ہم طفل سادہ سوتے ہیں مائوں کی گود میں

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی
ہم طفل سادہ سوتے ہیں مائوں کی گود میں

انسان کی خوشی اور غم موسموں کی مرہون منت ہے۔ موسم اندر کا ہو یا باہر کا اپنا اثر دکھا کر ہی رہتا ہے۔ محبت کی دنیا میں موسم کے اثرات بہت زیادہ نظر آتے ہیں۔ اسی لئے تو بہار کا انتظار کائنات الفت میں ایک بہت بڑا موضوع ہے۔ لیکن محبت کی باطنی دنیا میں والدین کی الفت کی بہاریں سدا ہی جوان رہتی ہیں۔ اور اس جوانی پر زوال تب آتا ہے۔ جب والدین اپنی کائنات حیات کارخ بدل کر عالم برزخ کو جا بساتے ہیں۔ اگرچہ روح کی دنیا میں تو یہ جدائی ایک علامت ہے لیکن دنیائے نفس میں یہ ایک بہت بڑا خلاء ہے۔ غم کی بستیاں آباد ہوتی ہیں اور دلوں کی طراوت میں بہت ہی کمی آ جاتی ہے۔ ایک شجر سایہ دار خزاں کی زد میں آتا ہے اور دیکھتے دیکھتے ویرانی کی فضاء دل زندہ کو سوگوار کر دیتی ہے لیکن والدین کی محبت میں یہی سوگوار کیفیات ربط و الفت کا جہاں تازہ ایجاد کرتی ہیں۔
سال نو کا ماہ جنوری سفر زندگی کا ولولہ تازہ ہوتا ہے لیکن میری والدہ گرامی حضرت اماں جی کا یہ ماہ جنوری دائمی زندگی کا سفر آخر ثابت ہوا۔ اور ہم اہل خانہ کے لئے حقیقی موسم خزاں شمار ہوا، اماں جی کی سالانہ یاد پر جب بھی قلم یاد کا اہتمام کرتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں طفل سادہ اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا معصومانہ پیار کی باتیں کر رہا ہوں اور پھر باتیں کرتا کرتا تھک جاتا ہوں تو مجھے اونگھ آنے لگتی ہے۔ ماں مجھے جھنجھوڑتی ہے کہ کیا ہوا تجھے نیند آ رہی ہے پھر میری ماں مجھے گرم بستر میں لٹا کر لحاف میں دبکا دیتی ہے اور میرے سر کو فرشتہ خو نرم ہاتھوں سے سہلاتے سہلاتے میٹھی اور گہری نیند کے حوالے کر دیتی ہے پھر مناسب دیر کے بعد میرے سر کو سہلاتے سہلاتے جگا دیتی اور بہت میٹھی دلکش آواز میں مجھے نماز پڑھنے کی تلقین کرتی ہے اگر مجھ پر نیند کی سستی غالب ہو تو پھر بہت ہی دلسوزی سے نماز کی اہمیت پر مائل کرتی ہے۔میری والدہ گرامی ایک سادہ مشرقی مزاج کی خاتون خانہ تھیں۔ ان کی متاع حیات کا اہم ترین وجود ہم بہن بھائیوں کا دینی سراپا تھا۔ اس لئے انکی ساری الفت و محبت کا ہدف ہماری دینی تربیت تھی۔ انکی اپنی ذات کا روشن ترین صفائی سلسلہ یہی تھا کہ وہ اپنی ہر خوبی کو اپنی اولاد کے وجود میں ایسے بسا دیں کہ یہ بچے اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کے رسول محتشمؐ کی محبت کا ایسا پیکر بن جائیں جو معاشرے میں ایک سچے مومن کا کردار ادا کریں۔وہ بہت صبح بیدار ہوتی تھیں اور بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتی تھیں تو ہم سب بچے بھی بخوشی اپنے بستروں سے برآمد ہوتے تھے اور جلدی جلدی نماز پڑھنے کی تیاری شروع کر دیتے تھے۔ پھر اماں جی قرآن شریف پڑھنے کیلئے بٹھا دیتی تھیں اور خود بہت تیزی سے ہمارے لئے ناشتہ تیار کرتی تھیں اور ہم سب سکول کی جانب روانہ ہو جاتے تھے۔اماں جی پھر گھر کے چھوٹے موٹے کام کاج میں مصروف ہو جاتی تھیں اور ان کا ایک شغل و شوق یہ تھا کہ تمام کاموں سے فراغت کے بعد کھجور کی گٹھلیوں کو ایک صاف شفاف سفید براق چادر پر بکھیر دیتی تھیں اور ان پر بہت ہی انہماک اور باطنی توجہ کیساتھ درود شریف اور آیت کریمہ پڑھتی رہتی تھیں۔ محلے بھر کی عورتیں آتی تھیں لیکن ان کا مشغلہ دست و دل جاری رہتا تھا۔ صوفیاء کے ہاں ایک تربیتی مقولہ ہمیشہ گردش میں رہتا ہے کہ ’’دل یار ول‘ ہتھ کار ول‘‘یعنی ہاتھوں سے امور دینا سر انجام دیں اور دل کو یاد خدا سے معمور رکھیں۔اماں جی کا اپنا ایک قول تھا اور عمل بھی یہی تھا کہ دل معمور یاد خداوندی ہو اور ہاتھ بھی مصروف عبادت رہیں۔ دراصل اماں جی کا بچپن ایسے ماحول میں گزرا تھا۔ اولیاء امت اور صالحین ملت کا تذکرہ بہت ہوتا تھا۔ اماں جان کی والدہ گرامی حضور سیدنا عبدالقادر جیلانی الغوث الاعظمؒ سے بہت گہری عقیدت رکھتی تھیں۔ وہ ہر ماہ حضرت غوث پاکؒ کے ایصال ثواب کیلئے بہت زیادہ کھانا بنام خدا تقسیم کرتی تھیں اور غریب گھروں کے بچوں کو بہت شفقت اور پیار سے کھانا خود کھلاتی تھیں۔ اماں جی کو یہ محبت اور نیک عمل اپنی والدہ محترمہ سے ورثے میں ملا تھا اگرچہ اماں جی کے والدین بہت زیادہ خوشحال لوگ تھے لیکن اماں جی کو سسرال میں الفقر فخری کا عملی منشور و دستور نظر آتا تھا۔ اماں جی نے اس ماحول کو پوری خوشی اور قلبی راحت کیساتھ قبول کیا، لیکن اپنی طاقت سے بڑھ کر سخاوت کے وطیرے کو ترک نہیں کیا۔ گھر خرچ کے پیسوں میں سے فاضل نقدی کو اپنے دوپٹے کے ایک پلو سے باندھ کر رکھتی تھیں۔ اور اس نقدی کو اپنے گھر کے استعمال میں نہیں لاتی تھیں۔ ہم شرارتی بچوں کی طرح اماں جی سے پوچھتے تھے کہ یہ بینک آپ نے اپنے ڈوپٹے سے مستقل باندھا ہوا ہے۔ ہماری رقم بھی اس میں موجود ہو گی۔ ہمیں بھی دیجئے۔ جواباً خفیف سی مسکراہٹ کیساتھ کہتی تھیں نہ بابا نہ یہ پیسے تو میں نے فلاں بیوہ کیلئے رکھے ہیں اسکے گھر تو دو وقت کا کھانا بڑی مشکل سے پکتا ہے۔ اور نصیحت فرماتی ہیں کہ بیٹا ضعیف، مسکین، بیوہ اور غریب لوگوں کی مدد کرنے سے اللہ تعالیٰ برکت عطا فرماتا ہے۔ دوسری جانب حقوق اللہ کی ادائیگی میں بہت زیادہ خوف رکھتی تھیں۔ بیماری اور کمزوری میں بھی روزہ کبھی ترک نہ فرماتی تھیں۔ جب ہم زور دیتے کہ اماں جی آپ کی یہ بزرگانہ عمر ہے۔ اس میں فدیہ دیا جا سکتا ہے تو جواب دیتی تھیں کہ روزہ تو روزہ ہی ہے ہمت کر لوں گی اللہ تعالیٰ میری مدد کریگا۔ ہمارے گائوں کے لوگ جب بھی لاہور کسی کام سے آتے تھے تو ان کی رہائش و طعام کا مرکز ہمارا گھر ہی ہوتا تھا۔ حضرت والد صاحب قبلہ میاں جیؒ بہت خوش ہو کر اماں جی کو فرماتے تھے کہ اللہ کی رحمت ہو گئی، گائوں سے مہمان آگئے ہیں اماں جی بہت خوش دلی سے جواباً کہتی تھیں بسم اللہ، برکتیں ہو جائیں گی۔ پھر چولہا جلتا تھا ان دنوں گیس، تیل وغیرہ کے چولہے بہت کم یاب تھے لکڑیاںجلتی تھیں۔خدا کی یہ بندی خدا کی مخلوق کی خدمت میں دستر خوان بچھاتے بچھاتے اب خیر الرازقین کے دستر خوان نعمت پر عالم برزخ میں پہنچ گئی ہیں اور ہمارے لئے رزق حلال اور محنت کے دروازے کھول کر خود اطمینان کی، مغفرت کی وادی میں استراحت کر رہی ہیں۔ انکی دعائیں اور روحانی سایہ ہمارے لئے سرمایہ حیات اور نوشہ آخرت ہیں۔ قارئین مائوں سے قلبی رابطہ جڑا رہے تو جینا، مرنا سب آسان ہو جاتا ہے۔