاش کیا ہے۔ ممکن ہے اس کھیپ میں دو چار کھرب پتی عورتیں بھی ہوں اور چھپی رستم ہوں۔ عمر کی طرح اثاثے بھی نصف بیان کرتی ہوں کہ کہیں حاسدوں کی نظر نہ لگ جائے یا انکم ٹیکس والے ندیدوں کی طرح ٹیکس مانگنے نہ پہنچ جائیں۔ اکثر خواتین ارکان کروڑ پتی ہیں اور ’’نصف ارب پتی‘‘ کہلائے جانے کے لائق ہیں‘ البتہ لکھ پتی خواتین اسمبلی کی تعداد نسبتاً کم ہے اور ایسی خواتین ارکان جنہیں ’’ہزار پتی‘‘ یا غریب اور سفید پوش کہہ سکیں وہ بمشکل مل سکیں گی۔ ممکن ہے 300 سے زائد ارکان اسمبلی میں سے ایک دو نادر مثالیں موجود ہوں۔ اس لحاظ سے صنفِ نازک کو یہ امتیاز اور فخر تو نصیب ہوا کہ پاکستانی خواتین ارکان اسمبلی دنیا کی امیرترین ارکان اسمبلی ہیں۔ اس طرح خواتین ارکان سینٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کی تخصیص یوں کی جاسکتی ہے۔ 1 فیصد کھرب پتی خواتین، 8 فیصد ارب پتی خواتین، 75 فیصد کروڑ پتی، 15 فیصد لکھ پتی اور 1 فیصد ہزار پتی خواتین۔ گویا ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد کا تعلق طبقۂ امراء سے ہے۔ بعض خواتین تو اس قدر متمول اور خوشحال ہیں کہ اگر وہ تنخواہیں، الائونسز، مراعات، فنڈز کمیشن نہ لیں تو انہیں رتی برابر فرق نہیں پڑتا مگر قومی خزانے کو اس سے ضرور فرق پڑتا ہے۔ تاہم آپکو یہ سن کر تکلیف دہ حیرت ہوگی کہ یہ امیر و کبیر خواتین ایک چونی بھی معاف نہیں کرتیں۔ شاید آپکو یہ جان کر مزید تعجب ہو کہ خواتین کی اکثریت کنجوس بھی ہوتی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو خود کہتی تھیں کہ وہ پیسے بہت احتیاط سے خرچ کرتی ہیں۔ انہوں نے ایک بار مجھے انٹرویو میں کہا کہ میں فضول خرچ بالکل نہیں ہوں۔ بینظیر بھٹو کے مقابلے میں میاں نواز شریف بڑے کھُلے دل والے اور شاہ خرچ تھے۔ شاید اسی لئے جب لوگ خصوصاً صحافی برادری بینظیر نواز شریف ادوار کا موازنہ کرتے ہیں تو میاں نواز شریف کو زیادہ نمبر دیتے ہیں۔ اس موقع پر مجھے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان یاد آگئی ہیں۔ 2002ء میں اپنی سیاسی کامیابی پر وہ میرے پاس مٹھائی کا اتنا بڑا ٹوکرا لائیں کہ دفتر میں سب نے مٹھائی کھانے کی طرح کھائی۔ اس دوران انہوں نے اپنی ڈائمنڈ جیولری کا قصہ چھیڑ دیا اور کہنے لگیں کہ انہیں جیولری اور میک اپ سے الرجی ہے۔(جاری ہے)