’’خلیفہ امت ہی کا ایک فرد ہے‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’خلیفہ امت ہی کا ایک فرد ہے‘‘

بہت کم لوگ سماج سدھار پروگرامز اور اصلاح معاشرہ کیلئے برسرعمل اداروں پر لکھتے ہیں۔ شروع میں اس جانب زیادہ میلان نہ تھا مگر برادر عزیز اجمل نیازی، ’’سعید آسی بھائی‘‘ کی خیرو برکت پھیلاتے مشن کے ساتھ مخلصانہ وابستگی نے قلمی نیکی کا فریضہ بھی سونپ دیا۔ دونوں حضرات کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ وہ سماجی شخصیات کے اوصاف حمیدہ کو بھی نہایت دلکش، متاثر کن پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں بیرون لاہور 3فلاحی ادارے دیکھنے کا پروگرام بنا، میزبان بیگم گورنر پنجاب ’’پروین سرور‘‘ تھیں۔ دیگر خواتین میں انعم قادری، نازیہ گیلانی، ڈاکٹر فائزہ شیخ، فاطمہ مبین، بدر سعید، انیسہ سعادت وغیرہ شامل تھیں، ’’گورنر ہائوس‘‘ سے پہلی منزل ’’اجانہ ووکیشنل ٹرینگ سنٹر‘‘ تھی۔ مستعد سٹاف، ہنر مند خواتین سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ دستکاری مرکز کو ’’پروین سرور‘‘ خصوصی توجہ دے رہی ہیں، غریب بچیوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے چھ ماہ دورانیہ کے کورسز کروائے جاتے ہیں۔ جن میں میک اپ، کمپیوٹر، سلائی کڑھائی وغیرہ، چنیدہ سماجی ورکرز کے تعاون سے خواتین کو سلائی مشینیں فراہم کی گئیں۔ اس کے بعد ہماری منزل ’’فائونڈیشن ہسپتال‘‘ تھی۔ وسیع رقبے پر محیط درجن بھر سے زیادہ شعبے جدید ترین مشینری کیساتھ نادار، غریب مریضوں کا خلوص، دردمندی سے علاج میں متحرک نظر آئے ’’ظہر کی نماز ہسپتال کی کشادہ مسجد میں ادا کرنے کے بعد کھانا کھایا۔ تیسرا پڑائو ’’فاونڈیشن سکول‘‘ تھا۔ علاقے کی ضروریات اور فطری سادہ پن کا امتزاج، ماڈرن کلاس رومز، نصابی وغیرہ نصابی سرگرمیوں کے تحت قوم کے مسقبل کی صحت مندانہ فضا میں تعلیم و تربیت کا اس طرح اہتمام کیا جاتا ہے کہ ان میں حسن اخلاق، اخلاقی اقدار کی پاسداری کا عزم پختہ ہو، بیحد پر لطف، معلوماتی سفر تھا، روانگی سے واپس تک پر مزاج باتوں، معلوماتی گفتگو نے ایک لمحہ کیلئے بھی بور نہیں ہونے دیا، ستائش کی پرواہ کئے بغیر غرض سے بالاتر ہو کر دوسروں کے دکھ کم کرنا، انکے دامن سے کانٹے چننا ہر کسی کے نصیب کی بات نہیں، رحمت کی بارش انہی گھروں کے صحن میں برستی ہے جو اپنے صبح، شام کو خدمت انسانی کیلئے وقت کر دیتے ہیں۔ معیشت کے جملہ اسباب کی ترتیب و نظم یوں ہو کہ معاشرہ کے تمام طبقات بلا امتیاز مستفید ہوں، سرکاری وسائل کا خرچ بارش کے قطروں کی صورت ہو تو وہ ہر طرح کی زمین کو سیراب کر دیتا ہے۔ ریاست شہریوں کی کفیل کہلاتی ہے اور خلیفہ یا امیر ، صدرہو یا وزیراعظم قوم کا خادم ہو تا ہے، حضرت ابوبکرؓ کی پہلی تقریر کی نمایاں بات تھی کہ ’’خلیفہ امت ہی کا ایک فرد ہے انہیں میں سے منتخب ہوا ہے‘‘۔ خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرہ میں دین و بھلائی کے قیام کی ذمہ داری نبھائے، حکومت اور عوام کے مابین رحم، نرمی مزاج کا معاملہ ہونا چاہئے، باہمی امور میں خلیفہ لوگوں کے ساتھ مشاورت کرے، عوامی رائے پر پورے عزم اور ’’اللہ تعالیٰ‘‘ پر توکل کیساتھ عمل کرے‘ مزید براں علاج معالجہ، آسان زندگی کی ضروریات، روزگار کے معاملہ میں تمام شہریوں کو عدل و انصاف پر مبنی قواعد و ضوابط کے تحت مسابقت میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ہمارا یقین ہے کہ وہ لوگ ہی اصل میں ’’خلیفہ‘‘ ہیں جو لوگوں کو آسانیاں فراہم کر رہے ہیں۔ آج تک ’’اشرافیہ‘‘ کو دولت باہر لیجاتے دیکھا، پہلی مرتبہ کسی ’’حکمران‘‘ کو خدمت خلق میں اپنا پیسہ، باہر کے فنڈز کو اندرون ملک تعمیری پراجیکٹس میں استعمال ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ’’گورنر و مسز گورنر پنجاب‘‘ اور انکے بچے شبانہ روز نیکی کے پھول اگا رہے ہیں ‘‘حدیث بنویؐ‘‘ ہے۔ اپنی صبح کا آغاز صدقہ سے کرو، خواہ روٹی کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ ’’مغل پورہ الاحسان آئی ہسپتال‘‘ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ روٹی، دوائی کے ساتھ ’’حجاج کرام‘‘ کی تربیت کا بھی انتظام ہے، ’’پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘‘ کی بہبود مریضاں کمیٹی‘‘ کے سینئر نائب صدر شیخ عطاالرحمان کی دعوت پر ہسپتال کا وزٹ کیا۔ قبلہ عطا الرحمان نے ’’حجاز ہسپتال‘‘ میں تنہا فضل حفیظ آڈیٹوریم تعمیر کروایا، ہسپتال کی ترقی میں موصوف کا کلیدی کر دار ہے۔ ایک پسماندہ علاقے میں آنکھوں اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کا جس طرح سے علاج ہو رہا ہے وہ ہماری اشرافیہ کیلئے پیغام ہے کہ دکھی انسان کے مصائب کے خاتمہ سے بڑی راحت کوئی نہیں۔ ’’سالار کارواں ثنا اللہ خان‘‘ نے دستیاب طبی سہولتوں اور مستقبل کے شاندار منصوبہ جات پر تفصیلی بریفینگ دی، ہسپتال خدمت کے 20سال پورے کر چکا ہے، مہنگائی کے سبب بڑھتے ہوئے رش کیوجہ سے انتظامیہ نے ساتھ ہی ایک پلاٹ خرید کر تعمیر شروع کر دی ہے 6 منزلہ ڈھانچہ تعمیر مراحل طے کر چکا ہے۔ مخیر حضرات کے گرانقدر عطیات کا منتظر ہسپتال ایسے افراد کا انتظار کر رہا ہے جو ’’عوامی خلفائ‘‘ ہیں امت کا حصہ ہیں۔ بے سہاروں کا سہارا بنے ہوئے ہیں، امت کا ہر فرد دوسرے فرد سے جڑا ہوا ہے۔ بہت دلکش منظر تھا۔ ’’آرمی چیف اہلیہ سمیت‘‘ کھڑے تھے۔ بچوں کا استقبال کیا، انہیں پیار کے ساتھ حوصلہ دیا، پر عزم سپہ سالار نے خلیفہ کا کردار ادا کیا، قومی ترانے کی صدا بلند ہوئی، دعا پڑھی گئی۔ سانحہ کے بعد پہلا دن تھا۔ کیا یہ قیادت کا کام نہیں تھا کہ وہ بھی اس موقع پر موجود ہوتے، ہمت افزائی کرتے، سرکش لوگوں کو عملاً پیغام جاتا کہ ہم ایک مشن کا تعین کرچکے ہیں۔ ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ بہرحال ’’پسماندگان‘‘ کیلئے ملزمان کی گرفتاری اچھی امید بن گی ہے۔ قارئین عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 40ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جبکہ پاکستان میں مہنگے نرخ کے باوجود سپلائی میں خوفناک کمی کی وجہ سے عوام خوار ہو رہے ہیں۔ مصنوعی قلت سے آج تیسرا دن بھی عوام کو ذلت اٹھانا پڑ رہی ہے۔ قوم پریشان ہے اور حکمران باتوں سے ہی بجلی، گیس پیدا کرنے میں مشغول ہیں۔ بجلی، گیس کی بندش نے زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ اسوقت سے ڈریں جب غم قوت میں بدل جائیگا۔ نا قابل شکست قوم کو اپنے ہی شکت نہ دیں۔ خلیفہ امت کا ہی فرد ہے انہی سے منتخب ہوا ہے۔