حضرت پیر سید شبیر حسین شاہ حافظ آبادی

تحریر: ضمیرالحسن شاہ حافظ آبادی
عالمِ اسلام کا عظیم خطیب جس نے نصف صدی تک دنیا کے کونے کونے میں اپنی سرانگیز خطابت کے ڈنکے بجائے اور لاکھوں متلاشیانِ حق کے سینوں کو محبت رسولؐ کے ساتھ ساتھ عظمتِ صحابہؓ و اہلبیتؓ سے لبریز کیا۔ وہ 6 اکتوبر 2010ء کی دوپہر کو دُنیا بھر میں اپنے لاکھوں عقیدتمندوں کو داغِ مفارقت دیکر راہی ملک عدم گیر ہو گیا۔ پیر سید شبیر حسین شاہ حافظ آبادی کا جنازہ اُٹھا تو انسانوں کا ایک سمندر اُمڈ آیا۔ ملک کا کوئی شہر ایسا نہ ہوگا جہاں سے علماء و مشائخ اور آپکے عقیدتمندوں نے نمازِ جنازہ میں شرکت نہ کی ہوا۔ شہر کے تمام بازار، مارکیٹیں اور منڈیاں آپ کے سوگ میں بند تھیں جنازہ پر لوگوں نے منوں کے حساب سے پھول نچھاور کئے۔ ہزاروں عقیدتمند دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ اُس وقت راقم کو آپؒ کا یہ شعر یاد آرہا تھا۔
شبیر تیرے مرنے پر ہر سُو شور مچ جائے گا
دیکھو گے الوداع کہنے سرکارؐ تشریف لائینگے
پیر سید شبیر حسین شاہ حافظ آبادی 1947ء میں گوجرانوالہ کے ایک قصبہ منڈیالہ تیگہ میں پیر سید نواب علیشاہؒ کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپؒ کو دینی تعلیم کیلئے دارالعلوم بھکی شریف میں داخل کروا دیا گیا۔ جہاں آپؒ نے درسِ نظامی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ آپؒ کچھ عرصہ جامعہ سراج العلوم گوجرانوالہ میں بھی زیرتعلیم رہے۔ دینی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد آپؒ نے 1971ء میں حافظ آباد کو اپنی دینی، ملی و سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ یہاں آپؒ نے مرکزی جامع مسجد الفاروق میں خطابت کو عام خطباء اور واعظین کے برعکس ایک نئی جہت دیتے ہوئے شروع کیا۔ آپؒ کے منفرد طرز خطابت، خوش الحانی اور سحرانگیز آواز کیوجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے یہاں عشاقان کا تانتا بندھنے لگا۔ واقعہ کربلا کو آپؒ نے ایسے دلسوز انداز میں بیان کیا کہ لاکھوں عشاقان کی آنکھوں سے آنسوئوں کا نہ رکنے والا سیلاب آج تک جاری و ساری ہے۔ ملک کے کونے کونے اور شہر شہر سے لوگ آپ کی جادو بھری آواز کی شعلہ نوائی اور منفرد طرزِ خطابت کو سننے کیلئے دیوانہ وار یہاں آتے اور پھر اپنے قلوب کو عشق رسولؐ، محبت صحابہؓ و اہلبیت سے لبریز کر کے واپس لوٹتے۔ واقعہ کربلا کو بیان کرنے میں جو منفرد انداز آپؒ نے اختیار کیا۔ اس سے آپؒ کی شہرت دیکھتے ہی دیکھتے ملک سے نکل کر بیرون ملک بلکہ پوری دُنیا میں پہنچ گئی۔ آپؒ کی تقاریر کی کیسٹیں دُنیا کے کونے کونے میں سنی جانے لگیں۔ ہر سال محرم کا چاند دکھائی دیتا تو گلی کوچوں سے لیکر ٹریکٹر ٹرالیوں اور محراب و منبر سے آپؒ کی آواز میں پیر ہند حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی فارسی کی یہ رباعی بلند ہونے لگتی۔
شاہ است حسینؓ ۔ بادشاہ است حسینؓ
دین است حسینؓ ۔ دین پناہ است حسینؓ
پیر سید شبیر حافظ آبادی باغ و بہار والی شخصیت تھے۔ جو ایک بار آپؒ کی مجلس میں بیٹھ جاتا۔ زندگی بھر میں آپؒ کی یادوں اور حسین لمحات کے تذکرے لئے پھرتا آپؒ کا محبت بھرا انداز دِلوں کو موہ لیتا۔ تکبر و رعونت کو قریب نہ آنے دیتے عقیدتمندوں سے ہمیشہ والہانہ انداز میں ملتے۔ آپؒ عظیم خطیب ہونے کے ساتھ بلند پایہ دانشور، جید عالم دین، سکالر، شاعر اور بہت بڑے ماہر نفسیات بھی تھے۔ موقع محل کی مناسبت سے گفتگو کرنے میں اُن کا کوئی ثانی نہ تھا۔ حاضر جوابی میں اپنی مثال آپ تھے۔
پیر سید شبیر شاہ نے تبلیغ دین کے سلسلہ میں لاکھوں میل کا سفر طے کیا۔ آپؒ نے 25 سے زائد کتب تصانیف کیں۔ جن میں قرآن پاک کی تفسیر، شرح بخاری اور حقوق والدین پر سفیر امن نمایاں ہیں۔
دُنیا کے کونے کونے میں گونجنے والی آواز خاموش ہونے پر جب پیر سید شبیر شاہؒ کا جنازہ اُٹھا تو ہر طرف سے یہ صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نِکلے
محبوبؐ کی گلی ہے ذرا گھوم کے نِکلے