پاکستان اور ہمارے حکمران

ریاست کا مقصد رعایا کی جان‘ مال کا تحفظ اور عوامی بہبود کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ نظریاتی ریاست کی ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے کیونکہ یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنی رعایا کی فکری‘ نظریاتی‘ ترتیب کرے اور اسے نظریات دشمن ماحول‘ احباب اور معاشرت سے بچائے۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کی اساس عالمی‘ آفاقی‘ جمہوری اصولوں پر استوار ہے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی نظریاتی پاکستان کی نظریاتی دشمن ریاست بھارت بھی وجود میں آیا۔ تقسیم ہند اصولی طور پر ہندوستان کی نظریاتی تقسیم کا نام ہے۔ فی الحقیقت ہندوستان مسلم ہند اور ہندو ہند میں بٹا ہوا ہے اور یہی سبب ہے کہ ہندوستان کے ان علاقوں کے مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں 100 فیصد ووٹ دیا جن کو حتمی طور پر معلوم تھا کہ وہ اور ان کے علاقے پاکستان کی اسلامی ریاستی حدود میں نہیں ہوں گے۔ یہی سبب ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ہندوستانی مسلمان اقلیتوں کے تحفظ اور بہبود کے حوالے سے مسلم لیگ کنونشن منعقدہ دہلی 17 اپریل 1946ء کو کہا تھا کہ ’’اگر وہ (ہندو بھارت) ہماری اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی شروع کر دیتے ہیں اور ان کو ستاتے ہیں تو پاکستان ایک خاموش تماشائی نہ بنے گا۔ اگر گلیڈ سٹون کے زمانے میں برطانیہ اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر امریکہ میں مداخلت کر سکتا تھا تو اگر ہندوستان میں ہماری اقلیتوں پر مظالم کئے گئے تو ہمارا مداخلت کرنا کیونکر حق بجانب نہ ہوگا۔
مذکورہ بیان کے تناظر میں بانیٔ پاکستان قائداعظم نے اسلامی جمہوری پاکستان کی دوسری اہم ذمہ داری ہندوستانی مسلمان اقلیت کا تحفظ اور دیکھ بھال رکھنا قرار دیا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے موجودہ حکمران (جمہوری یا فوجی) کیا قائداعظم کے فرمان کے مطابق حکمرانی کر رہے ہیں؟ کیا یہ حکمران پاکستانی رعایا اور ہندوستانی مسلمان اقلیت کے تحفظ کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں جبکہ قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل مصری وفد پارٹی کے سربراہ نحاس پاشا کو واضح الفاظ میں آگاہ کیا تھا کہ اسلامی پاکستان کا قیام اور استحکام نہ صرف پاک و ہند کے مسلمانوں کی بقا کا ضامن ہے بلکہ مشرق وسطیٰ‘ مصر‘ مراکش بلکہ تمام عالم اسلام کے تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔ برطانیہ عالمی طاقت اس وقت بنا جب ہندوستان کی عسکری اور افرادی وسائل پر قابض ہوا۔ جنگ عظیم دوم کی جیت کے باوجود برطانیہ اتنا طاقتور نہیں رہا کہ ہندوستان جیسی زوردار ریاست کو غلام بنائے رکھے۔ برطانیہ کے جانے کے بعد ہندوستانی طاقت کا وارث مسلمان ہوگا یا ہندو برہمن۔ جس کی سرشت میں اسلام دشمنی اور مسلم کشی ہے اگر پاکستان بن جاتا ہے تو ہندو بھارت کو پہلے پاکستان تسخیر کرنا پڑے گا اور بعد ازاں وہ عالم اسلام پر راج کرنے کیلئے مذموم ہتھکنڈے استعمال کرے گا۔ نظریاتی‘ جوہری اور جہادی پاکستان ہی ہندو بھارت کے استعماری عزائم کو ناکام بنا سکتا ہے اور بھارتی مسلمان اقلیت بلکہ دیگر اقلیتوں اور قوموں مثلاً سکھ‘ عیسائی اور اچھوت وغیرہ کو احساسِ تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال فکری طور پر خلط ملط ہو چکی ہے۔ نہ رعایا کی جان و مال کا تحفظ رہا اور نہ ہی عوامی بہبود کا پاس۔ حکمران پاکستانی عوام کے نمائندے کم اور دشمن ہندو بھارت کے ترجمان ہرکارے اور غلام زیادہ نظر آتے ہیں۔ یہ ابتر صورتحال پاکستانی حکمرانوں کی غدارانہ بے نیازی اور عوام کی مجبوری بے بسی کی نشاندہی کرتی ہے۔ حکمران غداری کے حصار سے نکلیں اور عوام کی فریاد پر کان دھریں۔ اگر حکمرانوں کو خطے میں ہندو بھارت کی بالادستی اور تھانیدار قبول ہے تو وہ بھارت کی شہریت بھی اختیار کر لیں۔ پاکستانی عوام کو پاکستانی حکمران درکار ہے۔
18/ جون کو امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن فرماتی ہیں کہ ’’پاک بھارت تعلقات میں ڈرامائی اضافہ کیا جائے گا۔‘‘ پاکستان کیا چاہتا ہے اور کس طرح چاہتا ہے۔ اللہ بہتر جانے؟ پاکستان کا قیام شاطر انگریز اور مکار ہندو برہمن کی خیرات نہیں بلکہ پاک و ہند کے مسلمانوں کی قومی و ملی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے جس میں لاکھوں معصوم مسلمانوں کا خون شامل ہے۔
موجودہ قومی تباہی کی پالیسی کے بانی غداراعظم جنرل سید پرویز مشرف ہیں جس نے حکمرانوں کو عوام سے ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ اور منافقت پر مبنی دوغلی پالیسی پر لگا دیا ہے پاکستانی رعایا بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی مانند ہے جس کو غیروں بلکہ دشمنوں کی مرضی کے مطابق ذہنی‘ فکری‘ نظریاتی اور اخباری چارہ دیا جاتا ہے جس کا اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کی بھرمار کر دی گئی نام نہاد عالمی اتحادی حلیف ممالک امریکہ یورپ کی نیوز میڈیا پر دکھائی جاتی ہیں مگر اگر یہی دوغلی پالیسی جاری رہی تو ہماری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔