تعلیم اور صحت

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق

مختصر سی تقریب کے شرکاءکی تعداد بھی مختصر تھی۔ میزبانوں نے سات بجے کا وقت دیا تھا۔ چلنے سے قبل فون کیا تو بتایا گیا ساڑھے سات بج جائیں گے۔ احتیاطًا دس منٹ دیر کی تو بھی اپنے علاوہ کسی مہمان کو موجود نہ پایا۔ سوا آٹھ بجے تک اتنے معززین تشریف لے آئے جس سے گیدرنگ کا منہ سر بن گیا۔ رونق افروز ہونے والوں میں ارشاد عارف، عطاءالرحمن، رﺅف طاہر، سجاد میر، سعداللہ شاہ، محمد طاہر،ڈاکٹر امان اللہ ملک ، عمرانہ مشتاق کے علاوہ ایک خاتون سمیت مزیدپانچ چھ حضرات موجود تھے۔ میری نالائقی کہ میں ان کے ناموں سے ناشناسا تھا۔میزبان تعارف کرادیتے تو بہتر تھا۔ شرکاءمیںچند ایک ایکدوسرے کے ہمنوا اور ہم توا تھے جو وہاں موجود اور لاموجود صحافیوں کا توا لگاتے رہے۔
 ”خوش قسمت“ ہیں وہ صحافی جن کا تذکرہ ان کی عدم موجودگی میں بھی ہوتا رہا۔ جہاں عطاءالحق قاسمی کے اس کالم کا ذکر ہوا جس میں انہوں نے نام لئے بغیر اجمل نیازی اور توفیق بٹ کے کالموں میں اپنے ”ذکر خیر“ کی خبر لی تھی۔ میں قاسمی صاحب کے مذکورہ کالم کی تلاش میں ان کا ”صاحب اور اس کا ڈرائیور“ کے عنوان سے پورا کالم پڑھ بیٹھا جو ایک افسانہ تھا۔ اس پر ماتھا ٹھنکا کہ قاسمی صاحب کا ترکش عمران خان کی ملامت کے تیروں اور زنبیل نوازشریف کی صاحب‘ سلامت اور لوڈشیڈنگ کی حمایت میں دلائل سے خالی ہو چکی ہے کہ نوبت افسانہ طرازی پر آ گئی۔ کسی نے یہ بھی کہا کہ نظامی صاحب کا نام لئے بغیر ان کے خلاف زہر اُگلا گیا ہے۔ کالم پڑھنے پر یہ تاثر یکسر غلط ثابت ہوا۔ مجیب الرحمن شامی صاحب کا بھی قاسمی صاحب کے کالم میں بھلاذکر ہے۔ یار لوگوں نے ان کا تذکرہ قومے ہٹا کر کے محرم سے مجرم بنا دیا۔ شامی صاحب کی اس تقریب میں شمولیت کا تذکرہ بڑے دلچسپ پیرائے میں عینی شاہدین نے سنایا جس میں جنوبی پنجاب کی وہ خاتون بھی موجود تھی جس کو نواز لیگ کی قیادت نے ماورائے عقل فیصلہ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی رکن بنا دیا ۔یہ مزدور خاتون تعلیم سے کوری ہیں۔ تقریب کے بعدچائے پینے کے دوران انہوں نے ساتھ بیٹھی خاتون سے شامی صاحب کی طرف اشارہ کر کے پوچھا یہ کون ہیں؟ دوسری خاتون نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ” ہائے تم ان کو نہیں جانتی ہو، یہ بڑے مشہور صحافی خبریں اخبار کے مالک ضیاءشاہد ہیں“۔
 عطاءالرحمن صاحب نے اپنے اخبار کی اے بی سی کی راہ میں رکاوٹوں کی روداد سنانا شروع کی تو ہم نوا گروپ نے توا لگانے کی کوشش کی۔ عطا صاحب نے بڑے تدبر، ذہانت سے دانش سے یہ توا ان کی طرف لوٹا دیا۔ اس گپ شپ میںہم لوگ اپنی آمد کا مقصد فراموش کئے ہوئے تھے کہ میزبان نے کہا اگر اجازت ہو تو تقریب کا باقاعدہ آغاز کریں۔ اس پر غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے نمائندے وقاص جعفری نے غزالی ایجوکیشن سسٹم کے حوالے سے مختصر سی بریفنگ دی۔ پاکستان میں 70 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں ان میں سے زیادہ کا تعلق دیہات سے ہے۔ غزالی ٹرسٹ دیہات میں تعلیم نام کی چیز سے نابلد بچوں کی تعلیم پر توجہ دے رہا ہے۔ پنجاب، خیبر پی کے اور بلوچستان کے 35 اضلاع میں 325 سکولوں میں 50 ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ کوئی بھی قوم تعلیم کے بغیر ترقی کر سکتی ہے نہ صحت مند معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ نپولین بوناپاٹ نے کہا تھا ”تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا“۔ غزالی ٹرسٹ بہترین قوم کی تشکیل کیلئے اپنے وسائل کے مطابق کوشش کر رہا ہے۔ شہری آبادیوں سے دور بہت دور غزالی ٹرسٹ کے 325 سکول مخیر حضرات کے صدقات، زکوٰة اور عطیات پر چل رہے ہیں۔ والدین اپنی مرضی سے جو بھی فیس مقرر کر لیں یہ ان کو آپشن ہے۔ بہت سے بچے بغیر فیس کے پڑھتے ہیں۔جن کا دنیا میں کوئی نہیں ان کا بھی یہ ٹرسٹ سہارا بنتا ہے۔ معذور بچے بھی غزالی ایجوکیشن سسٹم کی نظروں سے اوجھل نہیں رہے۔ 50 ہزار طلبہ و طالبات اور 2400 اساتذہ کے ساتھ غزالی ٹرسٹ تعلیم کے میدان میں اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لا رہا ہے۔ اس کا یہ سلسلہ زکوٰة صدقات اور عطیات پر چل رہا ہے۔ اس کے اکثر اساتذہ اور طلبہ و طالبات بھی ڈونر ہیں۔ دو سال قبل انہوں نے 34 لاکھ اگلے سال 42 اور رواں سال 48 لاکھ روپے ٹرسٹ کے حوالے کئے لیکن سالانہ اخراجات کروڑوں میں ہیں۔ ہماری جیب سے کسی کی بھلائی کیلئے استعمال ہونے والا ایک روپیہ بھی رائیگاں نہیں جاتا۔
گذشتہ دنوں شوکت خانم میموریل ہسپتال میں فنڈ ریزنگ تقریب ہوئی۔ عمران خان تو بیرون ملک تھے۔ ہسپتال کے سی ای او فیصل سلطان نے انکی نمائندگی کی کراچی سے بہروز سبزواری اس میں خصوصی شرکت کیلئے آئے۔ ٹارگٹ پانچ کروڑ تھا۔ ڈونرز نے 6 کروڑ کے جمع کرا دئیے۔ پشاور میں بھی کینسر ہسپتال کی تعمیر شروع ہو چکی ہے جو دو سال میں مکمل ہو جائیگا۔ کراچی میں تعمیر کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال میں 75 فیصد مریضوں کا علاج عطیات سے جبکہ 25 فیصد مریض خود ادائیگی کرتے ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال کو سالانہ 5 ارب روپے کی ضرورت ہوتی ہے ان میں سے نصف زکوٰة صدقات اور عطیات سے اکٹھے ہوتے ہیں۔
تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے جب ریاست ایسا کرنے سے قاصر ہو تو دردِ دل رکھنے والے لوگ آگے آ کر حکومت کے دست و بازو اور غرباءکا سہارا بن جاتے ہیں ۔ملک میں بہت سے فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں جو عطیات پر چلتے ہیں۔ زکوٰة صدقات اور عطیات دیتے ہوئے تھوڑی سی جانچ پرکھ کر لیں کہ آپ کے دئیے ہوئے پیسے کا مصرف انسانیت کی خدمت کیلئے ہی ہو رہا ہے۔ غزالی ٹرسٹ سے رابطے کیلئے نمبر ہے 04235222702-05 ای میل info@get.org.pk