کریزی سکیم آف لوکل گورنمنٹ

صحافی  |  سکندر خان بلوچ

26 اور27 جون کو مندرجہ بالا عنوان سے محترم جنرل عبدالقیوم صاحب نے کافی دلچسپ اور مدلل انداز میں سسٹم کی خرابی کا تجزیہ کیا ہے جس سے میں مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں۔ لوکل گورنمنٹ کے اس سسٹم اور سسٹم کو چلانے والوںنے نہ صرف کرپشن میں اضافہ کیا ہے بلکہ ہماری ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچایا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ محض سسٹم کی خرابی ہے یا سسٹم چلانے والوں کی؟ میری نظر میں سسٹم کی نسبت سسٹم چلانے والے زیادہ اہم ہیں۔
یہ 1969ء کا واقعہ ہَے کہ ایوب حکومت زوال پذیر تھی اور جناب بھٹو صاحب بہت بلندیوں پر پرواز کر رہے تھے۔ محترم بھٹو صاحب نے قوم کو روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ ’’اسلامک سوشلزم‘‘ کا نعرہ دیا۔ اس سے پہلے قوم جمہوریت بھی دیکھ چکی تھی اور مارشل لاء بھی جس سے ہر شخص بیزار تھا۔ سوشلزم کے نام سے عوام میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی۔ ہم نے کمیونزم اور سوشلزم کا نام تو سن رکھا تھا لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے۔
اب صرف سوشلزم ہی نہ تھی بلکہ ’’اسلامک سوشلزم‘‘ تھی۔ ہم سب نے اپنے اپنے طور پر لائبریری کھنگال ماری لیکن کوئی واضح تشریح نہ پا سکے۔ جہاں بھی چندپڑھے لکھے لوگ بیٹھتے موضوع گفتگو یہی ’’اسلامک سوشلزم‘‘ ہی ہوتا اور ہم سب اپنے اپنے طریقے سے تشریح کرتے۔ ہم سب کا تجسس تھا کہ اس سسٹم سے ہمارے ملک اور ہمارے اداروں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ہر شخص کی اپنی اپنی تشریح نے ایک عجیب کنفیوژن پیدا کر رکھا تھا ۔ایک دن ’’ٹی روم ‘‘ میں بیٹھے تھے کہ اسی موضوع پر بحث چھڑ گئی۔ ہم میں سے ایک پٹھان آفیسر نے نعرہ لگایا ’’او یارا ہم کو سب سمجھ آگیا ہے کہ یہ ’’اسلامک سوشلزم‘‘ کیا چیز ہَے؟
ہم سب نے تجسس سے اُس آفیسر کی طرف دیکھا۔ آفیسر نے مزید تشریح کی۔’’یارا فکر کا کیا بات ہَے۔ اسلام اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا نظام ہے ۔ ہم نے فرقے بنا کر اُسے صحیح نہیں چلنے دیا تو یہ کمیونزم ۔سوشلزم یا اسلامک سوشلزم کیا چیز ہَے۔ ہم اُسکا ایسا حلیہ بگاڑ یں گے کہ روسی اور چینی بھی اس سسٹم پر شرمندہ ہوں گے ــ‘‘ ایک بڑا سا قہقہ بلند ہوا اور مجلس برخواست ہوگئی ۔ بات مذاقاً کی گئی تھی لیکن اس سے زیادہ حقیقت مجھے آج تک نظر نہیں آئی ۔
ہم نے یہاں ہر قسم کے نظام کا تجربہ کر لیا ہے لیکن نتیجہ وہی صفر۔ ہمارے سیاستدانوں ، جرنیلوں، بیوروکریٹس اور مولانا حضرات میں ہر سسٹم کا حلیہ بگاڑنے کی خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔اس لئے یہاں کوئی سسٹم کامیاب نہیں ہوسکتا‘ جب تک سسٹم چلانے والے لوگ مخلص اور ’’با ضمیر ‘‘نہ ہوںاور بقول جنرل صاحبـ’’قائد اعظم محمد علی جناح ؒ جیسے اہلِ بصیرت ، بااصول ، صاف گو اور دیانتدار قائدین چراغ لیکر بھی ڈھونڈیں تو دور دور تک میسر نہیں ‘‘۔پاکستان کے متعلق اکثر کہا جاتا ہے کہ:
\\\"It is not a poor country. It is only a poorly managed country\\\".
اور یہ سب کچھ کرپشن ہی کی وجہ سے ہے ۔ کرپشن ختم کرنے کے طریقوں سے تو ہمارے ارباب اختیار واقف ہیں لیکن اُس پر عمل کون کریگا کیونکہ کرپشن تو شروع ہی ٹاپ سے ہوتی ہے ۔ کرپشن کے خاتمے کا ایک دلچسپ واقعہ ایک میجر صاحب کی زبانی سنیں ۔ واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ غیر ممالک سے جو بھی وفود پاکستان آتے ہیںاُنکے ساتھ اکثر ایک فوجی آفیسر بطور \\\"Conducting Officer\\\" مقرر کیا جاتاہے۔ یہ اُن دنوں کا واقعہ ہے جب \\\"Taxila Heavy Complex\\\" زیرِ تعمیرتھا ۔ بلڈنگ شاید بن چکی تھی اور مشینری نصب کرنے کی تیاریا ں جاری تھیں ۔ اس مقصد کیلئے چین سے ایک وفد آیا ۔ ایک میجر صاحب اُنکے ساتھ کنڈکٹنگ آفیسر مقرر ہوئے اور اسی آفیسر نے بعد میں یہ قصہ سنایا ۔یہ وفد مشینری کی تنصیبات کا جائزہ لینے کے لئے تعمیر شدہ عمارات میں گیا ۔ گھوم پھر کر دیکھا تو بلڈنگ میں کچھ مقامات پر دراڑیںپڑ گئی تھیں ۔ وفد کے سربراہ نے حیرانگی سے پوچھا کہ ـ’’عمارت میں تا حال مشینری نصب بھی نہیں ہوئی اور نئی عمارت میں دراڑیں آگئی ہیں ۔ جب مشینری چلے گی تو کیا حالت ہوگی؟‘‘اب بلڈنگ تعمیر کرانے والے چیف انجینئر آگے بڑھے اور تشریحات کرنی شروع کردیں۔ وفد کا سربراہ سن کر مسکرایااور کہا:
\\\"No need to explain it Mr. Chief Engineer. We had the same problem\\\"
اتنا کہہ کر وہ آگے چل پڑا اور معاملہ خاموشی میں دب گیا ۔دورہ ختم ہونے کے بعد جب یہ وفد واپس سرکاری گیسٹ ہائوس پہنچا تو میجر صاحب سے نہ رہا گیا وفد کے سربراہ سے پوچھا…
\\\"Sir, you had the same problem. How did you solve it?\\\"
وفد کا سربراہ میجر صاحب کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور جواب دیا:۔
\\\"Young man we shot down a few such like people and everything was all rihgt after that.\\\"
کرپشن ختم کر نا قطعاّ مشکل نہیں بشرطیکہ ٹاپ مین بذاتِ خود مخلص اور ایماندار ہو۔1969ء میں ایک دفعہ مرحوم بھٹو صاحب نے بھی جھنگ میں تقریر کرتے ہوئے کرپشن کے بارے میں ایسا ہی وعدہ کیا تھا مگر اقتدار کی کرسی پر پہنچ کرتمام وعدے صرف وعدے ہی رہے اور یہی ہمارے تمام سیاسی رہنمائو ں کی خوبی ہے ۔ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد ہمارے رہنما متضاد شخصیت ثابت ہوتے ہیں ۔ کسی جنرل نے کہا تھا:
\\\"There are no bad soldiers. There are only bad officers\\\".
کیونکہ ایک اچھا آفیسر نکمے سپاہی سے بھی میدانِ جنگ میں مرضی کے نتائج حاصل کر سکتا ہے جبکہ نکما اور بیکار آفیسر اچھے بھلے سپاہی یا اچھی یو نٹ کا بھی ستیاناس کر دیتا ہے ۔ یہی حالت سیاسی نظام کی ہَے ۔ سیاسی نظام کوئی بھی بُر ا نہیں ہوتا۔ صرف اُسے چلانے والے اچھے یا بُرے ہو تے ہیں ۔ یاد رہے کہ مختلف اقوام نے مختلف نظامو ں کے تحت ترقی کی ہے ۔نظام کبھی بھی مانع ترقی نہیں ہوا۔قائد اعظم ؒ کی قیادت میں یہ بھوکے ننگے غربت کے مارے مسلمان 1947ء میںاُسوقت کی عظیم انگریز طاقت اور دولتمند ہندو سے ٹکر ا گئے اور پاکستان حاصل کر لیا لیکن ساٹھ سالوں میں ہمارے عظیم سیاستدانوں نے پوری قوم کا بال بال قر ضے میں جکڑ دیا اور ہمیں ایک ایک ٹکڑ ے کا محتاج کر دیا ۔اندازہ لگائیں کرپشن تو 400فیصد بڑھی ہی ہے ہمارے بیرونی قرضے بھی ایک کھرب بیس ارب ڈالر ز تک بڑھ گئے ہیں، یوں کچھ لیے بغیر قوم کا ہر شخص تقریباً 48 ہزار روپے کا مقروض ہوگیا ہے ۔ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی ہے کوئی نہیں جانتا لیکن یقینا عوام پر خرچ نہیں ہوئی ۔ورنہ اُن کی یہ حالت نہ ہوتی۔
جہاں تک ہمارے عوام کا تعلق ہے۔ ان میں عظمت کی تمام تر خوبیاں موجود ہیں لیکن پھر بھی ہم ایک ناکام ریاست گردانے جا رہے ہیں کیونکہ ہماری دھرتی نے کرپشن کے ابوالہول تو پیدا کئے لیکن مخلص اور ایماندا رقیادت کہیں نہ پنپ سکی ۔ یہاں ایک عام کونسلر سے لیکر قائد اعلیٰ تک ذاتی اور پارٹی مفادات سے باہر نہیں آتے‘ اسی لئے عام افواہوں کیمطابق پاکستانیوں کے650ارب بیرونی بینکوں میں جمع ہیں اور12ہزار ارب کالا دھن اسکے علاوہ ہے۔ ممکنہ طور پر یہ سب لوٹ مار کا پیسہ ہَے۔بدقسمت ہے وہ قوم جسے ایسے کرپٹ راہنما نصیب ہوں ۔ ملک کی حیثیت توایک ماں کی سی ہوتی ہے اور ایسے ’’بے ضمیر‘‘ شخص کاکیا کیا جائے جو اپنی ماں کا احترام بھی نہ کرے۔