وزیراعظم نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
وزیراعظم نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی

وزیراعظم نواز شریف کی مشترکہ تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی آمد و رفت کا حال کچھ یوںتھا کہ ان کے آنے کا چرچا اس بات کے ساتھ زیادہ کیا جاتا رہا کہ وزیراعظم کے بغیرپروٹوکول گھومنے پھرنے کی ادا¶ں سے واقف ہیں اور ہم سب برطانیہ اور کینیڈا جیسے ملکوں کی ترقی اور عوام کی آسودگی پر فخر بھی کرتے ہیں اور وہاں کی آرام دہ زندگی میں بچوں کو رہائش پذیر ہوتا دیکھ کر بھی خوش ہوتے ہیں اور ان دو ممالک کا شہری ہونے پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں مگر اپنے ملک کے وزیراعظم کے بغیر پروٹوکول جانے کے فیصلے کو حیرت سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور یہی بے چارگی ہمارے ان بڑوں کو ان کے جعلی حصار سے نکلنے نہیں دیتی اور عوام کی غلامانہ سوچ وڈیرہ کلچر سے باہر نہیں آتی۔ یہ حقیقت ہے کہ آج ملک میں موجود جمہوریت پر فخر محسوس کیا جا سکتا ہے کیونکہ آج دنیا بھر میں بھی جو منظر دیکھا گیا اس سے ملک کی عزت میں اضافہ ہوا ہے اور اس جمہوریت کے لئے ہی پاکستان کی مختلف سیاسی پارٹیوں میں پیپلز پارٹی کی قربانیاں شامل ہیں اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی کوششوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا‘ جس کی وجہ سے آج پانامہ کیس کی تحقیقات کا سامنا وزیراعظم کو کرنا پڑ رہا ہے۔ ورنہ عوام تو جوابدہ رہتی ہے۔ بقول شاعر ....
اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح
ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح
وزیراعظم کی آمد پروٹوکول کے بغیر ہونے میں کوئی حکمت تو تھی مگر یہ حقیقت ہے کہ سیکورٹی اس قدر تھی کہ گلیاں سنسنان تھیں اور ہائی وے پر بے تحاشا ٹریفک میں عوام شدید مشکلات کا شکار تھے۔ اب اتنی سیکورٹی میں اگر پروٹوکول نہیں تھا تو صد شکر ہے کہ ہم نے بھی سکرین پر صرف تین پر آسائش گاڑیوں میں وزیراعظم کو جاتے دیکھا تو سر فخر سے بلند ہوا کہ ہم غلام قوم نہیں ہیں اور ملک میں ایسی جمہوریت ہے جو آمرانہ جمہوریت نہیں بلکہ عوام کی نمائندہ جمہوریت ہے۔ اﷲ کا شکر ادا کریں کہ قوم نے اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھا جس کی خواہش کرنا اس عوام کا حق ہے۔ پروٹوکول نہ ہونے کی بات کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ دو ہزار چھ سو اڑسٹھ سے زائد سیکورٹی اہلکار ڈیوٹی پر تھے۔ کچھ لوگ حسرت و یاس کے عالم میں بعض جملے ایسے کہہ رہے تھے جو زیادہ قابل تحسین نہیں تھے۔ مثلاً یہ کہا گیا کہ ”طاقت ور ترین منصب“ یا ”طاقتور ترین وزیراعظم“ اور یہی رعونت جمہوری حسن کو خراب بھی کرتی ہے۔ مگر اس بارے میں حکمرانوں سے زیادہ شاہ کے وفادار شامل ہیں۔ اب ملک میں اچھی روایات قائم ہو رہی ہیں تو ان کا خوشدلی کے ساتھ خیر مقدم کریں کیونکہ مکافات عمل صرف غریب عوام کے لئے نہیں ہے۔ اگر حکمران دولت کے انبار جمع کرتے وقت کچھ باتوں کا خیال رکھیں تو یہ دن انہیں دیکھنا نہیں پڑتا کیونکہ حکمران عوام کا خادم محض نعرے کے طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر نظر آنا چاہئے اور پھر عوام کی غربت اور حکمران کی امارت کا فاصلہ حد سے بڑھنا بھی خوشگوار نہیں ہوا کرتا۔ وزیراعظم کی آمد پر خاندان کا اکٹھ بھی دکھائی دیا اور یہ اس خاندان کے سیاسی مستقبل کے لئے ضروری تھا کیونکہ شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شریف اور وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز آنے والے دنوں کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن اس ملک میں اب نسل در نسل سیاست اور حکمرانی کتنا عرصہ اور چلے گی یہ بات ابھی فیصلہ کن طور پر نہیں کی جا سکتی۔ وزیراعظم کی واپسی کے لئے بھی گھڑیاں گنی جا رہی تھیں کہ وہ جوڈیشل اکیڈمی سے کب نکلیں اور میڈیا سے گفتگو کریں۔ گاڑیاں اور انتظامیہ کے جوڈیشل اکیڈمی کے گیٹ پربالکل تیار ہو جانے پر مرتضیٰ برلاس کا یہ شعر یاد آ گیا ....
چودھویں موسم گل کی ہے ذرا دھیان رکھو
آج ممکن ہے مرے گل کی سواری نکلے
اوروزیراعظم کی سواری نکلنے تک آصف کرمانی نے میڈیا کو مصروف رکھا اور بہت اچھا کیا کہ اس بات کی تردید بھی کر دی کہ وزیراعظم کے بیٹے پاکستانی شہری نہیں اور جواب نہ دیتے تو کیا بگاڑ لیتے ؟ لیکن جب کوئی خاندان عوام پر مزید حکمرانی کا خواب دیکھ رہا ہو تو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ وزیراعظم تقریباً تین گھنٹے بعد جوڈیشل اکیڈمی سے باہرنکلے تو میڈیا سے یوں مخاطب ہوئے۔ ان کی بات چیت کا مکمل متن یہ ہے۔
”میں ابھی ابھی جے آئی ٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کر کے آیا ہوں۔ میرے تمام اثاثوں‘ وسائل کی ساری دستاویزات پہلے ہی متعلقہ اداروں بشمول سپریم کورٹ کے پاس موجود ہیں ایک بار پھر ساری دستاویزات جے آئی ٹی کو دے دی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں آئین اور قانون کی سربلندی کے حوالے سے آج کا دن سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے۔ میں نے میری حکومت میں‘ میرے سارے خاندان نے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کر دیا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ تقریباً سواسال پہلے میں نے پانامہ کیس کا معاملہ سامنے آنے پر سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر مشتمل کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ میری پیش کش کو سیاسی تماشوں اور سازشوں کی نذر نہ کیا جاتا تو یہ معاملہ حل ہو چکا ہوتا۔ میں نے اﷲ کے فضل و کرم سے ایک ایک پائی کا حساب دے دیا ہے۔ میرے احتساب کا سلسلہ میری پیدائش سے پہلے 1936ءسے شروع ہواہے اور میری آئندہ نسلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ کوئی ایسا خاندان ہے ؟ کوئی ایسا خاندان ہے جس کی تین نسلوں کا ایسا بے رحمانہ احتساب ہوا ہو؟ میرا احتساب میرے سیاسی مخالفین پیپلزپارٹی کے دور میں بھی ہوا ہے۔ 1973ءسے شروع ہوا جب سارے اثاثے قومیائے گئے۔ جب میں کالج سے نیا نیا باہر آیا تھا اس انتقام کی بھی لمبی کہانی ہے۔ ہمارا احتساب مشرف کی آمریت نے بھی کیا۔ ہمارے گھروں تک قبضہ کر لیا گیا۔ اگر ذرا بھی سچائی ہوتی تو مشرف کو ہائی جیکنگ کے جھوٹے کیس کا سہارا نہ لینا پڑتا۔ آج ہماری حکومت ہے پاکستان کے عوام نے تیسری بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھایا ہے۔ آج خود اپنی حکومت میں اپنے آپ کو احتساب کے لئے پش کر دیا ہے۔ نہ ہمارے دامن پر کرپشن کا داغ پایا گیا نہ اب ایسا ہو گا۔ ہمارے مخالفین جتنا جی چاہیں الزامات لگائیں ‘ جتنا جی چاہیں سازشیں کریں انشاءاﷲ ناکام و نامراد رہیں گے۔ تیسری بار وزیراعظم بننے پر میں نے اربوں کھربوں کے منصوبوں کی منظوری دی۔ میرے موجودہ دور میں الحمدﷲ اتنی سرمایہ کاری ہوئی جتنی 65 سالوں میں نہیں ہوئی۔ میرے مخالفین اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کسی کرپشن بدعنوانی کک بیک یا کوئی الزام سامنے نہیں لا سکے۔ پاکستان کے عوام پر یہ بات واضح ہونا چاہئے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا سرکاری خزانے کی خوردبرد یا کرپشن کے کسی الزام سے دور دور تک تعلق نہیں۔ میں واضح کر دوں اب ہم تاریخ کا پہیہ پیچھے کی طرف نہیں موڑنے دیں گے۔ وہ زمانے گئے جب سب کچھ پردوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے۔ میں کچھ اور کہنا چاہتا تھا آپ کے ذہنوں میں بھی کئی سوال ہوں گے۔ میرے پاس بھی کہنے کو بہت کچھ ہے .... کسی اور موقع کے لئے اٹھا رکھتے ہیں“ .... وزیراعظم نواز شریف نے میڈیا کے سامنے یہ گفتگو کی اور اﷲ کی عدالت کا ذکر کیا مگر یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ عوام کے حالات اور حکمرانوں اور ان کے حالات میں زمین آسمان کا فرق نہیں ہوناچاہئے اور باقی رہی قومی سلامتی کے خطرے کی بات تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ مودی ہمارے حالات کے مطابق سرحدوں پر جھڑپیں شروع کر دیتے ہیں۔