شجرکاری میں پاکستان نے بھارت کا ریکارڈ توڑ دیا

کالم نگار  |  محمد مصدق

فارسی میں کہتے ہیں کہ ہرجا آب‘ است آبادانی است… یعنی جہاں پانی ہوتا ہے وہاں آبادی ہوتی ہے۔ اور جہاں آبادی ہوتی ہے وہاں مختلف ضروریات پوری کرنے کے لئے انواع اقسام کے درخت ہوتے ہیں۔ کیونکہ انسانی معیشت میں درختوں کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ دنیا میں ایسے تو ہر قسم کے ریکارڈ قائم ہوتے رہتے ہیں۔ اور جس طرح عالمی ریکارڈ بھی توڑنے والوں کے لئے چلینج بن جاتے ہیں۔
پاکستان نے حیرت انگیز طور پر شجرکاری کے میدان میں بھارت کا بنایا ہوا عالمی ریکارڈ (جسے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی جگہ دی گئی) آج ٹھٹھہ کے قریب بندر کیٹی میں توڑ دیا۔ بھارت نے چار لاکھ سنتالیس ہزار پودے لگا کر یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔ پاکستان نے ساڑھے چار لاکھ پودے لگا کر اس ریکارڈ کو اپنے نام کر دیا ہے اور ریکارڈ کے صحیح ہونے کے لئے ہیلی کوپٹر سے شجرکاری کے تمام عمل کی نگرانی بھی کی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قوم دنیا کی حیرت انگیز قوم ہے جو چاہے کر کے دکھا سکتی ہے۔ کیسی حیرت انگیز بات ہے کہ ناممکن ہدف حاصل کرتے ہوئے ہم ایٹمی طاقت تو بن گئے لیکن نااہلی اور بروقت IPPS کو ادائیگیاں نہ کرنے کی وجہ سے ایٹمی طاقت لوڈشیڈنگ کرنے پر مجبور ہے۔ پھر اس لوڈ شیڈنگ میں لاہور کی فیکٹریاں تو بند ہیں لیکن کراچی کے کسی صنعتی علاقے میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی۔ ایک روز پہلے پیشہ کے لحاظ سے آرتھو پیڈک (ہڈی ڈاکٹر) مشیر پٹرولیم نے لاہور چیمبر میں پنجاب کو خوش خبری سنائی کہ آئندہ گیس کی لوڈ شیڈنگ کے لئے بھی تیار ہو جائیں لیکن کتنی حیرت کی بات ہے کہ صرف پنجاب کے کارخانوں کو سردیوں میں گیس سے محروم رکھا جاتا ہے۔ کراچی کے کارخانوں کو بارہ مہینے پوری گیس ملتی ہے۔ پارلیمنٹ میں پنجاب کے نمائندے اس طرف کب توجہ دیں گے۔
ویسے بات ہو رہی تھی شجرکاری میں عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی اور خوشی کی بات ہے کہ پاکستان کے صرف تین سو رضاکاروں نے بھارت کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا لیکن اب مون سون شروع ہو چکا ہے اور پورے پنجاب میں بھی اس جوش و جذبے سے شجرکاری کی ضرورت ہے۔ پچھلے دنوں حفاظت کے نام پر جس بے دردی کے ساتھ مختلف مقامات پر درخت کاٹے گئے اس پر کسی تنظیم نے بھی احتجاج نہیں کیا جبکہ پہلے صرف ایک درخت کاٹنے پر ہنگامہ ہو جاتا تھا۔ PHA کو چاہئے کہ بھرپور شجرکاری مہم چلانے اور شجرخوری روکنے کے اقدام کرے۔