جیو! لمبی لمبی چھوڑ کر جیو!

کالم نگار  |  خالد احمد

اگر دورِ حیات کسی ایسے موسم کا موڑ کاٹ رہا ہو کہ ’’ظلم اور جور‘‘ کے لئے ’’عدل اور انصاف‘‘ کے الفاظ استعمال میں آنے لگیں تو ہر شخص پر لازم آ جاتا ہے کہ وہ کسی کے بارے میں بھی ’’حسنِ ظن‘‘ رکھنے سے پہلے‘ اُس میں موجود ’’نیکی‘‘ کا علم حاصل ہو جانے سے پہلے پہلے اُس کے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کرے!
اگر ہم ’’راہ بر‘‘ اور ’’راہ زن‘‘ میں فرق کرنا چھوڑ دیں! اور ہر ’’راہ زن‘‘ ہر ’’راہ بر‘‘ کا گمان کر کے‘ اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا شروع کر دیں تو نتیجہ ’’صاف ظاہر‘‘ ہو گا! لہٰذا قائداعظمؒ‘ مادر ملّتؒ اور قائدِ ملتؒ کے بعد ہمیں شدت کے ساتھ احساس دلایا گیا کہ ہم ’’یتیم‘‘ ہو چکے ہیں اور ہمارے لئے سرپرستوں کے زیرِ سایہ آ جانا اشد ضروری ہے‘ لہٰذا مقامی طور پر سرپرستوں کا بندوبست کر دیا گیا اور ہم اُن کی سرپرستی میں ’’پالنے میں پڑے پڑے بوڑھے ہو گئے!‘‘ اور پھر ہمیں ’’کند ذہن‘‘ طوطے قرار دے کر ’’بولنے سے معذور‘‘ مشہور کر دیا گیا! لہٰذا نہ ہم کلام کے لائق رہے نہ خرام کے! چلنا ہمیں سیکھنے ہی نہیں دیا گیا اور بولنے کے لئے اجازت ہی نہ مرحمت فرمائی گئی!
دنیا بھر میں ’’سائبر کرائم‘‘ کی اصطلاح ’’آن لائن بینکنگ‘‘ میں دخل اندازی اور فریب کاری کے علاوہ آن لائین گفتگو کے دوران کسی ’’معصوم ذہن‘‘ پر اثرانداز ہو کر اُسے ’’بدراہ‘‘ کرنے جیسے جرائم کے لئے استعمال کی جاتی تھی‘ مگر پاکستان میں آتے آتے یہ \\\"SMS\\\" کے ذریعے عام ہونے والے ’’لطائف‘‘ تک آ گئی ہے!
ایسا کیونکر ہوا؟ یہ جاننا اتنا مشکل نہیں! اگر ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر برسرِ اقتدار آنے والے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں! اور اُن کے ’’وکلائ‘‘ کی ’’ٹیمیں‘‘ بھی اسی نوع کی ہوتی ہیں تو ’’قانون کا اطلاق‘‘ بھی اُسی ’’سٹائل‘‘ میں ہو گا‘ جسے ذرا ’’عوامی‘‘ رنگ دیا جانا ضروری ہوتا ہے! لگے ہی ناں کہ یہ قانون واقعی ’’قانون دانوں‘‘ نے بنایا ہے! بلکہ یوں لگے کہ یہ کسی ’’تھڑے‘‘ پر اُٹھا کر پوری قوم کے سر پر دے مارا گیا ہو!
’’تھڑا‘‘ کوئی عام سی شے نہیں‘ جسے صرف ’’چوراہا‘‘ اپنا سکے! یا‘ اُسے‘ ’’ہضم‘‘ کر سکے! ’’تھڑا‘‘ تو آدمی کی اپنی جیب میں ہوتا ہے اور وہ اُسے کہیں بھی جیب سے نکال کر وہاں بچھا سکتا ہے‘ جہاں اُسے ’’بدقسمتی‘‘ سے بلا لیا گیا ہو! یہ جگہ کوئی ’’فائیو سٹار‘‘ ہوٹل یا ’’پنج ستارہ‘‘ سرائے بھی ہو سکتی ہے اور کوئی اعلیٰ ترین ’’مسند‘‘ بھی‘ جہاں‘ وہ اپنا ’’تھڑا‘‘ آپ پیدا کرنے کی اہلیت کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکے! ہم سمجھتے ہیں کہ ’’ٹی وی سکرین‘‘ بھی ایک ’’اعلیٰ ترین مسند‘‘ ہوتی ہے۔ خواہ وہ کسی بھی چینل کی ہو‘ کیونکہ اگر اُسے دیکھا جا رہا ہے تو وہ دیکھنے والی آنکھیں ’’متاثر‘‘ بھی کر رہی ہے۔ ’’بینائی‘‘ بھی اور ’’بینش‘‘ بھی!
جینے کے لاکھ ڈھنگ ہیں! مگر ’’لمبی لمبی چھوڑ کر جیو!‘‘ کوئی طریقۂ حیات نہیں!
ہمیں آج کل چودھری شجاعت حسین ایک ’’ہیرو‘‘ نظر آ رہے ہیں! حالانکہ ابھی تک ہماری آنکھوں پر اتنی چربی نہیں چڑھی کہ ’’سیاہ چشمہ‘‘ ہماری ’’بنیادی ضروریات‘‘ میں شامل ہو جائے! لیکن ہمیں یاد ہے کہ اُن حضرات کے دورِ حکومت میں کیا کیا ’’لطیفے‘‘ اور کیا کیا ’’ظریفانہ مکالمے‘‘ اِدھر اُدھر نہ ہوتے رہے مگر کسی نے ’’عوام‘‘ پر ایسی ’’عدم اعتمادی‘‘ اور ’’عدم اعتباری‘‘ کا اظہار نہیں کیا جتنی ’’عدم اعتمادی بے اعتباری‘‘ کا اظہار جناب رحمان ملک اور اُن کے ساتھیوں نے ’’من حیث المجموع‘‘ فرمایا ہے!
ہم ’’حُسنِ زن‘‘ اور ’’حسنِ ظن‘‘ میں فرق نہ کر پانے والوں سے مخاطب نہیں لیکن ایک بات کہے بغیر بات ختم نہیں کر سکتے! اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں ’’خیر و خوبی‘‘ صرف ’’دو افراد‘‘ کا مقدر ٹھہرائی گئی ہے ایک وہ جو اپنی ’’گمراہی کا تدارک‘‘ توبہ سے کرے اور دوسرا وہ‘ جسے ’’کارِ نیک‘‘ کر گزرنے میں سبقت حاصل ہو جائے! اب دیکھنا یہ ہے کہ جناب آصف علی زرداری اور جناب یوسف رضا گیلانی میں سے کون ’’توبہ‘‘ میں پہل کرتا ہے اور کون اس ’’قانون‘‘ میں درستی کے ’’کارِ نیک‘‘ میں سبقت لے جاتا ہے! وَما علینا الا البلاغ!