اسلامی تاریخ کا آغاز کہاں سے ہوا

غلام اکبر ۔۔۔
ہمارا ایمان ہے کہ اسلام دین کامل ہے۔ جو مسلمان اسلام کے دین کامل یعنی مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین کامل نہیں رکھتا اس کے ایمان کو کمزور سمجھا جائیگا اور اگر اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو وہ یقینی طور پر ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس میں ہمارے لئے نظام حکمرانی اور معاملات مملکت کے بارے میں پوری رہنمائی موجود نہ ہو ۔۔۔؟
مجھے اعتراف ہے کہ علامہ اقبال علیہ الرحمۃ کا پرستار ہونے کے باوجود میں نے اپنی فکری زندگی کا کافی حصہ مغرب سے درآمد شدہ نظریات کے تعاقب میں گزارا ہے۔ پاکستان میں مغرب سے درآمد شدہ تینوں نظام آزمائے گئے ہیں۔ کبھی یہاں غیر جمہوری ری پبلکن ازم کا دور دورہ رہا ہے، کبھی یہاں برطانوی طرز کا پارلیمانی نظام آزمایا گیا ہے اور کبھی یہاں خالص فوجی آمریت کا سکہ چلا ہے۔ غیر جمہوری ری پبلکن ازم کے سلسلے میں، میں غلام محمد اور سکندر مرزا کے ادوار کی مثال دوں گا۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل ایوب خان کی مسلم لیگی حکومت کا ذکر بھی کیا جا سکتا ہے۔ شاید جنرل ضیاالحق کے دور کے اس حصے کا بھی جب محمد خان جونیجو وزیراعظم تھے۔ اور جنرل پرویز مشرف کی سرپرستی میں چلنے والے اس دور کا بھی جس میں تین وزرائے اعظم ’’حکم حاکم‘‘ کیمطابق حکومت کرتے رہے۔
جہاں تک خالص فوجی آمریتوں کا تعلق ہے ، ان میں فیلڈ مارشل ایوب خان کے پہلے پانچ برس، جنرل یحییٰ خان کے پونے تین برس، جناب ذوالفقار علی بھٹو کے وہ پونے دو برس جب وہ جنرل یحییٰ خان کے اختیارات کیساتھ ان کے جانشین کے طور پر حکومت کر رہے تھے ، جنرل ضیاالحق کے ابتدائی ساڑھے سات برس اور جنرل پرویز مشرف کے ابتدائی تین برس شمار کئے جاسکتے ہیں۔برطانوی انداز کی جمہوریت میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاںنوازشریف کے دونوں ادوار کے دس سال اور ذوالفقار علی بھٹو کے آئینی دور کے چار برس آتے ہیں۔
مطلب اس کا یہ ہوا کہ موجودہ دور سے پہلے ری پبلکنزم کے تحت پاکستان نے چوبیس برس، پارلیمانی جمہوریت کے تحت چودہ برس اور خالص فوجی آمریت کے تحت تقریباً بیس برس گزار ے ہیں۔ فوجی آمریت کے بیس برسوں میں ذوالفقارعلی بھٹو کا وہ دور بھی شامل ہے جب وہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے ملک کی تقدیر کے فیصلے کر رہے تھے۔اگر پاکستان کی 63 سالہ تاریخ کوسول اور فوجی ادوار میں تقسیم کیا جائے تو سول حکومتوں کا کل دور تقریباً انیتس برس اور فوجی حکومتوں کا 34 برس بنتا ہے۔ اس دوران پاکستان کو تین مرتبہ باقاعدہ یا نیم باقاعدہ آئین دیئے گئے ہیں اور متعدد بار ایسے قوانین کے شکنجے میں رکھا گیا ہے جو کسی نہ کسی مرد آہن کی منشا کی تخلیق تھے۔
میں نے یہ سارا نقشہ محض یہ بتانے کیلئے کھینچا ہے کہ اب تک ہماری تمام تر حکومتوں کو رہنمائی مغرب میں آزمائے جانیوالے نظاموں سے ملی ہے۔میں یہاں جنرل فرانکو کے سپین، ایڈولف ہٹلر کی جرمن ری پبلک اور برطانیہ کی جمہوری بادشاہت کا ذکر کروں گا۔
ہم نے اپنے تمام رہنما اصول ان ہی یا ان جیسی ہی حکومتوں سے حاصل کئے ہیں۔ ہمیں اپنی اس بدقسمتی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے کہ غلامی کے دور میں خطہ ارض کے اس حصے میں جسے پاکستان کا نام دیا جانا تھا فیوڈلزم کو کچھ ایسی فیصلہ کن بالادستی حاصل ہوئی کہ ہمارے عوام آج ایک آزاد ملک کے باسی ہونے کے باوجود آزاد نہیں۔ آج انکی تقدیر انگزیروں کے ہاتھوں میں تو نہیں مگر انکے مقدر کے تمام تر فیصلے چودھریوں، خانوں، وڈیروں، مخدوموں، سرداروں، نوابزادوں، صاحبزادوں اور پیروں کے ہاتھوں ہوتے رہے ہیں۔ اس بات سے کبھی کوئی فرق نہیں پڑا کہ حکومت جمہوری تھی یا غیر جمہوری‘ مثال اسکی یہ دونگا کہ موجودہ جمہوری وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ٗ جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے بھی رکن تھے اور آج جمہوریت کی سربلندی کے سب سے بڑے دعویدار نواز شریف کی سیاسی ولادت ضیائی دور کی آغوش میں ہوئی۔
اب میں واپس اس موضوع کی طرف آتا ہوں جس پر روشنی ڈالنے کیلئے میں نے یہ ساری تمہید باندھی ہے۔کیا اپنے لئے ایک آئیڈیل نظام حکومت تشکیل دینے کیلئے ہم اسلامی تاریخ سے رہنمائی حاصل نہیں کر سکتے؟ سیاسی نقطہ نظر سے اسلامی تاریخ اس عظیم بیعت سے شروع ہوتی ہے جسے ’’بیعت عقبہ ثانیہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
عقبہ مکہ کے قریب وہ گھاٹی تھی جہاں آنحضرتؐ کی ملاقات مدینہ سے آنیوالے وفد کیساتھ ہوئی تھی۔ اس وفد میں مدینہ کے مسلمان بھی شامل تھے اور وہ غیر مسلم بھی جو مسلمانوں کیساتھ ہمدردی رکھتے تھے۔
اس ملاقات کے دوران ایک روایت کے مطابق آنحضرت ؐ کے چچا حضرت عباسؓ نے کہا تھا۔
’’مدینہ والو! محمدؐ اپنے خاندان میں ہے اور اس کا خاندان اسکی حفاظت کرتا ہے۔ تم اس کو اپنے یہاں لے جانا چاہتے ہو۔ یہ یاد رکھو کہ تمہیں محمدؐ کی حفاظت کرنی پڑیگی۔ اسکی حفاظت کوئی آسان کام نہیں‘ اگر تم خونریز لڑائیوں اور قربانیوں کیلئے تیار ہو تو اسے ساتھ لے جائو۔ ورنہ اسے ساتھ لے جانے کا نام نہ لو۔‘‘
جواب میں مدینہ کے ایک صحابی برأ بن معرور ؓ نے کہا ’’ تمہاری بات ہم نے سن لی۔ عباس ؓ ! اب ہم رسول اللہ ﷺ کی بات سننا چاہتے ہیں۔‘‘
اس موقع پر آنحضرت ؐ نے وہ تاریخی تقریر کی جسے آپؐ کا پہلا سیاسی خطبہ کہا جا سکتا ہے۔ پہلے آپ ؐ نے کچھ آیات پڑھیں۔ پھرحقوق اللہ بیان کئے اور اسکے بعد حقوق العباد کا ذکر بڑی تفصیل کیساتھ کرتے ہوئے فرمایا کہ مدینہ میں ایک ساتھ رہنے کے معاملے میں مدینہ والوں پر کافی بڑی ذمہ داریاں عائد ہوں گی۔ براء بن معرور ؓ نے تمام باتیں سننے کے بعد کہا ۔
’’یا رسول اللہ ؐ ہم ہر ذمہ داری پوری کرنے کیلئے تیار ہیں۔‘‘ انکے بعد ایک اور صحابی حضرت ابولہثیم بن تیہان ؓ بولے! ’’وعدہ کریں کہ آپ ؐ ہمیں چھوڑ کر واپس نہیں آئیں گے۔‘‘
آنحضرتؐ نے فرمایا۔ ’’کبھی نہیں۔ میرا جینا اور میرا مرنا آپ لوگوں کے ساتھ ہوگا۔‘‘
اس موقع پر حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بولے:
’’یارسول اللہ ہمیں معاوضے میں کیا ملے گا؟‘‘
آپ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت اور رضا کے ساتھ جنت۔‘‘ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا ۔ ’’ہمیں یہ سودا منظور ہے۔‘‘ اسکے بعد سب نے آپ ؐ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہی بیعت اسلامی تاریخ کا آغاز سمجھی جانی چاہئے۔ جب بیعت ہو چکی تو حضرت اسعد بن زرارہ ؓ نے سب سے مخاطب ہو کرکہا۔
’’لوگو! آگاہ رہو کہ اس قول و اقرار کا مطلب یہ ہے کہ ہم ساری دنیا کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔‘‘
سب نے یک زبان ہو کر کہا ’’ ہاں ہم خوب جانتے ہیں کہ آج سے ہمارا مقابلہ ساری دنیا سے ہے۔‘‘ اسکے بعد آپ ؐ نے حاضرین میں سے بارہ افضل اصحاب کا انتخاب کیا اور انہیں مستقبل میں ریاست مدینہ کے نام سے پہچانی جانیوالی مملکت کا نقیب مقرر کیا۔اگر یہ کہا جائے تو نا درست نہیں ہوگا کہ یہ آنحضرت ؐ کی پہلی ’’بارہ رکنی‘‘ کابینہ تھی۔
ارکان کے نام یہ ہیں۔
(1) سعد بن زرارہ ؓ (2) اسید بن حصیر ؓ (3) ابوالہثیم بن التیہاں ؓ (4) براء بن معرورؓ (5) عبداللہ بن رواحہ ؓ (6) عبادہ بن صامت ؓ (7) سعد بن الربیع ؓ (8) سعد بن عبادہ ؓ (9) رافع بن مالک ؓ (10) عبداللہ بن عمروؓ (11) سعد بن حثیمہؓ اور (12) منذر بن عمرو ؓ ۔
ان بارہ سرداروں میں نو کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا اور تین کا قبیلہ اوس سے ۔
آنحضرتؐ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’میں تم کو تمہاری قوم کی تعلیم کا ذمہ دار بناتا ہوں اور میں تم سب کا ذمہ دار ہوں۔‘‘ یہ وہ ذمہ داری تھی جو اسلام کی پہلی ریاست کے سربراہ (آنحضرتؐ) نے اپنے مقرر کردہ سرداروں کیلئے منتخب کی۔ خود اپنے لئے بھی آپ ؐ نے اسی ذمہ داری کا انتخاب کیا۔
اپنے اپنے ’’عوام ‘‘ کو رسول ؐ کی تعلیم سے روشناس کرانا اس کابینہ کے ارکان کی ذمہ داری تھی اور اس کابینہ کے ارکان کو تعلیم دینا آپ ؐ نے اپنی ذمہ داری قرار فرمایا۔ پہلا سبق جو اس پہلی اسلامی ’’حکومت‘‘ کے قیام سے ہمیں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ امیر کا انتخاب کل (موجود) عوام کرتے ہیں اور اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ وہ افضل ترین ہے اور دوسرا اہم سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ منتخب امیر اپنی صوابدید پر بہترین لوگوں کو مختلف ذمہ داریوں کی تکمیل کیلئے منتخب کرتا ہے۔ہمیں یہاں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ آپ ؐ اللہ تعالیٰ کے رسول بھی تھے۔ آپ ؐ کی فضلیت عظمت اور برتری کو تائید ایزدی بھی حاصل تھی۔ مگر پھر بھی ’’ بیعت عقبہ ‘‘ کیساتھ جن اصحاب نے آپ ؐ کو اپنا ’’امیر‘‘ منتخب کیا اپنی مرضی کیساتھ منتخب کیا۔ منتخب کرنیوالوں میں سارے کے سارے مسلمان نہیں تھے۔ ان میں وہ غیر مسلم بھی شامل تھے جن کی ہمدردیاں تو اس وقت مسلمانوں کے ساتھ تھیں مگر اسلام انہوں نے بعد میں قبول کیا۔
امیر یا سربراہ کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے ہونا چاہئے۔ کیونکہ امیر یا سربراہ خدا کے بعد براہ راست عوام کو جوابدہ ہوتا ہے۔ منتخب امیر یا سربراہ اپنی مجلس شوریٰ یا کابینہ خود منتخب کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس اختیار کو استعمال کرنے کیلئے کس طریقے کو ترجیح دیتا ہے۔ آگے چل کر اس بات کی وضاحت اسلامی تاریخ کے ان برسوں کو سامنے رکھ کر کی جائیگی جن کا آغاز بیعت عقبہ سے ہوا اور اختتام حضرت علی ؓ کی شہادت پر۔