دخترِ پاکستان ملالہ کا مشن

یہ دن اقوام عالم کیلئے پاکستان کی بیٹی ملالہ کا دن تھا۔ جو آج پوری دنیا کی نمائندگی کر رہی تھی۔12 جولائی کے روزنیویارک کی صبح خنکی اور بادلوں سے بھری ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے لہراتے جھنڈوں کے ساتھ دنیا بھر سے بچے بچیاں، نوجوان لڑکے لڑکیاں جوق در جوق، اپنے روایتی لباس میں اس تقریب میں شرکت کے لئے پہنچے۔ملالہ والد کے ساتھ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر پہنچیں توسابق برطانوی وزیر اعظم، اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے تعلیم گورڈن براﺅن نے ان کا استقبال کیا۔ ملالہ یوسف زئی کی سولہویں سالگرہ کو ملالہ ڈے کے طور پر منایا گیا۔ جس کا باقائدہ اعلان اقوام متحدہ نے کر رکھا تھا۔ ملالہ نے صبح سب سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ صحافیوں اور میڈیا سے ملاقات کی۔ دخترِپاکستان ملالہ یوسف زئی نے دخترِ مشرق بے نظیر بھٹو کی چادر اوڑھ کر جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ملالہ اسی پوڈیم پر سے خطاب کر رہی تھیں جہاں سے اس سے قبل دنیا کے منتخب جمہوری رہنماﺅں اور آمروں نے خطاب کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیلسن منڈیلا کے بعد اگر اقوام متحدہ میں اتنی پذیرائی کسی مقرر کو ملی تو ملالہ یوسف زئی کو ملی۔یہ پاکستان کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔
ملالہ کو علم کے حصول کی پاداش میں ان لوگوں نے صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جو اسلام کے فروغ اور ترویج کے دعویدار ہیں۔وہ ننھی سے جان کو موت کی وادی میں پہنچانا چاہتے تھے ۔اسے ساتھیوں سمیت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا لیکن بچانے والا مارنے والے سے زیادہ طاقتور ہے۔وہ بچ نکلی توعمومی رائے تھی کہ خدا اس سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے۔ملالہ نے اقوام متحدہ میں تقریر کی تو اس کا مشن واضح ہو گیا۔تعلیم ، تعلیم اور تعلیم۔تعلیم ہی کو دین حنیف میں ترجیح اور اہمیت دی گئی ہے۔محسنِ انسانیت ﷺکے ہاں تعلیم کی اسقدر زیادہ اہمیت تھی کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کیلئے دس دس مسلمانوں کو پڑھانے کی شرط رکھی گئی۔آپ کا فرمان ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کیلئے چین بھی جانا پڑے تو جاﺅ۔ نبی کریم نے فرمایا ؛علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ تعلیم کے حوالے سے مردوزن کی کوئی تخصیص نہیں۔ ملالہ کو گولی مارنے والے کس اسلام کی بات کرتے ہیں ؟جس میں کسی خاص طبقے اور جنس پر تعلیم کے دروازے بند ہیں۔ملالہ نے ان کو بھی اپنی تقریر میں مخاطب کیا لیکن نفرت کا اظہار اور انتقام لینے کی بات نہیں کی۔وہ تو کہتی ہے کہ” مجھے مارنے والے طالبان سامنے بھی آجائیں تو انہیں گولی نہیں ماروں گی“ اسلام کی سوجھ بوجھ رکھنے والے خصوصی طور اس کے فروغ کے نام پر ہتھیار بند عسکریت پسند بتائیں کی اور تقویٰ کس کو کہتے ہیں؟
ملالہ اور اس کی ساتھیوں کو گولیاں مارکر خون میں نہلادیا گیا ۔ وہ اس سانحہ سے بچ نکلیں تو پوری دنیا کی اپنے حقوق سے محروم خواتین کے لئے امید کی کرن بن گئیں۔علم کی شمع پوری دنیا میں روشن ہوگئی۔اس نے تعلیم کے فروغ کو اپنا مشن بنا لیا جس کے حصول کی تاکید دنیا کے عظیم ترین انسان حضرت محمد مصطفی نے کی ہے۔ملالہ نے اپنے مشن کا اظہار عالمی برادری کے سامنے اپنی تقریر میں ان الفاظ میں کیا؛
ہمیں قلم اور کتاب کی اہمیت کا اندازہ بندوق دیکھ کر ہوتا ہے۔ شدت پسند تعلیم کی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔ وہ خواتین سے ڈرتے ہیں۔ قلم اور کتاب دنیا کے سب سے طاقتور ہتھیار ہیں، ایک طالبعلم، ایک استاد، ایک قلم اور ایک کتاب دنیا تبدیل کر سکتے ہیں۔ ملالہ ڈے صرف میرا دن نہیںہر اس لڑکی اور لڑکے کا دن ہے جس نے اپنی آواز اپنے حقوق کے لیے اٹھائی۔میں ان کی آواز ہوں جن کی آواز کوئی نہیں سن رہا وہ جو پرامن ماحول میں رہنے اور تعلیم کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں ہر بچے کی تعلیم کے حق کی بات کرنے آئی ہوں اور طالبان اور دیگر شدت پسندوں کے بچوں کے لیے بھی تعلیم چاہتی ہوں۔ تعلیم ہی سب مسائل کا واحد حل ہے اور تعلیم ہی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔ میں یہاں دہشت گردوں کے خلاف بولنے نہیں ہر بچے کی تعلیم کیلئے آئی ہوں۔ اندھیرے میں روشنی کی اہمیت کا علم ہوتا ہے۔ میرے پاس طاقت ہو تو طالبان کے بچوں کو بھی سکول بھیجوں۔ جس ملک میں نصف آبادی کو تعلیم سے محروم رکھا جائے وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا“۔
تعلیم کے بغیر کسی بھی ملک ، معاشرے اور طبقے کا ترقی کی منازل طے کرنا خوا ب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔تعلیم کے بغیر ملک وقوم کے ترقی یافتہ اور خوشحال ہونےکا تصور بھی محال ہے ۔قیام پاکستان کے 66سال بعد بھی ہم پسماندگی میں بھٹک رہے ہیںاس کی سب سے بڑی وجہ ہی قائد کے بعد برسر اقتدار آنے والے حکمرانوں کاشعبہ تعلیم کو نظر انداز کرنا ہے ۔ہر حکومت نے تعلیم کے فروغ کے نعرے تو لگائے لیکن ان کا خلوص مختص کئے جانے والے بجٹ سے سامنے آجاتا ہے جو کل بجٹ کا دو فیصد ہے۔دنیا کے شانہ بشانہ ہونے اور ملک کوترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ملالہ کی طرح حکومت کو بھی ہر فرد کے لئے تعلیم کو مشن بنانا ہوگا۔
علم الاعداد کی روشنی میں گو کہ سال رواں کی آخری سہ ماہی پاکستان کےلئے شدید مشکلات لا رہی ہے تاہم ملکی حالات بہتر ہونے کے امکان بھی نظر آ رہے ہیں۔