تو ستانا ۔ ۔ ۔ کس کو کہتے ہیں ؟

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
تو ستانا ۔ ۔ ۔ کس کو کہتے ہیں ؟

دہلی سرکار نے اپنی روایتی منفی ذہنیت کا ایک تازہ ثبوت دیتے ہوئے چند روز قبل سمجھوتہ ایکسپریس کے ذریعے پاکستان آنے والے سو سے زائد سکھ زائرین کو پاکستان میں داخل ہونے سے جبراً روک دیا ۔ یاد رہے کہ ان سکھ یاتریوں کو دفترِ خارجہ پاکستان کی جانب سے باقاعدہ ویزا جاری کیا گیا تھا اور وہ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے ” گرو ارجن دیو “ کی برسی منانے کے لئے اپنے مذہبی تہوار ” جوڑ میلہ “ میں شرکت کے لئے پاکستان آ رہے تھے ۔ مگر اس وقت ان سکھ زائرین کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی جب دہلی سرکار کی جانب سے انھیں آخری لمحات میں مطلع کیا گیا کہ انھیں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت کسی طور نہیں دی جائے گی ۔ واضح رہے کہ گرو ارجن دیو 15 اپریل 1563 کو ” ترن تارن “ ( امرتسر ) کے مقام پر پیدا ہوئے اور 30 مئی 1606 کو فوت ہوئے ۔یہ ان کے پانچویں گرو تھے اور سکھ مذہبی روایات کے مطابق انھوں نے ہی سکھ مذہبی صحیفے ” گرو گرنتھ صاحب “ کی ابتدائی تدوین کی ۔ ظاہر سی بات ہے کہ سکھوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی اس سے بد ترین مثال ڈھونڈنے سے بھی کم کم ہی مل سکتی ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہو جاتاہے کہ دہلی کے حکمران اپنی مذہبی اقلیتوں سے کس قدر امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ سکھ زائرین کو لانے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو اسی وجہ سے بالکل خالی لوٹنا پڑا ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ ایک جانب ہندوستانی حکمران اپنی نام نہاد سکولر قدروں کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتے ہیں ۔ مگر دوسری جانب اپنی اقلیتوں کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ اس معاملے پر قدرے تفصیلی تبصرہ کرتے سنجیدہ حلقوں نے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ظلم و ستم ڈھانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہندوستان کی ستر سالہ تاریخ اسی سے عبارت ہے ۔ مثال کے طور پر ابھی تقریباً دو ہفتے قبل ” جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ “ اور ” آپریشن بلیو سٹار “ کی برسی گزری ۔اسی تناظر میں ماہرین نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف بھارتی ریاستی دہشتگردی کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں جون 1984 کے پہلے ہفتے کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے جب اندرا گاندھی کے دور میں بھارتی فوج نے تین سے آٹھ جون تک سکھوں کے متبرک مقام ” گولڈن ٹیمپل “ کی حرمت کو بری طرح پامال کیا اور محض ایک ہفتے کے اندر ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ آپریشن بلیو سٹار کے نام سے انڈین آرمی کی اس سفاکانہ مہم میں سنت جرنیل سنگھ” بھنڈرانوالہ“ سمیت بہت سے سکھ رہنما ہلاک کر دیئے گئے ۔اس کے رد عمل کے طور پر اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں ”ستونت سنگھ“ اور ”بے انت سنگھ“ کے ہاتھوں قتل ہو گئیں جس کے فوراً محض تین دن کے اندر اندر دہلی میں چھ ہزار سے زائد سکھ خواتین اور بچوں کو زندہ جلا دیا گیا ۔
اس کے علاوہ یہ بھی کھلا راز ہے کہ اٹھارہ فروری 2007 کو سمجھوتہ ایکسپریس سانحے میں سو سے زیاد ہ بے گناہ پاکستانی مسافروں کو زندہ جلا دیا گیا تھا مگر اس گھناﺅنے جرم کے مرکزی کرداروں ” سوامی اسیمانند“ اور پرگیہ ٹھاکر کو رہا کر دیا گیا ۔ ایسے میں بھارتی حکمرانوں سے کسی بہتری کی امید کی بھی جائے تو کیسے ۔ ۔ ۔ ۔ !