شہید ملت لیاقت علی خان

عزیز ظفر آزاد ۔۔۔
1928ء کی آل پارٹیز کنونشن کے موقع پر قائداعظم سے ملے ۔ ملاقات میں دونوں اطراف سے گہرے خلوص کا مظاہرہ ہوا اور خیالات میں ہم آہنگی ہوئی اس کا ثبوت یہ ہے کہ قائداعظم جب چند مسلم لیگیوں سے خفا ہو کر لندن میںاپنی ہمشیرہ کے ہمراہ مستقل سکونت اختیار کی تو قائد ملت ہی تھے جو قائداعظم کو مسلمانان ہند کی قیادت کیلئے رضامند کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 1934ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس ممبئی کے اجلاس کی کاروائی کے دوران قائداعظم نے لیاقت علی خان کو پارٹی کے اعزازی سیکرٹری کے عہدے کے لئے تائید کی ۔ دونوں رہنمائوں کے فکری اشتراک کے باعث منتشر قوم ایک منظم تحریک کی صورت میں تبدیل ہوتی چلی گئی ۔ علامہ اقبال اور قائداعظم کی رہنمائی اور لیاقت علی خان کی تنظیمی صلاحیتو ں کی بدولت مسلم لیگ ہندوستان کے کونے کونے میں نظر آنے لگی ۔ اب مسلم لیگ میں کہیں گروہ بندی تھی نہ شخصیات کا ٹکرائو ۔ لیاقت علی خان مسٹر جناح کو اپنا رہبر اور قوم کا نجات دہندہ تصور کرتے تھے ۔ اسی طرح قائد کو پورے ہند میں سب سے زیادہ بھروسہ اعتماد لیاقت علی خان کی ذات پر تھا اسی لئے تحریک پاکستان سے قیام پاکستان کے تمام مراحل تک مسلم لیگ کے سب سے اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے مزاج شناس اور اصولوں پر کاربند تھے اس لئے کسی موقع پر اختلاف نظر نہیں آتا ۔ آپ کی لیاقت وفاشعاری اور انتھک محنتی مزاج نے قائد کا دل موہ لیا تھا لہذا ہر اہم معاملے میں کسی بھی اہم ترین ذمہ دار منصب کے لئے پہلی نظر انتخاب لیاقت علی خان تھے ۔ 1946ء میں وائسرائے کے ایگزیکٹو کونسل کے رکن بنے اور حضرت قائداعظم کے ہمراہ مسلمانان ہند کی نمائندگی کے لئے انگلستان گئے 1946ء میں ہندو اور انگریز نے یہ جان کر مسلمان اقتصادی امور میں کماحقہ واقف نہیں لہذا خزانے کی وزارت مسلم لیگ کو دی گئی ۔ قائداعظم نے ایک بار پھر لیاقت علی خان کو آگے بڑھایا قائدملت نے بڑی ماہرانہ انداز میں ایک ایسا انقلابی بجٹ پیش کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی کہ سارے ٹیکس سرمایہ دار اور جاگیردار پر عائد کئے ۔ سچے عوامی لیڈر ہونے کا ثبوت دیا ۔14 اگست 1947ء قائد اعظم قانون ساز اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے تو لیاقت علی خان نے وزارت عظمی کی ذمہ داری سنبھالی ۔ سیاسی جدوجہد کی کامیابی سے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست حاصل کی گئی ۔ ایسی گھمبیر صورت میں شاید ہی کوئی مائی کا لعل اتنا بڑا چیلنج قبول کرتا ۔ ایک جانب لاکھوں مہاجرین کی آمد ، رہائش ، خوراک اورعلاج کا مسئلہ ، مملکتی اداروں کا قیام ، دشمنوں کی ریشہ دوانیاں اور اپنوں کی تنقید ، اقتصادی وخارجی محاذ پر کمال کامیابی ، فوج کی تنظیم نو ، بیرونی دبائو کے باوجود کوریا کی جنگ میں پاک فوج کو نہ بھیجنے کا جرات مندانہ فیصلہ ،برطانوی کرنسی کی قیمت کم ہونے کے باوجود اپنی کرنسی کی قیمت کم نہ کرنا جبکہ بھارت اپنی کرنسی کی قیمت کم کرچکا تھا ایک دانشمند لیڈر کا ہی حصہ ہے ۔ قائدملت نے فوج میں بنگالیوں کو زیادہ سے زیادہ بھرتی کرنے کے احکامات جاری کئے ۔ اصلاحات کمیٹی قائم کی جس کی رپورٹ آپ کی شہادت کے بعد منظر عام پر آئی ۔قائد ملت نے نظریاتی لام بندی کی غرض سے 7 مارچ 1949ء کو قرار داد مقاصد ایوان میں پیش کرکے پاس کروائی جو تاریخ ساز کارنامہ ہے ۔25نومبر 1949ء کو کراچی میں اسلامی اقتصادی کانفرنس منعقد کی ۔
آج جس ملک کو کرپشن میں ڈوبا ہوا دیکھ رہے ہیں اس کا ایک وزیراعظم جو بڑانوابزادہ بھی تھا اس کے اکائونٹ میں ڈیڑھ سو روپیہ نکلا۔ بوقت شہادت شیروانی پیوند لگی، جرابیں اور بنیان پھٹی ہوئی تھی۔ اس نے اپنی جائیداد کا کلیم داخل نہیں کیا نہ ہی اپنے عزیز اقارب کو کسی قسم کی سہولت دی ۔
قائد ملت نے یہ کہہ کر اپنی جائیداد کا کلیم نہیں دیا کہ لیڈر قوم کو کچھ دیا کرتے ہیں لیا نہیں کرتے۔ سعید احمد کرمانی صاحب بتا رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی کوشش تھی کہ مسلم لیگ کس سیکرٹری کسی اور کو بنا دیا جائے مگر قائداعظم نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اس سازش کو ناکام بنایا اکثر لوگ کسی بڑے کی جگہ بیٹھ کر بڑے ہوتے ہیں لیاقت علی بڑے لوگوں کی موجودگی میں اپنے کردار کی بنیاد پر بڑے تھے ۔ تاریخ کف افسوس ملتی رہے گی کہ ہم نے اس عظیم المرتبت شخصیت کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر دیا ‘جو جیتا تو غریبوں کے لئے‘ مرا تو غریبوں کیلئے ۔