ملالہ، عافیہ اور تیسرا ہاتھ

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ

اقوامِ متحدہ نے ملالہ یوسفزئی کی 16ویں سالگرہ کو ملالہ ڈے کے طور پر منایا۔ ملالہ ڈے ہر سال منایا جائیگا۔ ملالہ ڈے پر خود ملالہ نے تعلیم کے فروغ کے لیے پرمغز اور دلائل سے بھرپور بڑی جذباتی تقریر کی۔ ملالہ کو تعلیم حاصل کرنے کی پاداش میں طالبان نے فائرنگ کرکے قتل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ موت کو شکست دینے میں کامیاب ٹھہری۔ ملالہ کی یورپ اور مغرب میں پذیرائی کی وجہ دراصل طالبان سے نفرت ہے۔ طالبان نے ملالہ کے علاقے میں تیرہ سو سکول تباہ کیے۔ ان میں ایک ملالہ کا سکول بھی تھا۔ پاکستان میں ملالہ کیساتھ ہونیوالے بہیمانہ سلوک کی مذمت کرنے والوں کی کمی ہے نہ عافیہ صدیقی پر ستم ڈھانے والوں کیخلاف آواز بلند کرنے والوں کی ۔ عافیہ سی آئی اے کیلئے کام کرتی رہی پھر وہ امریکہ کی مخالفت میں اس قدر آگے نکل گئی کہ اسے مبینہ طور پر پاکستان سے اغوا کرکے بلگرام کے عقوبت خانے میں قید کرکے اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بالآخر اسے امریکہ بھجوا دیا گیا جہاں اسے کردہ یا ناکردہ جرائم میں 86سال قید سنا دی گئی۔قوم کی دونوں بیٹیوں کے حامی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کے بجائے عمومی طور پر آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ یہ دھڑے ایک مائنڈسیٹ کی صورت میں موجودہیں۔ عافیہ کے حامیوں کو پروطالبان اور ملالہ کے حامیوں کو طالبان مخالف کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی قوم لیفٹ اور رائٹ میں تقسیم ہو گئی تھی۔ لیفٹسٹ اور رائٹسٹ کی اصطلاح ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آنے کے بعد تک وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی رہی۔ آج بھی استعمال ہوتی ہے لیکن اس طرح نہیں جس طرح بھٹو صاحب کے اقتدار کے دوران اور اقتدار کے خاتمے کے بعد استعمال ہوتی رہی۔ پھر کئی سال تک پرو بھٹو اور انٹی بھٹو کی اصطلاح سامنے آئی۔ یہ صرف اصطلاح ہی نہیں ایک ذہنیت کی شکل اختیار کر گئی۔ کم از کم 4انتخابات کے نتائج اسی مائنڈ سیٹ کی پیداوار تھے۔
جنرل ضیاءالحق کا اقتدار ایک نئے مائنڈ سیٹ کی پیداوار تھا۔ ضیاءالحق کی حکومت کے 11سال ملک و قوم کو 11 صدیاں پیچھے لے گئے۔ ضیاءالحق نے اسلام کا نام استعمال کرکے لیفٹ اور رائٹ کے فلسفے کو فوج کے اندر بھی رواج دیدیا۔ ضیاءکے مارشل لائی دور سے قبل مدرسوں کی تعداد چند سو تھی جو دنوں میں لاکھوں سے تجاوز کر گئی۔ یہی مدرسے کسی منصوبہ بندی سے قائم ہوتے تو ملک و قوم کے لیے سود مند ثابت ہوتے۔ بغیر پلاننگ سے تعداد سیکڑوں سے لاکھوں ہوئی تو ان کو کسی ضابطے میں لانا ممکن نہ رہا اور پھر کچھ ملک کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کے لیے استعمال ہونے لگے اور ہنوز ہو رہے ہیں۔ ضیاءالحق کا لیفٹ اور رائٹ کا فلسفہ ہی 1999ءمیں جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا سبب بنا۔ مشرف کے ساتھی جنرل عزیز جیسے لوگ جنرل ضیاءکے رائٹسٹ فلسفے کے حامی اور ضیاءالحق دور کے ترویج کے خواہاں تھے۔ ضیاءفلسفے کے حامی اب بھی فوج میں موجود ہیں لیکن پس پردہ ہیں۔ جنرل مشرف، ضیاءفلسفے کے حامی جرنیلوں کو چکمہ دینے میں کامیاب ٹھہرے اور ایک ایک کرکے ساتھی جرنیلوں سے جان چھڑا لی۔ مشرف پر فوج کے اندر اور باہر سے 6حملے ہوئے تاہم مشرف اعتدال کے نام پر جدت پر کاربند رہے جسے وہ روشن خیالی کا نام دیتے تھے۔ مشرف کے دور میں ایک بار پھر لیفٹ اور رائٹ کی تقسیم نظر آئی اب پروبھٹو اور انٹی بھٹو فلسفہ دم توڑتا نظر آتا ہے۔ بے نظیر بھٹو پروبھٹو ذہنیت کو ایکسپلائٹ کرکے دو مرتبہ حکومت میں آئیں اور نوازشریف نے خود کو انٹی بھٹو ثابت کرکے بھی دو مرتبہ اقتدار حاصل کیا۔ مشرف کے مارشل لاءکے بعد اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر ن لیگ اور پی پی پی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے اور بعدازاں میثاقِ جمہوریت پر نوازشریف اور بے نظیر بھٹو نے دستخط کیے تو پرواور انٹی بھٹو مائنڈ سیٹ یا فلسفے کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ 2013ءکے الیکشن اس فلسفے کے بغیر ہوئے اور آئندہ بھی اس مائنڈ سیٹ کی پاکستان کے انتخابی عمل میں گنجائش نہیں رہی۔
آج قوم لیفٹ رائٹ، پرواور انٹی بھٹو مائنڈ سیٹ سے نکل آئی ہے۔ ضیائی فلسفہ بچا نہ مشرفی سیکولر فلسفے میں کوئی جان رہی ہے۔ ہم ان فلسفوں اور ذہنیتوں سے چھٹکارا پا چکے تو ایک قومی اتحاد و اتفاق کی سبیل اور راہ نظر آئی تھی لیکن آنکھیں کھلیں تو قوم ملالہ اور عافیہ صدیقی مائنڈ سیٹ میں بٹی ہوئی نظر آئی۔ کیا یہ خود بخود ہو گیا یا کوئی خفیہ ہاتھ قوم کو تقسیم کر رہا ہے؟۔ دونوں طبقات کی آنکھ کا تارا ہو سکتا ہے قوم کو تقسیم کرنے والوں کی بھی آنکھ کا تارا ہو۔آج پاکستان میں لاکھوں کروڑوں لوگ ملالہ کے لیے خیرخواہی کے جذبات رکھتے اور دعائیں مانگتے ہیںکیونکہ ملالہ کی صورت میں انہیں ایک روشن خیال امید کی نئی کرن نظر آئی ہے۔جبکہ ایک دوسرا طبقہ جس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک سلوگن کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے اور اب یہ دونوں مائنڈسیٹ اس قدر ہماری قوم میں سرایت کر چکے ہیں کہ قوم اب واضح طور پر دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔ آدھی قوم ملالہ کو امریکہ کا ایجنٹ سمجھتی ہے اور باقی آدھی قوم ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ کا ایجنٹ سمجھتی ہے ،کہیں ایسا تو نہیں کہ ان دونوں افسانوں کا قلمکار کوئی تیسرا ہاتھ ہمیں آپس میں تقسیم کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہو؟ملالہ کو بے نظیر کی چادر (شال)اڑھوا کر بے نظیراور عافیہ صدیقی کو رضیہ سلطانہ کے روپ میں پیش کرکے قوم کے جذبات سے کھیلنے والا منصوبہ ساز تیسرا ہاتھ کہیں قوم کے ساتھ ہاتھ تو نہیں کر گیا؟