جمہوری چوری چکاری!

کالم نگار  |  توفیق بٹ

اس سے قبل کی ’’مکمل جمہوریت‘‘ کے ایک زمانے میں صوبائی اسمبلی کے ایک رکن نے فلور پر کہا ’’اسمبلی کے آدھے ارکان اُلو کے پٹھے ہیں‘‘ رکن اسمبلی کی اس ’’بدتمیزی‘‘ پر ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ بات وزیر اعلیٰ تک پہنچی تو انہوں نے بدتمیزی کا مظاہرہ کرنے والے رکن اسمبلی کو بلایا اور اس کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے حکم دیا۔ اپنے الفاظ فوری طور پر واپس لو۔ اگلے روز ’’ہاؤس‘‘ میں اس نے کہا ’’کل میں نے عرض کیا تھا اسمبلی کے آدھے ارکان اُلو کے پٹھے ہیں‘ آج میں اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے عرض کرتا ہوں اسمبلی کے آدھے ارکان اُلو کے پٹھے نہیں ہیں‘‘… الفاظ کی اس ’’واپسی‘‘ پر ارکان اسمبلی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور آدھے سے زیادہ ارکان نے الفاظ واپس کروانے پر وزیر اعلیٰ کو اتنی داد سے نوازا جیسے پاکستان کا ایٹم بم انہوں نے ایجاد کیا ہو۔
ارکانِ اسمبلی کو اُلو کا پٹھہ کہنے کا رِسک اسمبلی کا کوئی رکن ہی لے سکتا ہے۔ ہم تو ارکان اسمبلی کو ’’فرشتہ‘‘ ہی سمجھیں گے کہ ایسا نہ سمجھنے کی صورت میں ’’جمہوریت دشمن‘‘ کا جو لیبل ہم پر لگے گا ہمارے لئے قابل برداشت کہاں ہو گا کہ ’’مکمل جمہوریت‘‘ کے جو ’’فوائد‘‘ ملک و قوم کو ہوتے ہیں اس کے نتیجے میں جمہوریت کی مخالفت ملک و قوم کا کوئی ’’دشمن‘‘ ہی کر سکتا ہے سو جناب مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی نے مبینہ طور پر کریڈٹ کارڈ چوری کر کے اپنی اور اپنی پارٹی کے لئے جس ’’نیک نامی‘‘ کا اہتمام کیا ہے ہم ان کی مخالفت کا ’’رِسک‘‘ نہیں لے سکتے۔ اس لئے بھی کہ ایک تو وہ خاتون ہیں‘ دوسرے ان کی جماعت برسراقتدار ہے اور برسرِ اقتدار جماعت کوئی بھی ہو اس کے ارکان اسمبلی ’’فرشتے‘‘ ہی ہوتے ہیں چاہے چور ہی کیوں نہ ہوں۔
مسلم لیگ ن یعنی پنجاب کی برسراقتدار جماعت نے کریڈٹ کارڈ کی چوری کے الزام میں اپنی رُکن اسمبلی کے خلاف پرچہ درج کرنے کی سفارش کی ہے‘ یہ اچھی بات ہے مگر شمائلہ رانا جی کو اس اچھی بات پر پریشان ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں‘ اس لئے کہ اس سے قبل ایسے بلکہ اس سے بھی سنگین الزامات کے حامل ارکان اسمبلی کو بالآخر معافی مِل سکتی ہے تو میرے خیال میں شمائلہ رانا جی کو بھی ضرور مل جائے گی۔
ویسے شمائلہ رانا جی کا نام ہم نے پہلی بار سنا ورنہ اس سے قبل ہم نے صرف چودھری غفور صاحب کا نام ہی سنا تھا۔ مسلم لیگ ن کو اب اپنی دیگر خواتین ارکان پر خصوصی نظر رکھنی چاہئے ویسے شمائلہ رانا جی نے کریڈٹ کارڈ چوری کر کے خواتین ارکان اسمبلی میں جو ’’انفرادیت‘‘ قائم کی اس پر ان کا نام گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونا چاہئے۔ میرے خیال میں ایسا ’’شاندار کارنامہ‘‘ اس سے قبل کسی خاتون رکن اسمبلی نے نہیں کیا۔ ایک اور بات بھی سوچنے والی ہے کہ انہیں کریڈٹ کارڈ چوری کر کے خریداری کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ گر کوئی مجھ سے پوچھے تو عرض کروں اس کے ذمہ دار محترم وزیر اعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف ہیں جو کچھ ارکان اسمبلی کے غلط کام نہ کر کے انہیں اس حال تک پہنچا دیتے ہیں کہ ان بے چاروں کو حتیٰ کہ ’’چوری چکاریوں‘‘ پر اترنا پڑتا ہے۔ گر میرے محترم وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی جماعت کے کچھ ارکان اسمبلی کو کبھی کبھی تھوڑی بہت ’’رعایت‘‘ دے دیا کریں تو میرے خیال میں اس سے ایک تو ان ارکان اسمبلی کی ’’غربت‘‘ دور ہو جائے گی۔ دوسرے وہ ایسی حرکات بھی نہیں کریں گے جس سے پارٹی بدنام ہو۔ ہے تو یہ مشکل کام مگر پارٹی کے مفاد میں ایسے مشکل کام کر لینے میں کوئی حرج نہیں جیسے ملک کے مفاد میں کچھ کام کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔
شمائلہ رانا جی کا معاملہ اب پولیس کے پاس ہے لہٰذا انہیں گھبرانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ ہماری پولیس تو عام مجرموں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کر لیتی ہے وہ تو پھر رکن اسمبلی ہیں۔ مجھے یقین ہے ان کا دامن پھر سے صاف دکھائی دینے لگے گا ایسا کہ دامن نچوڑیں تو فرشتے وضو کریں!