کشتی کا ملاح کون ہے ؟

کالم نگار  |  روبینہ فیصل
کشتی کا ملاح کون ہے ؟

 میں لاہور میں ہوں اور دلی کا سفر نامہ ادھورا پڑا رہ گیا ہے ۔ دلی کا اسرار اپنی جگہ مگر جب لاہور کی بات آجائے تو میں اس ماں کی طرح favouritismکی قینچی چلا دیتی ہوں جسے ایک بچہ باقی سب بچوں سے پیارا ہوتا ہے اور وہ اس پیار کے ہاتھوں اتنی مجبور ہوتی ہے کہ ناانصافی کرکے بعد میں پشیمان بھی نہیں ہوتی۔  
دلی کا ائر پورٹ جو کسی بھی انٹر نیشنل ائر پورٹ کو پچھاڑ کر رکھ دے۔ میرے دماغ کو تو متاثر کر رہا تھا مگر دل میں یہی خیال تھا کہ اب لاہور ائر پورٹ کو دیکھوں گی تو کیسا لگے گا؟ اسکے جواب کا زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ نومبر 2014 میں دلی اور دسمبر میں لاہور آئی ہوں تو کیا دیکھتی ہوں کہ دلی تو دنیا کے شانہ بشانہ بھاگ رہا ہے مگر لاہور کئی صدیاں پیچھے چلا گیا ہے۔ بات صرف سجاوٹ کی نہیں ہو رہی، بات انتظام کی بھی ہو رہی ہے ۔ لاہور ائر پورٹ سادہ ہوتا اور منظم ہوتا تو مجھے کسی سے کوئی شکایت نہ ہوتی۔امیگریشن پر جب میں لائن میں کھڑی تھی تو میرے آگے ایک پاکستانی لڑکی جو کینیڈا میں ہی پلی بڑھی لگ رہی تھی، نے لائن میں بہت پیچھے کھڑی ایک خاتون کو اشارے سے اپنی طرف بلا کرساتھ کھڑا کر لیا۔ میں سمجھی اسکی ماں ہوگی مگر پتہ چلا وہ صرف دبئی سے لاہور فلائٹ میں ہم سفر ہونے کے علاوہ آپس میں کچھ نہیں ہیں، اس بد تہذیبی کو نظرانداز کر دیا۔ مگر جب کائونٹر پر حجاب سر پر لئے بیٹھی لڑکی نے اگلے بندے کو بلانے کیلئے شائستگی کی بجائے انتہائی کرختگی سے کہا ’’جلدی جلدی آئو‘‘ تو میرے آگے کھڑی وہی لڑکی ساتھ والی سے بولی ’’یہ ہے پاکستان توبہ‘‘… میں جو اس کی اپنی بدتہذیبی کو نظرانداز کر چکی تھی اس ڈھٹائی کو نظرانداز نہ کر سکی اور اسے کہا ’’اور آپ پکی پاکستانی ہو‘‘۔ وہ چونک کر مڑی، جی؟آپ نے کینیڈا میں کبھی اس طرح لائن نہیں توڑی ہوگی نا؟ یہاں آپکے حصے کا یہ کام تھا کہ آپ نے وہ تہذیب جو کینیڈا میں سیکھی اسے بڑھاوا دیتے یہاں رائج کرنے کی کوشش کرتے آپ نے آتے ہی اسکی دھجیاں اڑا دیں تو یہ جو پاکستان ہے نا یہ ہم پاکستانیوں نے ہی ایسا بنایا ہے۔ میں نے اسے کہا مجھے سوری نہ کہو مگر اپنے پر sorry feel  کرو۔ وہ لڑکی جو کائونٹر پر بیٹھی بدتمیز ی سے لوگوں کو بلا رہی ہے تم اس سے زیادہ مجرم ہو کیونکہ اسکی نہ کسی نے تربیت کی ہے اور نہ اسے اس چیز کی اہمیت کا اندازہ ہے۔ آپ ایک مہذب ملک سے اخلاقیات کا سبق کلاس ون سے پڑھ کر آئی ہیں… اس نے سر جھکا لیا اور کہا آئی ایم سوری… میں نے پیار سے اس کا کندھا تھپک دیا۔ مگر میرا دل اداس ہوگیا اس محرومی پر جو ہمارے ملک کا نصیب بن گئی ہے۔ دلی ائر پورٹ کا مہذب، پڑھا لکھا اور چست و چالاک ائر پورٹ کا عملہ میری آنکھوں کے آگے گھوم گیا۔ انہیں دیکھ کر لگتا تھا کہ سخت معیار اور ٹریننگ کے بعد اس مقام تک پہنچے ہیں۔ کسی کی پرسنلٹی یا بول چال سے یہ نہیں لگ رہا تھا کہ کسی مامے چاچے کی سفارش سے بھرتی ہوئے ہیں۔ competency انکے چہروں پر عیاں تھی۔ گورا کالا ہر قسم کا ٹورسٹ وہ ایک ہی طرح کے اخلاق سے نبھا رہے تھے۔ کچھ انڈین کرنسی پرس میں رہ گئی تھی تو واپسی پر دلی ائر پورٹ کا واش روم صاف کرنیوالے ایک آدمی کو پکڑانے کی کوشش کی، اسے یوں جیسے ڈنگ لگ گیا ہو، اسکے چہرے پر ایسا خوف تھا جیسے اس نے ان پیسوںکو ہاتھ بھی لگایا تو ابھی کوئی آہنی ہاتھ اسکی گردن دبوچ لے گا۔ اور اب میں لاہور ائر پورٹ پر ہوں، امیگریشن سے نکلتے ہی سامان لینے کیلئے جس بیلٹ کے پاس کھڑے ہونا تھا وہاں ایک طوفان تھا۔ ساری فلائٹس جو دھند کی وجہ سے لیٹ تھیں اکٹھی پہنچ چکی تھیں۔ دو بوسیدہ بیلٹس چل رہی تھیں اور وہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں تھی۔ میں نے مشکل سے راستہ بنایا۔ ٹرالی کہاں ملے گی ؟ ’’کہیں نہیں‘‘۔ جواب ملا۔ پورٹر کو لالچ کہ سامان وہ رکھیں اور پیسے بنائیں اس سے وہ پورٹر کم اور فقیر یا اٹھائی گیرے زیادہ لگ رہے تھے ۔ اب آپ دلی ائر پورٹ کا منظر دیکھیں ۔ وہاں اس سے بھی زیادہ فلائٹس پہنچی ہیں۔ وردی میں ملبوس لوگ سامان بیلٹ کے پاس بھی آپکی مدد کرنے کھڑے ہیں ۔انکی آنکھوں میں چوروں کی طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ اپنی ڈیوٹی سر اٹھائے نبھا رہے ہیں۔ آپکی مدد کر رہے ہیں اور ان کا رویہ خوش آمدید کہتا ہے۔ اور یہ لاہور ہے جسکے ساتھ دل دھڑکنا نہیں چھوڑتا وہ آپ کو کہہ رہا ہے ’’پاگل دے پتر فیر آ گئے او، پچھلی وار دا سلوک یاد نئیں‘‘۔ پھر معلوم ہوا ٹرالی لینے کیلئے آپ کو اتنی بھاگم دوڑ کرنا پڑیگی جتنا کسی بھوکے کو روٹی کے پیچھے بھاگنا پڑ جائے۔ میری لاکھ کوشش کے باوجود مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آیا جسے سپر وائزر یا کوئی افسر نما چیز کہہ سکوں۔ ہر طرف پورٹر بلیک میل کرتے نظرآرہے تھے۔ میں بھی ضد پر ڈٹ گئی ۔ جتنی بھی دیر ہو جائے۔ خود ہی ٹرالی اور سامان ڈھونڈوں گی۔ لمبی فلائٹ کی تھکائوٹ سے نڈھال دوسرے مسافر اپنا آپ ان پورٹرز کے حوالے کر چکے تھے۔ پھر پورٹرز ٹرالیوں کے حصول کیلئے ایک دوسرے سے گتھم گتھا بھی پائے گئے۔ مگر کوئی افسر مجھے کہیں نظر نہ آیا۔ میں حسبِ معمول لاہور ائر پورٹ پر اترتے ہی ایک استانی بن چکی تھی۔ اس بچی کو قطار توڑنے پر ناحق پاکستانیت پر لیکچر دیا۔ اس درگت کے بعد میری پاکستانیت شدید دسمبر میں ماتھے پر پسینہ بن کر چمک رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی انڈیا کیخلاف جنگ کا اعلان کرنیوالوں اور جذباتی نعرہ لگانے والوں سے ایک بار تو پوچھوں کیا تم لوگوں کو واقعی احساس نہیں کہ تم لوگ انڈیا سے بازی ہار چکے ہو؟مگر اسکے جواب کیلئے بھی کسی سپر وائزر کا کسی لیڈر کا ہونا ضروری ہے یہاں تو یہ تک نہیں پتہ کہ اس کشتی کا ملاح کون ہے؟میرا گم شدہ سوٹ کیس ایک گھنٹے کی کاوش کے بعد جب نظر آیا تو ایک لڑکا اس پر پائوں رکھے کھڑا تھا۔میں نے پوچھا یہ آپ کا سوٹ کیس ہے؟ ترشی سے جواب ملا، نہیں۔تو پھر میرے سوٹ کیس پر پیر رکھے کیوں کھڑے ہو؟ اس نے انتہائی غصے سے مجھے دیکھا اور کہا ’’میرا پائوں ہے میں جہاں مرضی رکھ کے کھڑا ہوں‘‘۔ اور اب مجھ میں اسکے احساسِ ملکیت کو چیلنج کرنے کا دم نہیں تھا۔