ناصحوں کو تو سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی

کالم نگار  |  سعید آسی

یہ تو گُڈی گُڈے کا کھیل نظر آتا ہے۔ پل میں کچھ، پل میں کچھ۔ ابھی ہنس رہے تھے، ابھی برہم ہو رہے ہیں۔ ابھی چل چلائو کی کیفیت تھی، اب ہاتھ تھامے بیٹھے ہیں۔ کس کا یقین کیجئے، کس کا نہ کیجئے…؎
کہاں تھے فاصلے اتنے اب اتنی قربتیں جاناں
وہ کہتے ہیں، انہوں نے رابطہ کیا، ہمیں اعتماد میں لیا، ہم سے تعاون مانگا، ملاقات کی خواہش ظاہر کی سو ہم مان گئے۔
جناب، اس سے پہلے کیاہوتا تھا، پہلے بھی تو وہ اعتماد میں لیتے تھے، تعاون مانگتے تھے، ملاقات کی خواہش ہی ظاہر نہیں کرتے تھے، ملاقات کر بھی لیتے تھے۔ اوپر سے یقین بھی دلا دیتے تھے، جو ہوگا، آپ کی مرضی سے ہوگا اور جب ہوتا تھا تو آپ ہاتھ ملتے رہ جاتے تھے۔ پھر آپ کو پٹخنی بھی پڑ جاتی تھی اور آپ کے ماضی کے قصے بھی چھِڑ جاتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ آپ کو نادان دوست کے طعنے بھی مل جاتے تھے۔ آپ جارحیت پر اترے تو وہ نارمل ہوگئے اور گڈے گڈی کا یہ کھیل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے جاری رکھا گیا۔ اس دوران ملک کی کیا حالت ہوئی، عوام کی کیا درگت بنی، آپ نے یا تو چُپ سادھے رکھی یا حکومتی پالیسیوں کی حمائت کردی۔ پھر بھی آپ اپنے لئے اپوزیشن کا کردار پسند کرتے رہے۔ انہوں نے مہنگائی کی ایسی مار ماری کہ عوام کا کچومر نکل گیا۔ یہ اپوزیشن کے کردار کی ادائیگی کا نادر موقع تھا۔ عدلیہ کی بحالی کیلئے لانگ مارچ کی آدھے سفر کے دوران ہی کامیابی پر آپ نے عوام کیلئے دل خوش کن نعرہ لگایا، اب غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے خاتمہ کیلئے بھی لانگ مارچ کرنا پڑے گا۔عوام غربت، بے روزگاری اور مہنگائی سے ادھ موئے ہو چکے ہیں۔ آپ کے لانگ مارچ کی نوبت نہیں آئی،لانگ مارچ ہی کیا، عوام سے ہمدردی کے دو بول بھی آپ کی زبان سے ادا ہونے کے منتظر ہیں۔
امریکی مفادات کی جنگ میں ملک و قوم کو جھونک دینا مشرف کی جرنیلی آمریت کا طوق تھا جو مشرف کی پالیسیوں کے خلاف ووٹ لے کر آنے والوں نے بھی طرۂ امتیاز سمجھ کر اپنے گلے میں ڈال لیا۔ ملک زخمی زخمی ہوتا رہا، قومی مفادات مجروح ہوتے رہے، امریکی ڈرون حملے ہماری مقدس دھرتی اور اس کے باسیوں کو چھلنی کرتے رہے۔ اپوزیشن لیڈر کے طور پر آپ کو اپنے سابقہ حلیف موجودہ حکمرانوں کی ننگِ وطن پالیسیوں کی مذمت و مزاحمت کرنی چاہئے تھی مگر آپ تو خود ان پالیسیوں کے حامی بن گئے۔ انہوں نے تعاون مانگا بھی نہیں تھا، آپ نے فراہم کردیا۔ امریکی خوشنودی کی خاطر اپنی ہی دھرتی پر اپنے ہی شہریوں کے خلاف فوجی آپریشن ملکی مفادات اور قومی غیرت کے منافی تھا۔ آپ نے اپوزیشن کی سیاست کا اعلان کرکے بھی اس حکومتی پالیسی کو چیلنج نہ کیا بلکہ فوجی آپریشن کی کامیابی کے متمنی نظر آئے۔ نفاذِ شریعت کی بات ہوئی تو آپ ’’روشن خیال‘‘ حکمرانوں سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر اس کے مخالف نظر آئے۔ کالا باغ ڈیم قومی ضرورت تھی، ہے اور رہے گی مگر آپ اور آپ کے برادر خورد چھوٹے حکمران نے بھی اسے ناقابل عمل قرار دے کر مفادات کی سیاست میں لپٹے حکمرانوں کو سہارا فراہم کردیا۔ جب آپ انہیں بن مانگے سب کچھ دے رہے ہیں تو وہ اور آپ سے کس معاملے پر تعاون مانگیں گے۔
ہاں 17ویں آئینی ترمیم اور صدر کے اختیارات کے خاتمے کا معاملہ ہے۔ انہیں اپنے وزیراعظم سے خطرہ محسوس ہوا ہے تو وہ آپ کی طرف جھکنے لگے ہیں۔ آپ کو میثاق جمہوریت بہت عزیز ہے۔ یقینا میثاق جمہوریت قوم کو بھی بہت عزیز ہے کہ اس کی بنیاد پر مشرف آمریت کے ملغوبہ بنائے گئے آئین میں ترامیم کے بغیر نہ صدارتی اندھے اختیارات سے جان چھڑائی جا سکتی ہے نہ پارلیمانی جمہوری نظام کو اس کی اصل شکل میں رائج کیا جاسکتا ہے۔ صدر صاحب اوپر سے تو 17 ویں آئینی ترمیم والے صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو (وزیراعظم کو نہیں) واپس لوٹانے کا اعلان کرتے ہیں مگر اندر سے ان اختیارات کی کشش ان کی واپسی کی جانب جانے ہی نہیں دیتی چنانچہ وہ پہلے کی طرح پھر وقت لینا چاہتے ہیں جس کیلئے آپ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے اور آپ اپوزیشن لیڈر ہو کر پھر ان کے چکمے میں آگئے ہیں۔
عوام تو پہلے ہی مایوس اور بدظن ہو رہے ہیں۔ انہیں مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور قومی مفادات کی پامالی کے خلاف لانگ مارچ جیسی تحریک کیلئے آپ کی قیادت کی ضرورت ہے۔ وہ آپ کے اپوزیشن کے عملی کردار کے منتظر بیٹھے تھے کہ صدر محترم کے آپ کے ساتھ رابطے اور آپ سے ملاقات کے پیمان کرنے کی خبر آگئی جس پر آپ بھی مطمئن ہیں۔ محترم میاں صاحب بتائیں مجبور عوام اپنے دکھوں کے مداوا کیلئے اب کون سی قیادت کے پیچھے لگیں اور…؎
کیا اسی زہر کو تریاق سمجھ کر پی لیں
ناصحوں کو تو سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی