وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب بڑے کام کریں!

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور

اسلامی مملکت کا حکمران، اس خطہ زمین پر قوت نافذہ سے اللہ و رسول کے احکامات و ارشادات کے مطابق شرعی قانون نافذ کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ معاشرے سے ہر ظلم، ناانصافی، معاشرتی بے راہ روی، زنا کاری، سود خوری کے نظام، عریانی و فحاشی کے تمام ذرائع نشرو اشاعت کی سختی سے بیخ کنی، مکمل اور فوری عدل کی بے بسوں کو فراہمی، بے روزگاروں، بیواﺅں، معذوروں کی فلاح، قومی خزانے پر ڈاکہ زنی کے طاقتور ڈاکوﺅں کا عبرت ناک صفایا جان و مال عزت و آبرو کی (کافروں کو بھی) ضمانت کی فراہمی، عورتوں اور لڑکیوں پر ظلم و ستم کی روک تھام کے تیز رفتار اقدامات اور معاشرے کی عمومی اصلاح و فلاح کے اقدامات کرنا آج کے وزیراعظم وزیراعلیٰ کی شرعی و آئینی ذمہ داری ہے۔ اسلامی حکمران کو ہر گھڑی یہ احساس دل میں تازہ رکھنا ہو گا کہ اپنے عہد حکومت کی آخرت میں جوابدہی اللہ و رسول پاک کے سامنے بہرحال ہو گی۔حکمران سے بڑا سخت حساب کتاب لیا جائے گا۔ اس لئے حکمرانوں کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ ان کے پالیسی فیصلوں اور تمام انتظامی اقدامات کا خالقِ کائنات نے لازماً حساب لینا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جو اقدامات اپنے پہلے دور اقتدار میں نہیں کر سکے ان کی تلافی آج کے عہد حکومت میں کر لیں یہ مہلت ہے جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے خصوصاً میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف صاحب کو بڑی بیماریوں سے دوسری زندگی خدا نے دی ہے اس لئے آج کے دور حکومت کے عرصہ میں وہ نئے اقدامات کریں جو اپنے پہلے ادوار میں نہیں کر سکے تھے، وجہ جو بھی ہو! اللہ اور رسول کے وعدے مومنین کے ساتھ ہیں اور ایمان والوں اور اعمال صالحہ والے حکمرانوں کو اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے
جب وہ اللہ کے قانون کو اپنے زیر انتظام علاقہ میں نافذ کرنے پر تل جاتے ہیں۔ آسمانی خیر و برکت رحمت، فضل و کرم، غیبی امداد ایسے لوگوں کےلئے ہے جو اللہ کی زمین پر قرآن کے احکامات کو نافذ کرنے کی جدوجہد کریں۔ ہر مومن کےلئے! اقتدار کی طاقت و نشہ شیطانی بہکاوا ہے! کامیاب وہ ہو گا جو شیطانی ہتھکنڈوں کے آگے مومنانہ شان کے ساتھ ”بند“ باندھے اور ایمان داری سے قوت نافذہ استعمال کرے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف کے اصل کرنے کے کام درج ذیل ہیں۔
عورتوں پر مظالم روکنے کےلئے چیف جسٹس صاحبان کے مشورے سے تیز رفتار عدل فراہم کرنے والے خصوصی بنچ (ضلع سے نیچے) قائم کرنے کےلئے نئے اور پرانے ججوں کو تعینات کرنے کے لئے فنڈز دیئے جائیں جو اجتماعی زیادتی تیزاب پھینکنا، تیل چھڑک کر جلانا، شدید تشدد، ناک کان زبان کاٹنا، شک پر قتل کرنا، جائیداد غصب کرنا (وراثت) بال مونڈھنا، کتے چھوڑنا جیسے مظالم پر سخت سزائیں دیں۔ زیادتی و بے حرمتی کے مجرمان کو بڑے سٹیڈیم میں عوام کے سامنے سزا دی جائے اللہ کے رسول نے ایسا اپنی زندگی میں کیا تھا اور خلفائے نے بھی عمل کیا۔ صرف تین لاکھ چیک دینا معاشرے سے ظلم وستم کے خاتمہ میں کچھ نہیں نہ متاثرہ خاتون سے انصاف ہے!
نئی پالیسی سازی کرتے وقت ان بنیادی وجوہات کے تدارک پر فوکس کرنا چاہئے جن کے نتیجے میں بے تحاشا ظلم و ستم پھیل رہا ہے مثلاً زنا برضا‘ زنا بالجبر‘ معصوم بچوں سے زیادتی‘ اسی طرح معصوم بچیوں سے ”درندگی“ یہ سب لرزا دینے والے واقعات ہوتے ہیں۔
 صدر ، وزیراعظم ، وزیراعلیٰ ماضی کے دس سالوں سے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کے لئے جاتے ہیں اور مجرموں کو عبرتناک سزائیں دینے کا اعلان کر آتے ہیں پھر مظلوم خاندان چودھریوں، وڈیروں، بدمعاشوں، غنڈوں کے دباﺅ پر مناسب ”امداد“ لے کر اور بڑے طاقتوروں سے خوف زدہ ہو کر صلح نامہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
 یہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بدکردار عزتوں کے لٹیروں کو ”صلح نامہ اور امداد“ کے ہتھکنڈوں سے روکیں اور متاثرہ غریب خاندان کو پورا تحفظ دے کر عدالتی کارروائی کو تکمیل تک پہنچا کر کم از کم 100 مجرموں کو سرعام سزائیں دلوا دیں اور فوری نافذ بھی کروا دیں۔ بیٹیوں والوں کو اس زندہ درگور ہونے کے کرب کا اندازہ آسان ہے جو معاشرے میں ”عزت لٹی“ 16 سال کی لڑکی سے بہیمانہ سلوک کا دکھ زندگی بھر ہوتا ہے!! زنا اور زنا بالجبر کے تیزی سے بڑھتے واقعات کی ”بنیادیں“
 بھارتی چینلز نے گند کی بھرمار سے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کرکے رکھی ہے۔ یہ سارا”گند“ وزیراعظم اور وزیراعلی کو اب ہنگامی بنیادوں پر صاف کرنا ہے کہ ان لٹی ہوئی عزتوں کی متاثرہ لڑکیوں کے انصاف نہ ملنے پر سوال آخرت میں اللہ و رسول کے سامنے ہوں گے؟ پھر کیا ہو گا۔ وہ منظر سوچ کر لرزہ طاری ہوتا ہے!